ٹرمپ:امریکا ایران کے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر بہت جلد حملہ کر سکتا ہے
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین انتہائی محفوظ ایرانی تنصیب پر کارروائی کے امکانات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
"`
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ امریکا ایران کی انتہائی محفوظ زیرِ زمین تنصیب ’’پک ایکس ماؤنٹین‘‘ کو مستقبل قریب میں نشانہ بنا سکتا ہے۔
4 اور5ستمبر2026کے دوران اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ’’بہت جلد‘‘ اس مقام پر حملہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی حکام وہاں ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ’’پک ایکس‘‘ میں کچھ ہو رہا ہوا تو امریکا اسے بہت جلد نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس، بشمول خلا سے نگرانی کرنے والے ذرائع، اس مقام اور ایران بھر میں ہونے والی نقل و حرکت کو مسلسل مانیٹر کر رہی ہے۔
’’ہمیں معلوم ہے کہ پک ایکس پر کون نقل و حرکت کر رہا ہے، ہمیں معلوم ہے کہ پورے ایران میں کون کہاں جا رہا ہے۔ اگر کچھ غلط ہوا تو ہم انہیں نشانہ بنائیں گے، اور سختی سے نشانہ بنائیں گے۔‘‘
ٹرمپ کے یہ تازہ بیانات جولائی2026میں دی جانے والی ان کی متعدد دھمکیوں کا تسلسل ہیں، جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کر چکا تھا۔
جولائی میں بھی حملے کی دھمکی
جولائی میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ’’پک ایکس ماؤنٹین کو ختم کر دے گا‘‘ اور ایرانیوں کو ’’تیار رہنے‘‘ کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس علاقے کو ’’بہت جلد اور بہت بھاری‘‘ انداز میں نشانہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے اس مقام کو کبھی ’’دروازے کے عین سامنے ایک بڑا اور بھرپور حملہ‘‘ کرنے کے لیے ممکنہ ہدف قرار دیا، تاہم بعض مواقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہاں سرگرمی محدود دکھائی دے رہی ہے۔
پک ایکس ماؤنٹین کیوں اہم ہے؟
’’پک ایکس ماؤنٹین‘‘ جسے فارسی میں کوهِ کلنگ گز لا یا کوهِ کلنگ بھی کہا جاتا ہے، وسطی ایران کے صوبہ اصفہان میں زاگرس کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔
یہ مقام نتنز کے یورینیم افزودگی کمپلیکس سے تقریباً ایک سے دو کلومیٹر جنوب میں جبکہ تہران سے تقریباً220کلومیٹر جنوب میں واقع بتایا جاتا ہے۔ پہاڑ کی بلندی سطحِ سمندر سے تقریباً1,600میٹر ہے۔
ایران نے تقریباً2020میں یہاں ایک گہرے زیرِ زمین سرنگوں کے کمپلیکس کی کھدائی شروع کی۔ اس سے قبل نتنز میں جدید سینٹری فیوجز کی اسمبلی کی ایک زمینی تنصیب کو نقصان پہنچا تھا، جسے بڑے پیمانے پر تخریب کاری سے منسوب کیا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق اس مقام کا مقصد جدید سینٹری فیوجز کی تیاری اور اسمبلی ہے۔ تاہم مغربی تجزیہ کاروں اور انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی(ISIS)کے مطابق یہاں سینٹری فیوجز کے ذریعے افزودگی یا حساس مواد کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔
پک ایکس کی اسٹریٹجک اہمیت کی بڑی وجوہات
انتہائی گہرائی اور مضبوط تحفظ
زیرِ زمین مرکزی ہالز کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ سخت گرینائٹ یا اسی نوعیت کی سخت آتش فشانی چٹانوں کے نیچے کم از کم80سے100میٹر یا اس سے بھی زیادہ گہرائی میں ہیں۔ کئی جائزوں کے مطابق یہ فورڈو جیسے مقامات سے بھی زیادہ گہرا اور محفوظ ہے۔
اہم جوہری تنصیب
جون2025اور2026میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران نتنز سمیت کئی ایرانی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، لیکن پک ایکس کو بڑی حد تک محفوظ رہنے والی اہم جوہری تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔
جوہری صلاحیت کی بحالی کا امکان
بعض رپورٹس میں، جن میں وال اسٹریٹ جرنل میں اسرائیلی انٹیلی جنس کے حوالے سے شائع ہونے والی اطلاعات بھی شامل ہیں، دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے سینٹری فیوجز یا انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے کچھ حصے اس مقام پر منتقل کیے ہو سکتے ہیں۔
معائنہ اور تصدیق کا مسئلہ
بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اس مقام تک مکمل رسائی حاصل نہیں رہی۔ ایران نے بعض بیانات میں یہاں جوہری سرگرمی کی تردید کی ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق2026کے وسط تک یہ تنصیب مکمل طور پر فعال نہیں ہوئی تھی۔
کیا امریکی بم اس تنصیب کو تباہ کر سکتا ہے؟
ماہرین اس سوال پر اختلاف رکھتے ہیں کہ آیا امریکا کا GBU-57 Massive Ordnance Penetrator، جو امریکا کا سب سے بڑا روایتی بنکر شکن بم سمجھا جاتا ہے، زیرِ زمین موجود مرکزی حصوں کو قابلِ اعتماد طریقے سے تباہ کر سکتا ہے یا نہیں۔
اسی وجہ سے کسی ممکنہ حملے میں سرنگوں کے داخلی راستوں، وینٹی لیشن نظام، بجلی کی فراہمی یا دیگر رسائی کے مقامات کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کیے جانے کا امکان زیرِ بحث آتا ہے۔
پک ایکس کی غیر معمولی گہرائی، سخت ارضیاتی ساخت اور ممکنہ جوہری کردار اسے ایران کے باقی ماندہ حساس جوہری بنیادی ڈھانچے میں ایک اہم مقام بناتے ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر اور جاری تعمیرات
فراہم کردہ معلومات کے مطابق2026کے وسط تک کی سیٹلائٹ تصاویر میں اس مقام پر گاڑیوں کی آمدورفت، داخلی راستوں اور سڑکوں پر کام، جبکہ بعض حصوں میں حفاظتی اقدامات یا سرنگوں کو جزوی طور پر بھرنے کے آثار دیکھے گئے۔
اس سے یہ خدشہ برقرار ہے کہ یہ مقام مستقبل میں ایران کی جوہری صلاحیت کی بحالی کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، اگرچہ تجزیہ کاروں کے مطابق2026کے وسط تک یہ مکمل طور پر فعال نہیں تھا۔
ممکنہ حملہ، بڑی علاقائی کشیدگی
پک ایکس ماؤنٹین کی گہرائی، ارضیاتی ساخت، نامکمل عملی حیثیت اور ممکنہ طور پر ایران کے حساس جوہری پروگرام کے اہم عناصر کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نے اسے تہران کے باقی ماندہ جوہری بنیادی ڈھانچے پر ہونے والی بحث میں مرکزی مقام دے دیا ہے۔
کسی بھی حملے کی صورت میں یہ ایک اہم عسکریescalationہوگا، کیونکہ اس تنصیب کو نشانہ بنانا تکنیکی اعتبار سے مشکل ہے اور اس کے علاقائی اثرات بھی وسیع ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایسی دھمکیوں کو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے یا اپنی جوہری صلاحیت دوبارہ قائم کرنے سے روکنے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔
اہم نکات ایک نظر میں
- ٹرمپ نے پک ایکس ماؤنٹین پر ’’بہت جلد‘‘ حملے کا امکان ظاہر کیا۔
- یہ مقام نتنز جوہری کمپلیکس کے قریب واقع ہے۔
- زیرِ زمین تنصیبات انتہائی گہرائی میں بنائی گئی ہیں۔
- ماہرین کے مطابق انہیں فضائی حملے سے مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
- ایران کے جوہری پروگرام کی ممکنہ بحالی کے حوالے سے یہ مقام اہم سمجھا جاتا ہے۔
- کسی ممکنہ حملے سے ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

