اسلام آباد:گزشتہ چند ماہ میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں، جہاں روایتی سیکیورٹی تعاون کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی استحکام اور سفارتی روابط بھی دوطرفہ شراکت داری کے اہم ستون بنتے جا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے درمیان حالیہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کا اظہار ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور عالمی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنوبی ایشیا کو سیکیورٹی چیلنجز، جغرافیائی سیاسی مسابقت اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ اسلام آباد اور واشنگٹن مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت حالیہ امریکا۔پاکستان انسداد دہشت گردی مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے، جو واشنگٹن میں منعقد ہوئے تھے۔ مذاکرات میں دونوں ممالک نے داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)اور بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے)سمیت خطے میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، سرحدی سلامتی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اب صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں رہے۔
دونوں ممالک ایک باہمی تجارتی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے بھی مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے درمیان حالیہ ملاقاتوں میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے امریکی منڈی تک بہتر رسائی، برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری اقتصادی بحالی کے اہم ذرائع بن سکتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، نوجوان آبادی اور بڑھتی ہوئی صارف مارکیٹ کی وجہ سے ایک پرکشش تجارتی منزل بن سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن بھی انفراسٹرکچر، توانائی، ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کی ترقی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ادھر پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے جانے والے رابطوں، نے بھی عالمی سطح پر اسلام آباد کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی پاکستان کی صلاحیت اسے علاقائی تنازعات میں ایک مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں امریکی حکام کی جانب سے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا جانا بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ تاریخی بداعتمادی، مختلف علاقائی ترجیحات اور جغرافیائی سیاسی عوامل اب بھی دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہوتے رہیں گے، تاہم حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن اختلافات کے باوجود باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی تعاون، اقتصادی شراکت داری اور سفارتی روابط پر مبنی یہ نیا فریم ورک پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو زیادہ متوازن، عملی اور طویل المدتی بنیادوں پر استوار کر سکتا ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

