
کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں نومبر2025سے بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے، محکمہ صحت سندھ کے مطابق اب تک94بچوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کی تشخیص ہوچکی ہے اور تعداد میں مزید اضافے کا بھی امکان ہے۔ سندھ کی کئی سرکاری اور نجی اسپتالیں اور بنیادی مراکز ناقص انتظامات کے باعث ایچ آئی وی/ایڈز کی خطرناک جان لیوا بیماریوں کی آماجگاہ بن رہی ہیں لیکن حکومت سرسری طور پر افسران کے تبادلوں اور جاچ کمیٹیوں سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ نتیجتاً اس جان لیوا مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا۔
عام طور پر ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی وجہ بننے والے عوامل میں انفیکشن پر کنٹرول نہ ہونا، سرنجوں کے غیرمحفوظ استعمال، بلڈ اسکریننگ میں کوتاہیاں، نجی کلینکس کی نگرانی کا فقدان اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار شامل ہیں۔
محکمہ صحت کی رپورٹس کا جائزہ لیا جائے تو ایک دہائی کے دوران سندھ میں ایچ آئی وی، ایڈز کے چار بڑے آؤٹ بریکس سامنے آئے ہیں۔ میڈیکل مائیکرو بایولوجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزز سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں سال2010کے بعد ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں4.3گنا اضافہ ہوچکا ہے اور اس سے ہونے والی سالانہ اموات بھی بڑھ گئیں ہیں، اس رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ایچ آئی وی کے صرف21فیصد متاثرہ افراد کی تشخیص ہو رہی ہے اور محض16فیصد مریض علاج تک پہنچ پارہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بڑوں کی بروقت ایچ آئی وی اسکریننگ نہ ہونے سے یہ وائرس بچوں میں منتقل ہورہا ہے۔
پاکستان کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایچ آئی وی کے62ہزار مریض زیر علاج ہیں جن میں بچوں کا تناسب تقریباً12فیصد اور یہ تعدد ساڑھے7ہزار کے قریب ہے۔ صوبہ سندھ اس وائرس کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جہاں متاثرہ بچوں کی تعداد4ہزار200ہوگئی ہے۔ مرض کی تشخیص کے عمل کو وسیع کیا جائے تو یہ تعداد اس سے کئی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
حالیہ ایک دہائی میں ایچ آئی وی آؤٹ بریک کا پہلا واقعہ2016میں سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں پیش آیا جہاں ڈائیلیسس کے مریضوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کے کیسز سامنے آئے، اُس وقت سندھ میں خون کے عطیات اور بلڈ بینکوں کے نگران ادارے ’سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی‘ اور دیگر متعلقہ نظام پر سنگین سوالات اٹھائے گئے اور صوبے کے بعض بلڈ بینکس کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تاہم مستقل اصلاحات نہ ہونے کے باعث یہ سلسلہ تھم نہ سکا۔ بعدازاں2019میں ضلع لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کا ہولناک آؤٹ بریک سامنے آیا، رتودیرو کے مقامی ڈاکٹر عمران عربانی اس سنگین صورتحال کو سامنے لائے جہاں ایک ہزار سے زائد افراد(جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی)ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا پائے گئے، اس خطرناک صورتحال کو عالمی ادارہ صحت(WHO)سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں نے غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے حکومتی تحقیقات پر سنگین سوالات اٹھائے۔
بدترین انتظامی کوتاہیوں اور غفلت ظاہر ہونے کے باوجود سندھ کی اسپتالوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور رواں سال مئی میں سندھ کے ایک اور بڑے اسپتال گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(گمس)میں15سے زائد ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو لائے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ ماہرین صحت کے مطابق ایچ آئی وی/ایڈز کے ان تمام بڑے آؤٹ بریکس میں ایک مشترکہ عنصر یہ پایا گیا ہے کہ اسپتالوں میں غیرمحفوظ طریقہ کار، استعمال شدہ سرنجوں کا بار بار استعمال، انفیکشن پر کنٹرول نہ پانا اور دیگر عوامل اسکی بڑی وجہ میں شامل ہیں، اگر ایک سانحے کے بعد صوبائی سطح پر مؤثر اصلاحات کی جاتیں تو بڑی حد تک ان واقعات کو روکا جاسکتا تھا۔
بنیادی اصلاحات اور مضبوط نگرانی کا نظام قائم نہ ہونے سے ایچ آئی وی کا پھیلاؤ مسلسل ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کررہا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو سندھ دھرتی کے ان معماروں کو سنگین بیماریوں سے بچانے کے لیے بروقت علاج اور آگاہی مہم کو یقینی بنانا ہوگا۔

