ریاض:ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کی جانب میزائل حملوں کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ سعودی عرب نے ان حملوں کو اپنی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے خلاف اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے دفاعی اقدامات جاری رکھنے اور سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی حدود کی جانب میزائل داغے، جن میں ابھا کے علاقے کے قریب اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ حوثیوں نے ان حملوں کو صنعاء ایئرپورٹ سے متعلق پیش رفت کا ردعمل قرار دیا، تاہم یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا کہنا ہے کہ صنعاء ایئرپورٹ پر کیے گئے اقدامات کا مقصد غیر مجاز ایرانی طیاروں کی آمد روکنا اور ممکنہ اسلحہ کی ترسیل کو ناکام بنانا تھا۔
مبصرین کے مطابق یمن میں جاری تنازع کئی برسوں سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان بالواسطہ رسہ کشی کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے، جہاں سعودی عرب یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرتا ہے جبکہ ایران پر حوثیوں کو میزائل، ڈرون، تربیت اور دیگر عسکری معاونت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد اپنی سرحدوں کا دفاع، یمن کی قانونی حکومت کی حمایت، بین الاقوامی بحری راستوں کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ ریاض نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ یمن بحران کا پائیدار حل صرف سیاسی مذاکرات، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور تمام فریقوں کے درمیان جامع امن عمل سے ہی ممکن ہے۔
سعودی قیادت نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ مملکت اپنے دفاعی نظام کو مضبوط رکھتے ہوئے کشیدگی میں اضافے سے گریز اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دیتی رہے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نوعیت کی کارروائیاں صرف عسکری اہداف تک محدود رکھی جاتی ہیں اور شہری آبادی کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب پر کسی بھی حملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت نہ صرف یمن میں کئی برس سے جاری نسبتاً پرسکون صورتحال کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ بحیرہ احمر اور خلیجی خطے میں سلامتی کے خدشات بھی بڑھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر تمام فریق تحمل کا مظاہرہ نہ کریں تو کشیدگی مزید وسیع علاقائی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی برادری نے بھی تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جاری امن کوششوں کو آگے بڑھائیں تاکہ یمن میں مزید انسانی بحران سے بچا جا سکے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

