امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل دسویں رات بھی فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن میں فوجی کمانڈ مراکز، بحری اہداف، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس سمیت فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمان(سینٹکام)نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں میں استعمال ہو رہی ہیں۔ بیان کے مطابق کارروائیوں میں ایرانی بحری تنصیبات، فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون لانچنگ مقامات اور فضائی دفاعی نظام کو ہدف بنایا گیا تاکہ ایران کی تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت محدود کی جا سکے۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ امریکی افواج مکمل الرٹ ہیں اور آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے والے شہری بحری جہازوں کے خلاف ایران کی کسی بھی بلااشتعال کارروائی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے قریب فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا، جبکہ بندر عباس میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ میڈیا رپورٹس میں چابہار، کنارک اور وسطی ایران کے شہر اصفہان میں بھی دھماکوں کی اطلاعات دی گئیں، تاہم سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اصفہان کے گورنر نے شہر میں کسی دھماکے کی تردید کی ہے۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ”ہمہ گیر جنگ”کی صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بوشہر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جہاں ایران کا واحد جوہری بجلی گھر واقع ہے۔
مقامی حکام کے مطابق7جولائی کو دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد امریکی فضائی حملے، جو ابتدا میں جنوبی ایران تک محدود تھے، اب ملک کے وسطی اور شمال مغربی علاقوں تک بھی پھیل چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث17جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت بھی غیر مؤثر ہو چکی ہے، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر تنازعات پر مذاکرات شروع ہونا تھے تاکہ جاری جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

