• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » امریکی انتخابات پر میرا ایک دن
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرنومبر 5, 2026Updated:نومبر 5, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
خصوصی تجزیہ⁦|⁩امریکی سیاست

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

پولنگ اسٹیشن کا مشاہدہ، امریکی ووٹرز کی آوازیں اور جمہوریت کے مختلف رنگ
حسن مجتبیٰ

حسن مجتبیٰ
مدیرِ اعلیٰ، نیویارک اُردو

کل صبح میں پولنگ اسٹیشن کے پاس نہیں گیا بلکہ پولنگ اسٹیشن چل کر میرے پاس آگیا۔ ہوا یوں کہ صبح کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو ایک صاحب سڑک کے کناروں پر پیلے رنگ کی بڑی بڑی تختیاں لگا رہے تھے، جن پر تیر کے نشان بنے ہوئے تھے اور وہ پولنگ اسٹیشن کا راستہ دکھا رہی تھیں۔

ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ حیدرآباد سندھ سے میرا یار تھا جو امریکی انتخابات پر مجھے ’وش‘ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کہا، ’آج بڑا دن ہے اور تم اب تک گھر میں ہو؟ باہر نکل کر دیکھو، آج تمہارے ہاں الیکشنز ہیں۔ میں نے تمہیں وش کرنے کے لیے فون کیا ہے۔‘ میں نے سوچا کہ واقعی امریکہ کے حالیہ انتخابات پر دنیا کی نظر ہے۔

نوٹ بک سنبھالے گھر سے باہر نکلا۔ صبح والی پیلی تختی پر نظر پڑی جو پولنگ اسٹیشن کا راستہ بتا رہی تھی۔ پولنگ اسٹیشن میرے گھر سے سڑک کے اُس پار واقع چرچ کے احاطے میں ایک گھر میں بنایا گیا تھا۔ چرچ نے آج کے دن یہ گھر پولنگ کے لیے عطیہ کیا تھا۔ بہت سے لوگ اپنے گھروں میں بھی پولنگ اسٹیشن بنانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔

نہ فوج، نہ پولیس، نہ بینر، نہ جھنڈے، نہ کوئی کھڑکی ٹوٹی، نہ نعرہ، نہ پولنگ ایجنٹ۔ یہ کیسے الیکشن ہیں؟ میز کے پیچھے پولنگ ورکرز بیٹھے تھے۔ دو رضاکار لڑکیوں کی عمر ابھی ووٹ دینے کی نہیں تھی۔ وہ سترہ سال کی تھیں اور ہائی اسکول سے آئی تھیں۔ پولنگ ورکرز میں ایک خاتون اور تین مرد تھے۔ میرے پوچھنے پر ان میں سے ایک نے بتایا کہ وہ ستر ڈالر فی کس یومیہ پر پول ورکر بنے ہیں۔ ان میں سے ایک جج، ایک انسپکٹر اور باقی پول ورکرز تھے، جن میں طلبہ بھی شامل تھے۔ مجھے پیارے وطن کے اساتذہ اور سرکاری ملازمین یاد آئے۔

سندھ کے تھر کو ہی لے لیجیے۔ وہاں کبھی وزیراعظم تبدیل ہونے کی خبر تھریوں کو یوں پہنچتی تھی کہ جب وہ دیکھتے تھے کہ ڈیپلو سے استاد کا تبادلہ ہوکر ننگرپارکر پہنچ گیا یا مٹھی سے لائن میں تبدیل ہوکر عمرکوٹ چلا گیا۔ خیر!

’کیا تم لوگوں نے ووٹ نہیں دینا؟‘ میں نے ایک پول ورکر سے پوچھا۔ خاتون پول ورکر نے بتایا، ’ہم نے تو کل رات ہی ایبسینٹی⁦(⁩غیر حاضر⁦)⁩ووٹ دے دیا تھا، سوائے ایک کے جو قریب ہی رہتا ہے اور آخر میں اپنا ووٹ یہیں استعمال کرے گا۔‘ میں نے اس خاتون سے پوچھا کہ کیا میں یہاں بیٹھ کر پولنگ کا مشاہدہ کرسکتا ہوں؟ اس نے کہا، ’ہاں، بالکل کرسکتے ہیں۔ وہاں کافی تو نہیں، لیکن میز پر رکھے ڈونٹس بھی کھا سکتے ہیں۔‘

ووٹر ہاتھ میں الیکشن آفس یا اپنی پسند کی پارٹی کی طرف سے اپنے پتے پر آنے والا انتخابی معلومات کا سربمہر لفافہ اور شناختی کارڈ دکھا کر پول ورکر سے ووٹر فہرست میں اپنا نام چیک کرواتے۔ پول ورکر نام پر ٹِک لگاتے، پھر ووٹر آگے بڑھ کر دوسری پول ورکر سے ’پروپوزیشن‘ اور دیگر انتخابی معلومات کا کتابچہ لیتے۔ اس کتابچے میں مقامی سطح سے لے کر ریاست اور وفاقی سطح تک مجوزہ اور منظور شدہ قوانین، منصوبوں اور امیدواروں کے بارے میں معلومات ہوتی تھیں، جن میں ووٹر کو مختلف معاملات پر ’ہاں‘ یا ’نہ‘ میں اپنی رائے دینے کے لیے نشانات لگانے کی رہنمائی بھی شامل تھی۔ اس کے بعد ووٹر سے اس کی اپنی مرضی پوچھی جاتی کہ وہ کاغذی بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنا چاہتا ہے یا الیکٹرانک مشین کے ذریعے۔

اگرچہ پرنٹر کے بٹن سے پرنٹ باہر نہیں آتا، لیکن اس بار ووٹ کا ریکارڈ ’پیپر ٹریل‘ یعنی کاغذی صورت میں بھی محفوظ رہے گا، تاکہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی میموری چِپ ناکارہ ہوجائے تب بھی ووٹ کا ریکارڈ موجود ہو۔

یہاں کوئی فارم⁦147⁩نہیں ہوتا!

ووٹر پول ورکر سے ایک لمبی فہرست والا کاغذ لے کر ووٹنگ ایریا میں مشینوں کے ساتھ رکھے ڈیسک پر آتے اور کسی امتحانی پرچے کی طرح ووٹ کا بیلٹ پیپر حل کرتے نظر آتے۔

بہت سے امریکی آج بھی مشینوں اور کاغذی کارروائی کے معاملے میں اناڑی واقع ہوئے ہیں۔ اوسطاً ہر ووٹر کو اس پورے جمہوری عمل میں چار یا پانچ سے آٹھ منٹ تک لگ رہے تھے۔

اس چرچ کی حدود میں قائم اس پولنگ اسٹیشن پر زیادہ تر ووٹر سفید فام تھے، تاہم کچھ افریقی نژاد امریکی بھی تھے۔ ان میں ایک خاتون بھی شامل تھیں جنہیں میں جانتا تھا۔ ان کا ذہنی مریض قرار دیا جانے والا نوجوان بیٹا چند سال قبل پولیس فائرنگ میں مارا گیا تھا۔ اس خاتون نے مشین پر اپنے ووٹ کے اندراج میں خاصا وقت لگایا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بہت سوچ سمجھ کر نشانات لگا رہی ہوں گی۔

وہ ووٹر بھی تھے جن کی عمر اٹھارہ سال تھی اور جو پہلی بار اپنا حقِ رائے دہی استعمال کررہے تھے۔ وہ کافی پرجوش نظر آئے۔ ایشیائی نسل کے بزرگ اور ادھیڑ عمر کے ووٹر بھی موجود تھے، تو کچھ لاطینی امریکی بھی تھے۔

اس وقت تک اس پولنگ اسٹیشن پر موجود ایک سو چھبیس ووٹروں میں سے ایک سو دس اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔

تھوڑی دیر کے لیے ایسے وقفے بھی آئے جب ووٹروں کی آمد کم ہوگئی اور پول ورکرز، بقول شخصے، مکھیاں مارنے لگے۔

امریکی ووٹرز کی آوازیں اور سیاسی ترجیحات

میں نے پولنگ اسٹیشن سے باہر ووٹروں سے بات کرنا چاہی۔ سام کولی ایک ریپبلکن ووٹر ہیں، جو ہمیشہ سے ریپبلکن نہیں رہے تھے۔ انہوں نے کہا، ’میں پہلے ایک لبرٹیرین⁦(⁩آزاد خیال⁦)⁩تھا، پھر ڈیموکریٹ بنا اور اب ریپبلکن کی حمایت کرتا ہوں، اس لیے کہ میں شروع شروع میں ریپبلکن ہی تھا۔‘ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا، ’ضروری نہیں کہ میں ایران جنگ کو درست سمجھتا ہوں۔‘

میں نے اسی جگہ دو نوجوان لڑکیوں، ایملی اور نیٹالی سے بھی بات کی، جو حال ہی میں اٹھارہ برس کی ہوئی تھیں اور پہلی بار ووٹ ڈالنے آئی تھیں۔ ایملی نے گلے میں امن کے نشان والا لاکٹ پہنا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹ ہیں، لیکن ان کی سہیلی نیٹالی نے کہا، ’میں نہ ریپبلکن ہوں نہ ڈیموکریٹ، بلکہ میں تو گرین پارٹی کی حمایتی ہوں۔‘

ایک افریقی نژاد امریکی ووٹر نے مجھ سے کہا، ’میں اپنا حق استعمال کرچکا ہوں۔‘ اس نے کہا، ’میں ہوں تو ڈیموکریٹ، لیکن ریپبلکن کی بھی حمایت کرتا رہا ہوں کیونکہ دونوں میں کوئی بڑا فرق نہیں۔‘

لیکن قوسِ قزح کے رنگوں والی کالی ٹی شرٹ پہنے ایک ووٹر نے، جس نے اپنا نام بتانا چاہا اور نہ ہی تصویر کھنچوانا، کہا، ’مجھے توقع نہیں کہ اگر ڈیموکریٹ آ بھی گئے تو اس سے کوئی زیادہ فرق پڑے گا۔ میں نہیں سمجھتا۔ بلکہ بہت سے معاملات پر پالیسیوں میں وہ تو ایک جیسے پختہ یقین رکھتے نظر آتے ہیں۔‘

لیکن پرجوش ریپبلکن ووٹر کارلا نورس کا کہنا تھا، ’یہ انتخابات مسیحی اور غیر مسیحی قوموں کے درمیان مقابلہ ہیں، اسقاطِ حمل اور رحمِ مادر میں بچے کو زندگی کا حق دینے والوں کے درمیان مقابلہ ہیں، اور بہت سے ایسے بنیادی اور اہم مسائل پر فیصلہ کن معرکہ ہیں۔ اسی لیے میں ریپبلکن پارٹی کی حامی ہوں۔‘

لیکن ایک نوجوان نے کہا: ’میں امریکی خواب، محبت اور ایپل پائی سے محبت کرتا ہوں، چاہے کوئی بھی آئے۔‘ پھر اس نے کہا: ’ٹرمپ سنہرے محلوں میں رہتا رہے گا۔ میرا مسئلہ مہنگائی اور مہنگائی ہے۔ میرا مسئلہ نہ ایران ہے نہ اسرائیل۔ لیکن میں اس عرب السید کو پسند نہیں کرتا۔‘

امریکی انتخابات، امریکی جمہوریت، حسن مجتبیٰ، امریکہ، پولنگ اسٹیشن، ووٹنگ سسٹم، ڈونلڈ ٹرمپ، ڈیموکریٹک پارٹی، ریپبلکن پارٹی، امریکی سیاست، ووٹرز حسن مجتبیٰ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleادھوری جنگ اور انتخابی نتائج
Next Article امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ

نومبر 4, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.