لندن:برطانیہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کو دی جانے والی حالیہ دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ حوثیوں کے اشتعال انگیز اقدامات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں، بحیرہ احمر میں آزادانہ جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور یمن میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ترجمان نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کشیدگی بڑھانے والی کارروائیاں بند کریں اور علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے سے باز رہیں۔
دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے بھی حوثی ملیشیا کے نام نہاد فوجی ترجمان کی جانب سے سعودی عرب پر یمنی عوام کا محاصرہ کرنے اور سمندری جہاز رانی محدود کرنے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے گزشتہ برسوں کے دوران یمن کی قانونی حکومت کے ساتھ مل کر یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے، جن میں ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل، یمنی حکومت کے بجٹ کی معاونت اور بجلی گھروں کے لیے ایندھن کی فراہمی شامل ہے۔
بیان کے مطابق2026کے پہلے چھ ماہ کے دوران شمالی یمن کی بندرگاہوں الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ پر300سے زائد بحری جہاز پہنچے، جن کے ذریعے خوراک، ایندھن، تعمیراتی سامان اور دیگر ضروری اشیا یمن منتقل کی گئیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت سلامتی کونسل کی قرارداد2216پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے تاکہ حوثیوں تک ہتھیاروں اور گولہ بارود کی غیر قانونی ترسیل کو روکا جا سکے۔
بیان میں حوثی ملیشیا کی سابقہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ30دسمبر2020کو عدن ایئرپورٹ پر حملہ،21اکتوبر2022کو جنوبی یمن کی تیل برآمد کرنے والی بندرگاہوں پر حملے اور بعد ازاں تیل کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا یمنی معیشت کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش تھی۔
وزارت کے مطابق یمن کی سرکاری آمدنی کا تقریباً60فیصد حصہ تیل سے حاصل ہوتا ہے اور ان حملوں کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی متاثر ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حوثیوں نے یمن ایئرلائن کے چار طیارے بھی صنعاء ایئرپورٹ پر ضبط کیے، جو جدہ سے یمنی حجاج کو واپس لے کر آئے تھے، جبکہ بعد میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر عالمی تجارت، جہاز رانی اور یمنی عوام کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچایا۔
سعودی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا کہ حوثی ملیشیا صنعاء ایئرپورٹ سے پروازوں کی بحالی کے لیے پیش کی جانے والی متعدد تجاویز، بشمول حالیہ اردنی اقدام، کو بھی مسترد کر چکی ہے۔
وزارت نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی شہریوں کے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہے اور اندرونی معاشی بحران اور عوامی مخالفت سے توجہ ہٹانے کے لیے سعودی عرب کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کر رہی ہے۔
سعودی عرب نے اپنے بیان میں ایک بار پھر یمن میں امن کے قیام، اقوام متحدہ کی امن کوششوں اور یمنی حکومت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد2216اور بحیرہ احمر میں آزاد جہاز رانی سے متعلق قرارداد2722پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے۔
وزارت نے واضح کیا کہ سعودی عرب بین الاقوامی قانون اور1982کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے مطابق اپنے بحری جہازوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

