واشنگٹن:وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ڈیموکریٹک پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ’’ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ‘‘ کے بجائے ’’ڈسٹرکٹیو سوشلسٹس آف امریکہ‘‘ یعنی ’’تباہ کن سوشلسٹس آف امریکہ‘‘ کہا جانا چاہیے۔
کیرولین لیویٹ نے پیر کی شب فاکس نیوز کے پروگرام ’’ہینٹی‘‘ میں میزبان شان ہینٹی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی انتہائی بائیں بازو کی پالیسیوں کی جانب بڑھ چکی ہے، جن میں بڑے پیمانے پر ٹیکسوں میں اضافہ، پولیس کے اختیارات یا پولیس اداروں کا خاتمہ، نجی جیلوں کا خاتمہ اور غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے مجرموں کے لیے سرحدیں دوبارہ کھولنا شامل ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں امریکہ کو ایک ’’کمیونسٹ جہنم‘‘ میں تبدیل کر سکتی ہیں۔
لیویٹ نے کہا کہ موجودہ ڈیموکریٹک پارٹی اب جان ایف کینیڈی یا حتیٰ کہ سابق صدر باراک اوباما کے دور کی ڈیموکریٹک پارٹی جیسی نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بائیں بازو کے بنیاد پرست لبرلز، سوشلسٹ اور کمیونسٹ ہیں، انہیں آپ جو بھی نام دینا چاہیں دیں، اصل مسئلہ ان کی انتہائی پالیسیوں کا ہے۔
لیویٹ کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی ایسے انتہائی بائیں بازو کے عناصر کے زیرِ اثر آ چکی ہے جو بھاری ٹیکسوں میں اضافے، پولیس کے خاتمے، نجی جیلوں کے خاتمے اور جنوبی سرحد سمیت ملک کی سرحدیں دوبارہ کھولنے کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ریپبلکنز اور ’’عام فہم‘‘ پالیسیوں کی بدولت امریکہ زیادہ محفوظ اور قابلِ برداشت ملک بن چکا ہے۔
لیویٹ نے خبردار کیا کہ اگر انتہائی بائیں بازو کے لبرلز کو واشنگٹن میں اقتدار حاصل ہوا تو وہ صدر ٹرمپ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنی انتہائی بائیں بازو کی پالیسیوں کے ذریعے ملک کو ’’کمیونسٹ جہنم‘‘ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ پر تنقید
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے خاص طور پر ’’ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ‘‘ یعنیDSAکے نام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس ’’خوبصورت اور دلکش نعروں‘‘ کے پیچھے چھپتے ہیں، جیسے ’’ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ‘‘، جبکہ ان کے خیال میں زیادہ درست نام ’’ڈسٹرکٹیو سوشلسٹس آف امریکہ‘‘ ہونا چاہیے۔
لیویٹ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جبDSAسے وابستہ امیدواروں کی جانب سے مختلف انتخابی مقابلوں میں پرائمری کامیابیوں کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں جانب جھکاؤ پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔
معاشی صورتحال بھی سیاسی بحث کا حصہ
یہ سیاسی بیان ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب3نومبر2026کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں تقریباً84سے85دن باقی ہیں۔ ان انتخابات میں کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے سیاسی کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔
پروگرام کے میزبان شان ہینٹی نے وسط مدتی انتخابات کو پروگرام کا اہم موضوع بناتے ہوئے ناظرین پر زور دیا کہ وہ ووٹ دیں تاکہ ان کے مطابق سوشلزم اور کمیونزم کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکا جا سکے۔
