جب جامعات قومی حکمتِ عملی تشکیل دیتی ہیں

دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگیں، علاقائی کشیدگیاں، بدلتے اتحاد اور عالمی طاقت کے مراکز مسلسل نئی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کے مستقبل، اس کی قومی طاقت اور بدلتے ہوئے علاقائی منظرنامے پر ایک غیر معمولی نوعیت کی گفتگو لاہور کی ایک یونیورسٹی میں ہوئی۔
یونیورسٹی آف لاہور میں منعقد ہونے والی کانفرنس
“مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی جیومیٹری”
نے یہ بنیادی سوال سامنے رکھا کہ اکیسویں صدی میں طاقت کا اصل مفہوم کیا ہے؟ کیا طاقت صرف میزائلوں، دفاعی سازوسامان اور عسکری صلاحیت کا نام ہے یا علم، تحقیق، ٹیکنالوجی، انسانی سرمایہ، معاشی پیداوار اور مضبوط ادارے بھی قومی طاقت کے بنیادی ستون ہیں؟
کانفرنس کا سب سے اہم پہلو شاید یہی تھا کہ اس نے ایک دفاعی معاہدے کو محض عسکری زاویے سے دیکھنے کے بجائے اسے پاکستان کے مستقبل، علاقائی سلامتی اور معاشی ترقی کے وسیع تر تناظر میں زیرِ بحث لایا۔
جب قومی حکمتِ عملی یونیورسٹی کے دروازے تک پہنچے
یہ بات قابلِ غور ہے کہ مکہ معاہدے اور طاقت کی نئی جیومیٹری جیسے موضوع پر اتنی اہم گفتگو کسی سرکاری دفتر یا عسکری ہیڈکوارٹر کے بجائے ایک یونیورسٹی میں ہوئی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یونیورسٹی آف لاہور کی اس کاوش کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
جامعات صرف ڈگریاں دینے والے ادارے نہیں ہوتیں۔ وہ معاشروں کے فکری مستقبل کی تشکیل کرتی ہیں۔ یہی وہ جگہیں ہیں جہاں سوال اٹھتے ہیں، پالیسیوں پر بحث ہوتی ہے، نئے تصورات جنم لیتے ہیں اور آنے والی نسلیں اپنے ملک اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس کانفرنس میں پالیسی سازوں، سفارت کاروں، سابق وزرا، فوجی ماہرین، ماہرینِ تعلیم، کاروباری شخصیات، وکلا، مذہبی اسکالرز اور صحافیوں کی شرکت نے ثابت کیا کہ قومی پالیسی پر سنجیدہ مکالمہ صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
یونیورسٹی آف لاہور کا قابلِ تحسین اقدام
یونیورسٹی آف لاہور نے اس کانفرنس کے ذریعے یہ واضح کیا کہ ایک جدید یونیورسٹی کو معاشرے کے بڑے قومی اور عالمی سوالات سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔ ایسے مکالمے پاکستان میں پالیسی، تحقیق اور علمی سرگرمی کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چیئرمین بورڈ آف گورنرز اویس رؤف اس وژن کے لیے خصوصی تحسین کے مستحق ہیں۔ ان کے خیرمقدمی کلمات میں یہ تصور نمایاں تھا کہ یونیورسٹی کو صرف کلاس روم، امتحانات اور ڈگریوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ایسے پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آنا چاہیے جہاں ملک اور خطے کے اہم مسائل پر کھلے ذہن سے گفتگو ہو۔
ایک ایسے ماحول میں جہاں سیاسی تقسیم اکثر بامعنی مکالمے کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے، یونیورسٹی کی جانب سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ایک میز پر بٹھانا بذاتِ خود ایک مثبت قدم ہے۔
اسی طرح منیر احمد خان اور ان کی پوری آرگنائزنگ ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے، جنہوں نے اس اجتماع کو محض ایک رسمی تقریب بننے سے بچایا اور اسے ایک سنجیدہ فکری اور تزویراتی مکالمے میں تبدیل کیا۔
احسن اقبال کا خطاب؛ طاقت کا نیا مفہوم
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کا خطاب کانفرنس کا فکری مرکز بن کر سامنے آیا۔ ان کا بنیادی پیغام واضح تھا:پاکستان کی ترقی کا راستہ تعلیم، تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے سے ہو کر گزرتا ہے۔
احسن اقبال نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو صرف فوجی بندوبست سمجھنے کے بجائے ایک ایسے وسیع فریم ورک کے طور پر دیکھنے پر زور دیا جس میں جامعات، لیبارٹریاں، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، علاقائی رابطہ کاری اور معاشی تعاون شامل ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق سعودی عرب کے پاس وسیع مالی اور معاشی وسائل ہیں، ترکی کے پاس صنعتی اور تکنیکی صلاحیت ہے، جبکہ پاکستان کے پاس نوجوان انسانی سرمایہ، دفاعی صلاحیت اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع موجود ہے۔ اگر ان تینوں ممالک کی تکمیلی صلاحیتوں کو منظم انداز میں جوڑا جائے تو یہ تعاون دفاع سے کہیں آگے جا سکتا ہے۔
مکہ معاہدہ؛ دفاع سے ترقی تک
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ میں7اگست2026کو طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے نے عالمی اور علاقائی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تاہم لاہور کی کانفرنس میں ایک اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ اس معاہدے کی اصل اہمیت صرف اجتماعی دفاع تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسے ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، تحقیق، صنعت، توانائی، خوراک، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور علاقائی رابطہ کاری کے وسیع تر تعاون میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں جغرافیائی سیاست اور معاشی سیاست ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ احسن اقبال نے اسی تصور کو “اسٹریٹجک خودمختاری، نہ کہ اسٹریٹجک تنہائی” کے الفاظ میں بیان کیا۔
پاکستان کی اصل طاقت کہاں ہے؟
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے لوگ ہیں۔ ملک کی بڑی نوجوان آبادی ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، لیکن صرف نوجوان آبادی کسی ملک کو طاقتور نہیں بناتی۔ اس آبادی کو معیاری تعلیم، جدید مہارت، تحقیق، روزگار اور عالمی منڈی سے جوڑنا ضروری ہے۔
اگر یہ انسانی سرمایہ سائنس دانوں، انجینئروں، محققین، کاروباری افراد، ہنرمند کارکنوں اور برآمد کنندگان میں تبدیل ہو جائے تو یہی آبادی پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔
لیکن اگر تعلیم، روزگار اور مہارتوں کے مواقع فراہم نہ کیے گئے تو یہی آبادی ایک ضائع شدہ موقع بن سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے اصل سوال آبادی کی تعداد نہیں بلکہ قومی صلاحیت کی تعمیر ہے۔
اگلی جنگ تعلیم اور ٹیکنالوجی کی ہے
مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، جدید مواد، قابلِ تجدید توانائی اور خلائی ٹیکنالوجی آنے والی عالمی مسابقت کے بنیادی میدان بنتے جا رہے ہیں۔
جو ممالک ان شعبوں میں تحقیق اور صنعتی صلاحیت پیدا کریں گے، وہ نہ صرف اپنی معیشت مضبوط کریں گے بلکہ عالمی طاقت کے نئے توازن میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کریں گے۔
اسی لیے جامعات کو قومی ترقی کی تجربہ گاہیں بننا ہوگا۔ محققین کو پاکستان کے مشکل ترین مسائل پر کام کرنا ہوگا، انجینئروں کو حل پیدا کرنا ہوگا، کاروباری افراد کو نئی منڈیاں تلاش کرنا ہوں گی اور سماجی علوم کے ماہرین کو ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں مدد دینی ہوگی جو اختلاف کے باوجود متحد رہ سکے۔
سیشن اول؛ نئی علاقائی سلامتی کا ڈھانچہ
کانفرنس کے پہلے سیشن کا موضوع تھا:
“درمیانی طاقتیں اور نئے علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل”۔
شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کے بدلتے ہوئے تزویراتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ علاقائی ریاستوں کے لیے اجتماعی سلامتی، تزویراتی خودمختاری، امن، خودمختاری کے احترام اور وسیع تر علاقائی تعاون کو بنیادی اصول قرار دیا گیا۔
یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ جدید دور میں سلامتی کا تصور صرف فوجی دفاع تک محدود نہیں۔ معاشی سلامتی، توانائی، خوراک، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور انسانی سلامتی بھی قومی سلامتی کا حصہ بن چکے ہیں۔
سیشن دوم؛ جغرافیائی سیاست سے معاشی ثمرات تک
دوسرے سیشن کا موضوع تھا:
“جغرافیائی تزویراتی اور معاشی ثمرات”۔
اس نشست میں اس امکان پر گفتگو ہوئی کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاعی پیداوار، توانائی، انفراسٹرکچر اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے۔
پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع، انسانی وسائل اور معاشی استعداد کو استعمال کرتے ہوئے جنوبی ایشیا، خلیج اور ترکیہ کے درمیان ایک اہم رابطہ بن سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے محض جغرافیہ کافی نہیں؛ مضبوط ادارے، صنعتی پیداوار اور مسابقتی معیشت بھی درکار ہوگی۔
خورشید محمود قصوری کا تاریخی زاویہ
سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے مکہ معاہدے کو محض حکومتی سطح کا اتحاد قرار دینے کے بجائے عوامی اور تہذیبی جذبات سے جڑا ہوا ایک تصور قرار دیا۔ ان کی گفتگو میں پاکستان، ترکیہ اور عرب دنیا کے درمیان تاریخی روابط کا حوالہ نمایاں رہا۔
قصوری نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مکہ معاہدے کو کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے ایران سمیت خطے کے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات اور قومی یکجہتی اہم ہیں۔
ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ قابلِ اعتماد دفاعی صلاحیت کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ جنگ کے امکانات کو کم کرنا ہونا چاہیے۔
دفاعی اتحاد یا ترقی کی شراکت داری؟
مکہ معاہدے کی اصل آزمائش شاید یہی ہوگی کہ آیا اسے صرف دفاعی تعاون تک محدود رکھا جاتا ہے یا اسے ایک وسیع ترقیاتی شراکت داری میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اگر پاکستانی انسانی سرمایہ، ترکیہ کی صنعتی و تکنیکی صلاحیت اور سعودی سرمایہ کاری کو مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ ایک دوسرے سے جوڑا جائے تو دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ صنعت، تحقیق، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خلائی ٹیکنالوجی، توانائی، خوراک اور معدنی وسائل کے شعبوں میں بھی نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہی وہ تصور ہے جو مکہ معاہدے کو روایتی دفاعی معاہدے سے آگے لے جا سکتا ہے۔
قومی طاقت کا نیا فارمولہ
آج کی دنیا میں مضبوط فوج ضروری ہے، لیکن فوجی طاقت اکیلے کسی ملک کو دیرپا طور پر مضبوط نہیں بنا سکتی۔ کمزور معیشت، درآمد شدہ ٹیکنالوجی، غیر مؤثر ادارے اور کمزور تعلیمی نظام کسی بھی ملک کی تزویراتی طاقت کو محدود کر سکتے ہیں۔
قومی طاقت کے نئے پیمانے اقتصادی پیداوار، ٹیکنالوجی، انسانی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور سماجی یکجہتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے اب “ترقی کی جنگ” محض ایک خوبصورت سیاسی جملہ نہیں بلکہ قومی ترجیح ہونی چاہیے۔
یونیورسٹی آف لاہور سے ایک بڑا پیغام
اس کانفرنس کا سب سے بڑا سبق شاید مکہ معاہدے سے بھی بڑا تھا۔ وہ یہ کہ پاکستان کے مستقبل کی بحث میں جامعات کو مرکزی مقام دینا ہوگا۔
یونیورسٹی آف لاہور نے ایک ایسا فورم فراہم کیا جہاں دفاعی ماہرین، سفارت کار، سابق حکومتی عہدیدار، قانون دان، صحافی، کاروباری شخصیات، مذہبی اسکالرز اور ماہرینِ تعلیم ایک ہی میز پر بیٹھے۔ اس نوعیت کا اجتماع پاکستان میں پالیسی مکالمے کی ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔
چیئرمین اویس رؤف کی قیادت اور منیر احمد خان سمیت منتظمین کی کوششوں نے اس تقریب کو ایک ایسے مکالمے میں تبدیل کیا جس میں پاکستان کے لیے مستقبل کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
یہی وہ کردار ہے جو ایک زندہ اور فعال یونیورسٹی ادا کر سکتی ہے:سوال اٹھانا، مختلف نقطۂ نظر کو ایک جگہ لانا، نئی سوچ پیدا کرنا اور قومی مستقبل کے لیے فکری بنیاد فراہم کرنا۔
پاکستان کو صرف نقشے پر جگہ نہیں بنانی، نقشہ بنانے میں کردار ادا کرنا ہے
دنیا ایک نئی کثیر قطبی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ طاقت کے پرانے مراکز کے ساتھ چین، روس، ترکیہ، خلیجی ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک اپنی خودمختار ترجیحات کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔
اس بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کا کردار صرف اس بات سے طے نہیں ہوگا کہ وہ جغرافیائی طور پر کہاں واقع ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے انسانی سرمائے، اداروں، معیشت، ٹیکنالوجی اور علمی صلاحیت کو کس حد تک قومی طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے۔
اگر مکہ معاہدہ پاکستان کو زیادہ تزویراتی تحفظ فراہم کرتا ہے تو اس تحفظ کو ترقی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ جامعات کو عالمی معیار کا بنانا ہوگا، ایسی صنعتیں قائم کرنا ہوں گی جو دنیا بھر میں برآمد کریں، پاکستانی دانش اور تحقیق کو عالمی ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو یہ یقین دینا ہوگا کہ ان کا بہترین مستقبل اپنے ملک میں بھی تعمیر ہو سکتا ہے۔
بالآخر طاقت کی نئی جیومیٹری میں پاکستان کی جگہ صرف میزائلوں یا جغرافیے سے متعین نہیں ہوگی۔ اس کا فیصلہ ہماری جامعات، ہماری لیبارٹریوں، ہماری صنعتوں، ہماری تحقیق، ہمارے اداروں اور سب سے بڑھ کر ہمارے نوجوان کریں گے۔
لاہور کی اس کانفرنس نے اسی حقیقت کو نمایاں کیا کہ جب یونیورسٹیاں قومی حکمتِ عملی کے سوالات پر گفتگو شروع کرتی ہیں تو وہ محض تعلیمی ادارے نہیں رہتیں؛ وہ مستقبل کی تعمیر کے مراکز بن جاتی ہیں۔
مکہ سے جڑی نئی طاقت کی جیومیٹری اگر امن، علم، ترقی اور خوشحالی کی جغرافیہ میں تبدیل ہو جائے تو یہی پاکستان کے لیے اس معاہدے کا سب سے بڑا ثمر ہوگا۔
خصوصی مضمون: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، علاقائی سلامتی اور پاکستان کی ترقی
کانفرنس کی جھلکیاں






کانفرنس میں نمایاں شرکا
وفاقی وزیر احسن اقبال، سابق وزرائے خارجہ خورشید محمود قصوری، ڈاکٹر خالد رانجھا اور فواد چوہدری، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سکندر افضل، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ، میجر جنرل ریٹائرڈ زاہد محمود، پروفیسر ڈاکٹر حلیل ٹوکر، سفیر اعزاز چوہدری، سفیر ضمیر اکرم، سفیر رضا بشیر تارڑ، بریگیڈیئر ریٹائرڈ نادر میر، بریگیڈیئر ریٹائرڈ عمران ملک، بریگیڈیئر ریٹائرڈ غنفر علی، ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی، مجیب الرحمٰن شامی، سہیل وڑائچ، محمود مولوی، سردار دمیرل، علامہ طاہر اشرفی، رکن قومی اسمبلی سحر کامران، تنویر احمد، حارون الرشید، احمد بلال محبوب، سفیر منصور احمد خان، بیرسٹر محمد علی سیف، فہیم الرحمٰن سیگل، سفیر حارون شauکت، پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چوہدری، پیر محمد مسعود چشتی، فرخ شہباز وڑائچ اور ڈاکٹر عبدالغفور راشد سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
ڈس کلیمر
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

