
قصور کے علاقے پتوکی سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ صدیق مسیح ایک محنت کش مزدور تھا۔ وہ اینٹوں کے بھٹے پر روزانہ اجرت پر کام کرتے تھے اور اپنے چار بچوں کی کفالت کے لیے دن رات محنت کرتے تھے۔ وہ صرف ایک مزدور نہیں تھے بلکہ ایک باپ، شوہر، بھائی اور اپنے خاندان کا واحد سہارا تھے۔
اطلاعات اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق22جون2026کو کام کے دوران ایک معمولی تلخ کلامی کے بعد صدیق مسیح نے مزدوروں کے لیے رکھے گئے واٹر کولر سے پانی پینا چاہا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی مسیحی شناخت پر اعتراض کیا گیا، جس کے بعد معاملہ شدت اختیار کر گیا اور اس پر چاقو سے حملہ کیا گیا، جو اس کی جان لے گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم اصل سوال صرف گرفتاری کا نہیں بلکہ انصاف کے مکمل عمل کا ہے۔
کسی بھی مقدمے کا اندراج انصاف کی ابتدا ضرور ہوتا ہے، لیکن انصاف صرف ایف آئی آر تک محدود نہیں رہتا۔ شفاف تفتیش، غیرجانبدار عدالتی کارروائی، قانون کے مطابق احتساب اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ہی حقیقی انصاف کی بنیاد ہیں۔
صدیق مسیح کی موت ایک انفرادی سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے اس تلخ رویے کی یاد دہانی ہے جہاں مذہبی تعصب اور سماجی امتیاز اب بھی کمزور طبقات کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ جب کسی انسان کی عزت، تحفظ اور بنیادی حقوق اس کے مذہب یا شناخت سے مشروط ہو جائیں تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہوتا ہے۔
نفرت کبھی اچانک جنم نہیں لیتی۔ یہ تعصب، امتیازی رویوں، نفرت انگیز الفاظ اور مسلسل سماجی تقسیم سے پروان چڑھتی ہے۔ جب ایک طبقے کو دوسروں سے کمتر سمجھنے کا رویہ معمول بن جائے تو پھر تشدد صرف وقت کی بات رہ جاتا ہے۔
بطور معلم، میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ نفرت انسان کی فطرت میں شامل نہیں ہوتی بلکہ اسے سکھایا جاتا ہے۔ بچے تعصب لے کر پیدا نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، مذہبی اجتماعات اور معاشرے سے رویے سیکھتے ہیں۔ اگر نفرت سیکھی جا سکتی ہے تو برداشت، احترام اور محبت بھی سکھائی جا سکتی ہے۔
اسی لیے تعلیم کو ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کا بنیادی ستون بنانا ہوگا جہاں مذہبی، نسلی اور سماجی تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھا جائے۔ صرف سانحات کے بعد مذمت کرنا کافی نہیں، بلکہ ایسی سوچ کی تشکیل ضروری ہے جو ایسے سانحات کو جنم لینے ہی نہ دے۔
یہ ذمہ داری صرف حکومت یا عدلیہ پر عائد نہیں ہوتی۔ سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، مذہبی رہنما، اساتذہ، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ہر شہری کو برابر کا انسان سمجھا جائے اور قانون سب کے لیے یکساں ہو۔
پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، توہینِ مذہب کے الزامات کے تناظر میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات، جبری تبدیلیٔ مذہب اور روزمرہ کی امتیازی صورتحال بارہا انسانی حقوق کے کارکنوں اور عالمی اداروں کی تشویش کا باعث بنتی رہی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایسے واقعات کیوں پیش آئے، بلکہ یہ ہے کہ مسلسل رونما ہونے والے ان سانحات کے باوجود ہم انہیں روکنے کے لیے مؤثر اور دیرپا اصلاحات کیوں نہیں کر سکے۔
ہر سانحے کے بعد افسوس، مذمت اور انصاف کے مطالبات ضرور سامنے آتے ہیں، مگر صرف افسوس کسی معاشرے کو تبدیل نہیں کرتا۔ مذمت کو اصلاح میں، وعدوں کو عملی اقدامات میں اور قانون کو مؤثر عمل درآمد میں بدلنا ہوگا۔
صدیق مسیح کی جان اس لیے کم قیمتی نہیں تھی کہ وہ غریب تھے، مزدور تھے یا مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتے تھے۔ انسانی وقار نہ دولت سے وابستہ ہے، نہ پیشے سے اور نہ اکثریت یا اقلیت سے۔ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
پانی کا ایک گلاس کبھی بھی نفرت اور تقسیم کی علامت نہیں بننا چاہیے۔ اسے زندگی، ہمدردی اور مشترکہ انسانیت کی علامت ہی رہنا چاہیے۔
کسی بھی قوم کی اصل عظمت اس کی ترقی کے نعروں سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور اور محروم شہریوں کو کس حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔ صدیق مسیح کے لیے انصاف صرف ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں بلکہ ایسے سماجی رویوں کا خاتمہ بھی ہے جو امتیاز اور نفرت کو جنم دیتے ہیں۔
حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب ہم تعصب کے بجائے وقار، نفرت کے بجائے ہمدردی اور تقسیم کے بجائے انسانیت کو اپنی اجتماعی شناخت بنائیں۔
مصنفہ کا تعارف
سیماب آصف متعدد اعزازات یافتہ ماہرِ تعلیم، انسانی حقوق کی کارکن، امن کی سفیر اور اے ایم ایم ڈبلیو ای سی(AMMWEC)کی ایگزیکٹو بورڈ رکن ہیں۔ وہ امریکہ میں اسپرنگ ایجوکیشن گروپ سے وابستہ ہیں، جہاں وہ جامع تعلیم کے فروغ، خواتین کے بااختیار بنانے اور محروم طبقات کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے کام کر رہی ہیں۔ تعلیم، انسانی حقوق کی وکالت اور عوامی آگاہی کے ذریعے وہ ایک ایسے معاشرے کے قیام کی کوشش کرتی ہیں جو وقار، مساوات اور بین الثقافتی ہم آہنگی پر استوار ہو۔
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

