• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » پتھروں میں تراشا خواب
ایشیا

پتھروں میں تراشا خواب

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 5, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

"`html

تاریخی و ادبی کالم

وہ گمنام درویش جس نے پتھروں میں ایک قوم کا خواب تراشا

ایک بے وطن معمار، ایک نوزائیدہ ملک اور مینارِ پاکستان کی خاموش داستان

تحریر
احمد نعیم خان

احمد نعیم خان

لاہور کی شام جب اقبالِ پارک پر اترتی ہے تو مینارِ پاکستان کا سایہ زمین پر یوں دراز ہوتا ہے جیسے تاریخ خود اپنی انگلی سے اُس لمحے کی طرف اشارہ کر رہی ہو جب ایک قوم نے پہلی بار اپنے خواب کو زبان دی تھی۔

ہر روز ہزاروں نگاہیں اِس کی بلندی کو تکتی ہیں، مگر شاید ہی کسی کے لبوں پر اُس معمار کا نام آتا ہو جس نے یہ خواب پتھر اور سنگِ مرمر میں ڈھالا — اور بدلے میں کچھ نہ مانگا۔ اُس کا نام نصر الدین مرات خان تھا۔

یہ صرف ایک معمار کی داستان نہیں، یہ جلاوطنی کے کرب سے گزر کر ایک نئی سرزمین کو دل و جان سے اپنا لینے کی وہ کہانی ہے جو تاریخ کے اوراق میں کہیں دبی رہ گئی۔

قفقاز کی خاک سے فرار تک

سن⁦1904⁩کا ایک برس تھا جب روسی سلطنت کے پہاڑی خطے داغستان کے قصبے بوئناکسک میں ایک کمیک مسلم گھرانے میں ایک بچہ آنکھ کھولتا ہے، بے خبر اِس بات سے کہ تقدیر اُسے کن راستوں سے گزار کر کہاں لے جائے گی۔ یہی بچہ آگے چل کر نصر الدین مرات خان کہلایا۔

سینٹ پیٹرزبرگ کے علمی حلقوں میں اُس نے فنِ تعمیر اور سول انجینئری کے رموز سیکھے،⁦1930⁩میں سند حاصل کی، اور پھر سوویت یونین کی سرزمین پر کئی عمارتوں کو اپنے نقشوں سے زندگی بخشی — یہاں تک کہ لینن کی یادگار جیسے منصوبوں میں بھی اُس کا ہاتھ رہا۔⁦1937⁩سے وہ سوویت معماروں کی انجمن کا رکن بھی ٹھہرا۔

مگر سٹالن کے سائے تلے، ترک و قفقازی نسل کا مسلمان ہونا کسی سولی پر چڑھنے سے کم نہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ مرات خان کے دل میں مسلم قفقاز کی آزادی کی چنگاری سلگتی تھی، اور یہی چنگاری اُس کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئی۔

جنگِ عظیم دوم کی ہولناکیوں اور سیاسی بے یقینی نے اُسے اپنی ہی مٹی سے بیگانہ کر دیا، اور وہ فرار کی راہ پر نکل کھڑا ہوا۔ منزلوں کی خاک چھانتا وہ آخرکار جرمنی جا پہنچا، جہاں مِٹن والڈ کے مہاجر کیمپ میں، جو اقوامِ متحدہ کی امدادی انتظامیہ کے زیرِ سایہ تھا، اُس نے پناہ لی اور بطور انجینئر خدمات انجام دینے لگا۔

اِسی بے وطنی کے دنوں میں، جہاں دلوں پر بھی وطن کی جدائی کا غبار جما ہوتا ہے، وہاں محبت نے اپنا راستہ خود تراش لیا۔ حمیدہ اکمت، جو آسٹریائی اور پاکستانی نسب کی ایک نازک اور باہمت لڑکی تھی اور جنگ سے پہلے ویانا میں طب کی طالبہ رہ چکی تھی، اُسی کیمپ میں مرات خان کی زندگی میں داخل ہوئی۔

دو اجڑے ہوئے دل، دو بے وطن روحیں، ایک دوسرے میں سکون تلاش کر بیٹھے اور⁦1940⁩کی دہائی کے وسط میں رشتۂ ازدواج میں بندھ گئے۔ جب کیمپ بند ہونے لگے تو یہ جوڑا کسی نئے آسمان تلے بسنے کی تلاش میں نکلا۔ حمیدہ کے رشتہ دار پاکستان میں تھے، سو⁦1950⁩میں یہ خاندان اُس نوزائیدہ مملکت کی طرف چل پڑا جسے ابھی دنیا نے بمشکل جانا تھا۔

نئی زمین، نیا عہد

پاکستان اُس وقت خود ایک نومولود کی مانند تھا، تین برس کا بھی پورا نہ ہوا تھا، اور اُسے ہاتھوں کی، ہنر کی، اور خوابوں کی ضرورت تھی۔ مرات خان نے محکمہ تعمیرات عامہ میں قدم رکھا اور آہستہ آہستہ اپنے فن سے لاہور کے چہرے کو نکھارنے لگا — فورٹریس سٹیڈیم، نشتر میڈیکل کالج کی عمارتیں، واپڈا کی بستیاں، قذافی سٹیڈیم، اور نجانے کتنے مکان، پارک اور مساجد جن پر اُس کے ہاتھوں کی مہارت ثبت ہے۔


پھر آیا⁦1960⁩کا برس، جب اُسے وہ ذمہ داری سونپی گئی جو اُس کی زندگی کا سب سے بڑا معرکہ ثابت ہوئی⁦:⁩منٹو پارک، جسے آج ہم اقبالِ پارک کہتے ہیں، میں اُس تاریخی قرارداد کی یادگار تعمیر کرنا جو⁦1940⁩میں لاہور میں منظور ہوئی تھی اور جس نے ایک الگ وطن کے خواب کو سیاسی زبان دی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ اِس دس سالہ منصوبے کے دوران مرات خان نے تین مختلف نقشے تیار کیے، بار بار مٹایا، بار بار بنایا، جیسے کوئی شاعر اپنے مصرعے کو کمال تک پہنچانے کے لیے بار بار تراشتا ہے۔

ایک ایسا مینار جو بنیاد سے اُٹھ کر تاریخ، فنِ تعمیر اور قومی خواب کو ایک ہی استعارے میں سمو دیتا ہے۔

آخرکار جو نقشہ منتخب ہوا، وہ ایک ایسا مینار تھا جو کِسی پھول کی مانند اپنی بنیاد سے اُٹھتا اور چار مراحل — ٹیکسلا کے سنگِ خام سے لے کر باریک تراشیدہ پتھروں اور بالآخر سفید سنگِ مرمر تک — سے ہوتا ہوا آسمان کی طرف بلند ہوتا چلا جاتا۔

وہ نذرانہ جو اُس نے مفت دے دیا

مگر مرات خان کی عظمت محض اُس کے ہنر میں نہیں، بلکہ اُس چیز میں پوشیدہ ہے جو اُس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اُس کا جائز معاوضہ تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار روپے بنتا تھا — ایک بڑی رقم، اُس دور کے حساب سے کہیں بڑی۔

مگر اُس نے یہ رقم اپنی جیب میں نہ ڈالی، بلکہ اُسی فنڈ کو لوٹا دی جو مینار کی تعمیر کے لیے قوم نے چندہ دے کر بنایا تھا۔

تعمیر کا آغاز

23 مارچ 1960

تکمیل

1968

بلندی

70 میٹر

آٹھ برس تک وہ خود جائے تعمیر پر موجود رہا، خود پتھروں کو ہاتھ لگا کر پرکھتا، خود معیار کی نگرانی کرتا — جیسے یہ کوئی سرکاری ٹھیکہ نہیں بلکہ اُس کی اپنی روح کا نذرانہ ہو، اُس زمین کے نام جس نے ایک بے وطن مسافر کو گھر بخشا تھا۔

23 مارچ⁦1960⁩کو تعمیر کا آغاز ہوا اور⁦1968⁩میں یہ خواب مکمل حقیقت بن کر سامنے آیا — ستّر میٹر بلند،⁦324⁩سیڑھیوں پر مشتمل⁦(⁩اور ایک لفٹ کی سہولت کے ساتھ⁦)⁩، جہاں سے بادشاہی مسجد اور لاہور کے کوچہ و بازار کا نظارہ کسی خواب کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

1963 میں صدر ایوب خان نے اُس کی خدمات کے اعتراف میں اُسے تمغۂ امتیاز سے نوازا — مگر یہ اعزاز بھی شاید اُس نذرانے کے آگے چھوٹا تھا جو مرات خان نے خاموشی سے دیا تھا۔

“

اُس نے ایک عمارت نہیں بنائی، اُس نے اپنے نئے وطن کے خواب کو پتھر میں ڈھال دیا۔

”

ایک خاموش رخصتی

15 اکتوبر⁦1970⁩کو نصر الدین مرات خان نے اِس دنیا سے کوچ کیا، اور لاہور کے مصری شاہ قبرستان کی مٹی میں ہمیشہ کے لیے سو گیا — اُسی شہر میں جسے اُس نے اجنبی سے اپنا وطن بنایا تھا۔

برسوں تک وہ گمنامی کے پردے میں رہا، حالانکہ اُس کا تعمیر کردہ مینار قوم کی سب سے نمایاں علامتوں میں شمار ہوتا رہا، سیاسی جلسوں کی گواہی دیتا رہا، پوسٹ کارڈز اور تصویروں میں چمکتا رہا — مگر اُس کا نام کسی زبان پر نہ آیا۔

صرف اُس کی بیٹی میرال مرات خان اور بعد میں چند صحافیوں و محققین کی محنت سے یہ داستان دھیرے دھیرے روشنی میں آئی، یہاں تک کہ⁦2017⁩میں مینارِ پاکستان کے احاطے میں ایک تختی نصب کی گئی جس پر اُس کے نام اور خدمات کا باقاعدہ اعتراف کندہ کیا گیا۔

آخرِکار

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی سب سے پائیدار علامتیں اکثر اُن ہاتھوں سے تراشی جاتی ہیں جن کا اُس مٹی سے تعلق خون کا نہیں بلکہ محبت کا ہوتا ہے۔

ایک روسی نژاد مسلمان، جو ظلم کی آندھیوں سے بھاگا، جس نے مہاجر کیمپ کی خاک میں محبت پائی، اور جس نے آخرکار پاکستان کو اُس کا سب سے بلند استعارہ عطا کیا — بغیر ایک پائی لیے، بغیر کسی صلے کی طلب کے۔

یہی وہ خاموش عظمت ہے جو تاریخ کے اوراق میں کبھی کبھار دب تو جاتی ہے، مگر مٹتی نہیں۔

احمد نعیم خان

تحریر و تجزیہ
احمد نعیم خان

NY Urdu — تاریخی و ادبی تحریر
23 مارچ احمد نعیم خان اقبال پارک پاکستان پاکستان کی تاریخ پاکستانی معمار تاریخی شخصیات داغستان فن تعمیر قرارداد لاہور لاہور لاہور کی تاریخ مینار پاکستان مینار پاکستان کی تاریخ نصر الدین مرات خان
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleبنیاد پرست اسلامی اور سوشلسٹ انقلابی
Next Article مکہ معاہدہ اور معرکہ ترقی و خوشحالی
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.