واشنگٹن:امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹکام)نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ شروع کر دیا ہے اور فوجی انٹیلی جنس افسران اور دفاعی تجزیہ کاروں سے غیر روایتی، تخلیقی اور نئے آپشنز پیش کرنے کی درخواست کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سینٹکام کے ایک سینئر افسر کی جانب سے متعدد فوجی تجزیہ کاروں کو بھیجی گئی ای میل میں کہا گیا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے اور اسے مؤثر انداز میں سزا دینے کے لیے نئے اور غیر معمولی خیالات درکار ہیں۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ گزشتہ ہفتے ایک اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار نے بھی اسی نوعیت کا پیغام جاری کیا تھا، جس میں ایران سے نمٹنے کے لیے دستیاب تمام آپشنز کے جامع جائزے کے تحت نئی تجاویز طلب کی گئی تھیں۔
سی این این کے مطابق امریکی فوج کے اندر ای میل کے ذریعے اس نوعیت کی برین اسٹارمنگ غیر معمولی تصور کی جا رہی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ فوجی قیادت روایتی حکمتِ عملیوں کے نتائج سے مطمئن نہیں اور متبادل راستوں کی تلاش میں ہے۔
سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ جدید انداز میں سوچنے اور کام کرنے کی طویل روایت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر تمام اہلکاروں کو، خواہ ان کا عہدہ کچھ بھی ہو، ایسے خیالات پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنا سکیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی مہم کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں، جن میں ایران کی باقی ماندہ ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہے، حالانکہ وہ پہلے دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان تنصیبات کو گزشتہ حملوں میں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔
سی این این کے مطابق امریکی فوج ایسے ممکنہ آپریشنز کی تیاری کر رہی ہے جن میں”جبل الفأس”سمیت ان مقامات کو نشانہ بنانا شامل ہے جہاں ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق مواد یا سازوسامان موجود ہونے کا شبہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زمین کی گہرائی میں واقع ان تنصیبات کو تباہ کرنا انتہائی مشکل ہے اور امریکی فوج کے طاقتور ترین روایتی ہتھیار بھی اس مقصد کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ ایسی صورت میں مکمل تباہی کے لیے زمینی کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے، تاہم اس آپشن میں غیر معمولی خطرات موجود ہیں اور صدر ٹرمپ اس پر فیصلہ کرنے میں تاحال محتاط ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک اور ممکنہ حکمتِ عملی محدود نوعیت کے علامتی حملوں کی ہے، جن کے ذریعے پہلے سے نشانہ بنائے گئے یا اسی نوعیت کے دیگر اہداف پر حملے کر کے سیاسی سطح پر کامیابی کا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے، تاکہ جنگ کے خاتمے کا اعلان ممکن ہو سکے، چاہے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مقصد حاصل نہ ہو۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے بحران کی بنیادی وجوہات کو ختم نہیں کریں گے، کیونکہ مسئلے کا اہم پہلو آبنائے ہرمز اور ایران کے مطالبات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن فوجی دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی حل کی راہیں بھی تلاش کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ اداروں سی آئی اے اور ڈی آئی اے نے بھی اس نتیجے پر اتفاق کیا ہے کہ صرف فضائی بمباری ایران کو مذاکراتی مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بھی اعتراف کیا ہے کہ فضائی طاقت سے تمام مطلوبہ اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
سی این این کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران صدر ٹرمپ کے سامنے ایران کے خلاف مختلف فوجی منظرنامے پیش کیے گئے، جن میں ایک یا دو ہفتوں پر مشتمل شدید فضائی بمباری کی مہم بھی شامل ہے، جس کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اب تک اس منصوبے کی منظوری نہیں دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل ڈین کین نے امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی سے بھی آگاہ کیا، جبکہ دیگر حکام نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے، جیسے پلوں اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس، کو نشانہ بنایا گیا تو بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
سی این این کے مطابق ایک اور آپشن ایران کے اندر امریکی زمینی افواج بھیجنے کا ہے، جس کا ذکر صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر اسٹریٹجک جزیرے خرج پر قبضے یا ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو اپنے کنٹرول میں لینے کے تناظر میں کر چکے ہیں۔
دوسری جانب موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا آپشن بھی زیر غور ہے، جس کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان محدود حملوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، تاہم اس سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہنے اور امریکی جانی نقصان میں اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر عندیہ دیا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے والے ہیں، تاہم انہوں نے ان مذاکرات کے مقام یا شرکاء کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
رائٹرز کے مطابق واشنگٹن تاحال ان اہداف کو حاصل نہیں کر سکا جو ایران کے خلاف مہم کے آغاز پر طے کیے گئے تھے، جن میں ایران کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ، اس کی علاقائی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور اندرونی سیاسی تبدیلی کے لیے حالات پیدا کرنا شامل تھا۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز بدستور اس بحران کا سب سے حساس مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ جون میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت ایران کو اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کو کھلا رکھنے کا پابند بناتی ہے۔
