“امریکہ میں آکر بسنے والے پاکستانیوں کی پہلی کھیپ کی منزل نیویارک کا بروکلین بورو تھا۔ یہاں یہودی آبادی ہمارا پڑوس تھی۔ ان دنوں ذبیحہ حلال کی دکانیں کہیں نہیں تھیں، لیکن کوشر سمیت کئی اور قدرِ مشترک بھی تھیں۔ ہمارے علاقے کے ایک کونے پر سینیگاگ تھا اور دوسرے کونے پر مسجد۔ ہمارے درمیان کوئی لڑائی نہیں تھی بلکہ بات چیت تھی، اور اب بھی ہے۔”

یہ باتیں ربی مارک میئر ایپل نے حال ہی میں قائم کیے گئے ملٹی میڈیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم “این وائی اردو ڈاٹ کام” کے اجرا کی خوشی میں دیے گئے ایک ظہرانے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
انہوں نے کہا: “میں اپنی عبادت گاہ، سینیگاگ، میں اتنا زیادہ نہیں گیا جتنا مساجد میں گیا ہوں۔”
یہ اجتماع نیویارک کی جنوبی ایشیائی آبادی اور کاروباری مرکز جیکسن ہائٹس کے مشہور ریستوران “ڈیرا” میں نیویارک اردو، یعنیNYUrdu.com، کی میزبانی میں منعقد ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب اور کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے سماجی، شہری اور سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، معروف یوٹیوبرز، بااثر شخصیات اور انفلوئنسرز، نیز چیف ایڈیٹر اور نیویارک اردو کے دوستوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر نیویارک میں اسلامی دنیا کے معروف اسکالر اور بین المذاہب اتحاد کے داعی امام شیخ موسیٰ درمے نے دعا کے بعد اپنے مختصر خطاب میں کہا:
“ہمیں جو صلحِ کل اور اتحاد کا علم ملا ہے، وہ ہمیں اپنی نسلوں تک پہنچانے کا اذن بھی دیا گیا ہے۔ اخبار اور قلم ہمارے پیغامِ محبت، علم اور سچ کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا ایک بہترین وسیلہ ہیں۔”
انہوں نے “این وائی اردو” کی ٹیم اور چیف ایڈیٹر کو مبارک باد دی اور ان کی قلمی طاقت میں مزید اضافہ اور اثر پذیری کے لیے دعا کی۔
اخبار کے چیف ایڈیٹر حسن مجتبیٰ نے کہا کہ “این وائی اردو” کے مقاصد اور اغراض اس کے پہلے اداریے میں بیان کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا: “میں صرف پیغام رساں ہوں اور پیغام محبت کا ہے، اینٹی سیمیٹزم کے خلاف ہے۔ اینٹی سیمیٹزم صرف یہودیوں کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف بھی نفرت کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں اقوامِ ابراہیمی کے مابین ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوششیں بھی کرنی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد صرف تقریریں کرنا نہیں بلکہ مل بیٹھنا، ایک ساتھ کھانے میں شراکت اور بات چیت کرنا ہے۔
“آپ اختلاف کر سکتے ہیں اور اختلاف رکھتے ہیں۔ آپ کے اختلاف کو بھی ہمارے اس نئے پلیٹ فارم پر نمایاں جگہ دی جائے گی۔ یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔”
تقریب میں کنیکٹیکٹ سے منتخب ڈیموکریٹک پارٹی کی سٹی کونسل رکن شاہدہ سومرو نے اپنے خطاب میں “این وائی اردو” کے اجرا پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا:
“یہ ایک بڑی کامیابی اور ایک اچھے مقصد کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ اخبار کا اجرا صرف خبر دینے کا وسیلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے بے آواز اور مظلوم لوگوں کی پکار بھی بننا چاہیے۔”
قانون دان بشرا احمد نے کہا کہ یہ مقصد اور مشن صرف اردو تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ جنوبی ایشیا اور وسطی و مشرقی ایشیا کی دیگر زبانوں تک بھی پہنچنا چاہیے، جس کے لیے “این وائی اردو ڈاٹ کام” ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تقریب میں نہ صرف نیویارک بلکہ پنسلوانیا اور کنیکٹیکٹ کی ریاستوں کے دور دراز علاقوں سے بھی شرکا نے شرکت کی اور باہمی تبادلۂ خیال کیا۔
تقریب میں امام ابو موسیٰ درمے، ربی مارک میئر ایپل، شاہدہ سومرو، فرحان سومرو، بشرا احمد، احمد مبارک، ڈاکٹر نیل کنٹھ، ڈاکٹر ایوب شیخ، معاذ صدیقی، ساجد سموں، شوکت زرداری، علی خاصخیلی، رمضان چانڈیو، غلام نبی چھچھّر اور عبدالحمید چانڈیو نے شرکت کی اور “این وائی اردو” یعنیNYUrdu.comاور اس کے چیف ایڈیٹر حسن مجتبیٰ کے لیے مبارک باد اور نیک جذبات کا اظہار کیا۔
“این وائی اردو ڈاٹ کام” کے ملٹی میڈیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا باقاعدہ اجرا ہو چکا ہے۔ اس کے ایڈیٹر ایوارڈ یافتہ کثیرالسانی صحافی، لکھاری، شاعر اور انسانی حقوق کے علم بردار حسن مجتبیٰ ہیں۔




