واشنگٹن،8اگست2026:امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ دونوں فریق ’’کھیل کے درمیان‘‘ میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود واشنگٹن ایران پر سفارتی، معاشی اور فوجی دباؤ برقرار رکھے گا۔
فاکس نیوز کی میزبان کیلی میک اینانی کو پروگرام ’’Saturday in America‘‘ میں انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع، مذاکرات اور تہران کی فوجی و جوہری صلاحیتوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔
وینس نے کہا کہ وہ لوگوں کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ یہ معاملہ ابھی اپنے اختتام تک نہیں پہنچا۔ ان کے بقول یہ تنازع نہ تو ابتدائی مرحلے میں ہے اور نہ ہی ختم ہوا ہے، بلکہ امریکہ اس وقت ’’کھیل کے درمیان‘‘ میں ہے اور امریکی عوام کے لیے بہترین نتیجہ حاصل کرنے کے لیے سفارتی، اقتصادی اور فوجی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی صلاحیتوں کے بارے میں امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا ہے، اس کی روایتی فوجی صلاحیتوں کو بھی تباہ کیا ہے اور اس کی غیر روایتی یا غیر متناسب جنگی صلاحیتوں کو بھی بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے۔
وینس نے ایران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ واشنگٹن یہ دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ آیا تہران طویل المدت ایسی تبدیلیاں کرنے پر آمادہ ہے جو امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کی بنیاد بن سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران ایسی تبدیلیوں کے لیے تیار نہیں ہوتا تو امریکہ اپنے دستیاب دباؤ کے ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی ایک اہم ترجیح مشرق وسطیٰ سے زیادہ سے زیادہ تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہے تاکہ امریکی عوام کو کم ایندھن اور توانائی کی قیمتوں کا فائدہ مل سکے۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر وینس نے بتایا کہ ایران اور عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حالیہ دنوں کے دوران کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی ترجیح آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی زیادہ سے زیادہ ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے تقریباً80ڈالر فی بیرل کے قریب تیل کی قیمتوں کو ایک مثبت اشارہ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ توانائی کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے خطے سے توانائی کی رسد بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ٹول عائد کرنے یا بحری آمدورفت پر مزید کنٹرول حاصل کرنے سے متعلق رپورٹس پر وینس نے کہا کہ تہران نے امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ اس کا ایسا کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
تاہم امریکی نائب صدر نے اس یقین دہانی پر مکمل انحصار سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اصول ہے کہ صرف دعووں پر اعتماد نہیں کیا جاتا بلکہ ان کی تصدیق بھی کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن لوگوں کے الفاظ کے بجائے ان کے عملی اقدامات کو دیکھتا ہے۔
جے ڈی وینس کے یہ بیانات امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع کے دوران سامنے آئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
وینس کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے معاملے میں بیک وقت دو راستوں پر عمل پیرا ہے:ایک جانب فوجی اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھنا اور دوسری جانب سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کو کم کرنے اور کسی طویل المدت انتظام تک پہنچنے کی کوشش کرنا۔

