عبدالسید اور اخوان المسلمون سے مبینہ روابط:ڈیموکریٹس کے لیے سوالات
امریکی سینیٹ کی سیاست، اسلام پسند نیٹ ورکس، ایران اور یہود مخالف بیانیے پر ایک متنازع سیاسی بحث
کیا ڈیموکریٹک پارٹی محض ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت اور اسلاموفوبیا کے الزامات سے بچنے کی خاطر عبدالسید جیسے متنازع امیدوار کی حمایت کر رہی ہے، جن کے بارے میں اخوان المسلمون سے مبینہ روابط، ایران کے مذہبی و سیاسی حلقوں سے قربت اور یہود مخالف بیانیے کی حمایت جیسے سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ امریکی سیاست اور قومی سلامتی کے حوالے سے ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔
عبدالسید کے بارے میں اخوان المسلمون کے ساتھ مبینہ تعلقات کے الزامات سامنے آنے کے باوجود بعض ڈیموکریٹس انہیں چھ سال کے لیے امریکی سینیٹ کا رکن منتخب کرانے کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا محض اس لیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت ضروری ہے اور اسلاموفوبیا کا الزام لگنے کا خدشہ ہے، ایسے امیدوار کے سیاسی پس منظر کو نظر انداز کر دینا چاہیے؟ ذرا حقیقت کا سامنا کیجیے۔
اس معاملے میں کئی ایسے واقعات، دستاویزات، سیاسی روابط اور بیانات سامنے لائے گئے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔
عبدالسید کے بارے میں اٹھائے گئے13اہم سوالات
1۔ اخوان المسلمون کی حمایت میں2012کا متنازع خط
عبدالرحمان السید (Dr. Abdul Rahman El-Sayed) کے نام سے عبدالسید نے2012میں ایک کھلے خط پر دستخط کیے تھے، جس میں دیگر مصری نژاد امریکی رہنماؤں کے ساتھ اخوان المسلمون کی حمایت یافتہ مصری صدر محمد مرسی کی حمایت کی گئی تھی۔ اس خط میں صدر مرسی سے واضح طور پر مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ’’میڈیا اور پولیس کو جلد از جلد پاک کریں‘‘۔ یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب مرسی حکومت کی جانب سے میڈیا کے ناقدین کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہونے والا تھا، جن میں اسلام کی توہین کے الزامات کے تحت گرفتاریاں بھی شامل تھیں۔
2۔ اسی خط پر دستخط کرنے والوں کی جانب سے انتخابی چندہ
2012 کے اسی متنازع خط پر دستخط کرنے والے کم از کم چھ دیگر افراد نے بعد میں عبدالسید کی انتخابی مہمات، بالخصوص سینیٹ کی انتخابی مہم، کے لیے مجموعی طور پر کم از کم25ہزار850ڈالر عطیہ کیے۔ ان عطیہ دہندگان میں ڈاکٹر ہانی صقر بھی شامل ہیں، جن کے اخوان المسلمون سے تعلقات کے حوالے سے دستاویزی شواہد کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے فیس بک پروفائل پر اخوان المسلمون کا لوگو استعمال کیا اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی، جنہوں نے اخوان المسلمون کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا، کو ’’یہودیوں کا کتا‘‘ قرار دیا تھا۔
3۔ سوتیلی بہن کے سوشل میڈیا بیانات اور خاندانی روابط
عبدالسید کی سوتیلی بہن اور یونیورسٹی آف شکاگو کی پروفیسر ایمان عبدالہادی نے2012اور2013کے دوران سوشل میڈیا پر متعدد ایسی پوسٹس کیں جن میں انہوں نے لکھا کہ ان کا خاندان طویل عرصے سے اخوان المسلمون سے وابستہ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خاندان کے بعض افراد کو تنظیم کا حصہ ہونے کی وجہ سے جیل جانا پڑا اور وہ مصر میں اخوان المسلمون کی حمایت کرنے والے اپنے تمام اہلِ خانہ کے لیے دعاگو ہیں۔
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو کا ذکر کیا، جس میں ان کی والدہ نے کالج کے زمانے میں1970کی دہائی کے اوائل میں اخوان المسلمون کے اندر اپنی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا تھا۔ ناقدین کے مطابق یہ بیانات عبدالسید کے ان عوامی دعوؤں سے متضاد ہیں جن میں، بشمول امریکی پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘، انہوں نے اپنے یا اپنے خاندان کے اخوان المسلمون سے کسی بھی تعلق کی تردید کی تھی۔
4۔ والدہ اور اسلامی امریکی امدادی ادارے کا معاملہ
عبدالسید کی والدہ فاتن الکومی (Fatten Elkomy) اسلامی امریکی امدادی ادارے (Islamic American Relief Agency – IARA) میں کام کر چکی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے2004میں اس ادارے کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس ادارے پر القاعدہ، اسامہ بن لادن، حماس اور طالبان کو مالی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کے الزامات تھے۔
اس سے متعلق عدالتی دستاویزات میں1999سے2002کے دوران نقد رقوم کی منتقلی اور رابطوں کے حوالے سے الکومی کا ایک درجن سے زائد مرتبہ ذکر کیا گیا۔ ایمان عبدالہادی کے بیان کے مطابق ایف بی آئی نے بعد ازاں اس معاملے کے سلسلے میں ان کی والدہ کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تھا۔ تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ فاتن الکومی پر اس معاملے میں کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
5۔ سسر کے تنظیمی روابط اور انتخابی مالی معاونت
عبدالسید کے سسر طیب جوکاکو (Tayeb Jukaku) شمالی امریکہ کی اسلامی سوسائٹی(ISNA)کی بانی کمیٹی میں طویل عرصے تک خدمات انجام دے چکے ہیں اور کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز(CAIR)کی مشی گن شاخ کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔
ISNA اورCAIRدونوں کا نام2007میں ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کے دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں ایسے شریک سازشیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جن پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔ اس مقدمے میں ملزمان کو حماس کے لیے لاکھوں ڈالر منتقل کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ ایک وفاقی جج نے ان تنظیموں اور حماس کے درمیان روابط کے حوالے سے ’’کافی شواہد‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ وفاقی دستاویزات اور تحقیقاتی اداروں نے ان تنظیموں کے بعض عناصر کو امریکہ میں اخوان المسلمون کے نیٹ ورک کا حصہ بھی قرار دیا ہے۔
طیب جوکاکو عبدالسید کی حمایت کرنے والی ایک سپر پی اے سی (Super PAC) کے بڑے عطیہ دہندگان میں شامل رہے ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹس میں ان کی مالی معاونت کم از کم دو لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔
6۔ اخوان المسلمون سے مبینہ روابط رکھنے والے عطیہ دہندگان
عبدالسید کی انتخابی مہم کو ایسے افراد کی جانب سے بھی ہزاروں ڈالر کے براہِ راست عطیات ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن کے روابط اخوان المسلمون سے بتائے جاتے ہیں۔ ان میں مصر میں اخوان المسلمون کی باضابطہ سیاسی جماعت کے سابق ترجمان اور ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے نام دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق ایک اہم عدالتی مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے جمع کرائی گئی اخوان المسلمون کے رہنماؤں کی فہرست میں موجود تھے۔
7۔ ایران سے وابستہ امام کے ساتھ انتخابی مہم
عبدالسید نے متعدد مرتبہ، بشمول2026میں منعقد ہونے والی تین تقریبات کے، امام محمد علی الٰہی (Mohammad Ali Elahi) کے ساتھ انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ امام الٰہی9/11کے حملوں کے بارے میں سازشی نظریات پیش کرنے اور ان حملوں میں موساد اور اسرائیل کے ملوث ہونے کے دعوے کرنے کے حوالے سے متنازع رہے ہیں۔
ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آیت اللہ خمینی کے دور میں ایرانی بحریہ کے ایک پروپیگنڈا اور سیاسی و نظریاتی شعبے میں خدمات انجام دیں اور بعد میں ایران کی شہداء فاؤنڈیشن میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ اس فاؤنڈیشن کو بعد ازاں امریکہ نے حزب اللہ کی مالی معاونت اور خودکش حملہ آوروں کے خاندانوں کی حمایت کے حوالے سے پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا۔
8۔ حسن پائیکر کے ساتھ سیاسی قربت اور متنازع بیانات
ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری انتخابی مہم کے دوران عبدالسید نے بائیں بازو کے معروف ٹوئچ اسٹریمر حسن پائیکر (Hasan Piker) کے ساتھ قریبی سیاسی روابط قائم رکھے اور ان کے ساتھ متعدد انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان میں مشترکہ تقریبات، سوئمنگ پول کے قریب سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی ایک پارٹی اور انتخابی نتائج کی رات منعقد ہونے والی ریلی شامل تھیں۔
حسن پائیکر ماضی میں متعدد انتہائی متنازع بیانات دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’امریکہ9/11کا مستحق تھا‘‘، یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے القاعدہ کے مقابلے میں فی یونٹ کہیں زیادہ دہشت گردی کی ہے اور اسرائیل کو ’’یہودی داعش‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ امریکی یہودیوں کی اسرائیل کی حمایت امریکہ میں یہودیوں کے خلاف تشدد کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’آخرکار کوئی شخص آئے گا اور امریکی یہودیوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔‘‘
مصنف کے مطابق عبدالسید نے ڈیموکریٹس اور دیگر حلقوں کی جانب سے حسن پائیکر کے ان بیانات سے مکمل اور مستقل لاتعلقی کا اعلان کرنے کے مطالبات کو بارہا مسترد کیا ہے۔
9۔ عرب خواتین اور نسلی اختلاط سے متعلق متنازع تحقیقی مقالہ
2011 میں کولمبیا یونیورسٹی سے وابستگی کے دوران عبدالسید نے ایک تحقیقی مقالہ مشترکہ طور پر تحریر کیا تھا، جو ایک مستند علمی جریدے میں شائع ہوا۔ اس مقالے کا عنوان تھا: ’’عرب نژاد امریکی ماؤں میں نسلی گروہوں کے درمیان شادی اور قبل از وقت پیدائش کا خطرہ‘‘۔
مقالے میں یہ نتیجہ پیش کیا گیا تھا کہ مختلف نسلی گروہوں کے درمیان شادی عرب نژاد ماؤں میں حمل کے ناموافق نتائج، خصوصاً قبل از وقت پیدائش کے بڑھتے ہوئے خطرے، سے وابستہ ہو سکتی ہے۔ ناقدین نے اس تحقیق کو پہلے سے طے شدہ نسل پرستانہ اور یوجینکس(نسل کی مصنوعی بہتری کے نظریے)پر مبنی نتیجے کو فروغ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس تحقیق کا تاثر یہ بنتا ہے کہ عرب خواتین کو غیر عرب مردوں کے ساتھ بچے پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
10۔ ٹیمپل اسرائیل پر حملے کے بعد ’’زخمی لوگ دوسروں کو زخمی کرتے ہیں‘‘ کا بیان
مارچ2026میں مشی گن کے شہر ویسٹ بلوم فیلڈ میں ٹیمپل اسرائیل (Temple Israel) نامی یہودی عبادت گاہ پر ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ اس حملے میں ایک لبنانی نژاد امریکی شخص نے اپنی گاڑی عبادت گاہ سے ٹکرا دی تھی۔ بتایا گیا کہ اس شخص کا بھائی حزب اللہ کا ایک کمانڈر تھا جو اسرائیلی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔ حملے کا نشانہ بننے والی عبادت گاہ میں کم عمر بچوں کے لیے ایک پری اسکول بھی موجود تھا۔
عبدالسید نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا، لیکن اسی کے ساتھ فوراً یہ جملہ بھی شامل کیا کہ ’’زخمی لوگ دوسروں کو زخمی کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے اس تشدد کو چھ ہزار میل دور پیش آنے والے واقعات سے بھی جوڑ دیا۔
عبادت گاہ کے ربی اور یہودی ڈیموکریٹس سمیت متعدد ناقدین نے اس بیان کو متاثرین کو ہی موردِ الزام ٹھہرانے کے مترادف قرار دیا۔ ان کے مطابق اس طرح کا مؤقف یہودی بچوں اور عبادت گزاروں کو نشانہ بنانے والے یہود مخالف دہشت گردانہ حملے کو جواز فراہم کرنے یا اس کی سنگینی کم کرنے کے مترادف تھا۔ مسلسل تنقید کے بعد عبدالسید نے اپنے بیان کو غلطی قرار دیتے ہوئے معذرت کی۔
11۔ والد اور لائف فار ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ کا معاملہ
عبدالسید کے والد ڈاکٹر محمد السید (Dr. Mohammed/Mohammad El-Sayed)، جو انجینئرنگ کے پروفیسر اور امام بھی ہیں، لائف فار ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ (Life for Relief and Development) نامی اسلامی فلاحی ادارے کے بورڈ میں شامل ہیں۔ اس ادارے نے امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول(OFAC)کے ساتھ سات لاکھ80ہزار ڈالر کا تصفیہ کیا تھا۔
ادارے پر الزام تھا کہ اس نے ستمبر2002سے19مارچ2003تک، یعنی عراق پر امریکی حملے سے چند روز قبل، امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکہ سے اردن کے راستے صدام حسین کی حکومت کے زیرِ انتظام عراق میں رقوم منتقل کیں۔ اس معاملے میں ایف بی آئی اور امریکی فوج نے ادارے کے دفاتر پر چھاپے بھی مارے تھے۔ امریکی حکام نے اس معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ادارے کی اعلیٰ انتظامیہ نے پہلے سے تحریری انتباہات موصول ہونے کے باوجود ان رقوم کی منتقلی کی ہدایت دی تھی۔
اس ادارے کے بورڈ میں ایسے افراد بھی شامل رہے ہیں جن کے اخوان المسلمون سے روابط کے بارے میں دستاویزی دعوے موجود ہیں۔
12۔ حزب اللہ کے حق میں بیانیہ اور نازی پروپیگنڈے سے مشابہ دعوے
مصنف کا الزام ہے کہ عبدالسید حزب اللہ کے حامیوں جیسا طرزِ بیان اختیار کرتے ہوئے مسلسل ایسے دعوے دہراتے رہے ہیں جنہیں وہ نازی پروپیگنڈے سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہی جھوٹے بیانیے ہیں جنہیں ترک نژاد امریکی سیاسی مبصر جینک اویغور (Cenk Uygur) نے اپنے ایک متنازع اشتہار میں جوزف گوئبلز کے پروپیگنڈے کے انداز میں ڈرامائی شکل دی تھی۔ مصنف کے نزدیک یہ طرزِ فکر ہی عبدالسید کو ایک سنجیدہ سیاسی عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کے لیے کافی ہے۔
13۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بارے میں مؤقف
شاید سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ عبدالسید نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز(IRGC)کی واضح مذمت کرنے سے انکار کیا۔ جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ’’یہ ایرانی عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ ان کی قیادت کیسی ہونی چاہیے۔‘‘
اس کے بعد ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے ساتھ ہونے والے ایک مباحثے میں بھی عبدالسید نے یہ واضح کرنے سے گریز کیا کہ امریکہ کے لیے اسرائیل زیادہ بڑا خطرہ ہے یا ایران۔ مصنف کے نزدیک یہ مؤقف ان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے حوالے سے بنیادی سوالات پیدا کرتا ہے۔
ڈیموکریٹس کے سامنے بنیادی سوال
کیا ایسے شخص کو، جس کے بارے میں اخوان المسلمون سے مبینہ روابط، ایران کے متنازع مذہبی و سیاسی حلقوں سے قربت، یہود مخالف بیانیے کے ساتھ وابستگی اور دہشت گردی کے حساس معاملات پر غیر واضح مؤقف جیسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، واقعی امریکی سینیٹر بننا چاہیے؟ اور کیا ڈیموکریٹک پارٹی کو ایسے امیدوار کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے؟
اگر ڈیموکریٹس ان تمام سوالات اور الزامات کو نظر انداز کرتے ہوئے عبدالسید کی حمایت جاری رکھتے ہیں تو انہیں اس سیاسی فیصلے کے نتائج کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔ مصنف کے نزدیک ایسا طرزِ عمل یہود دشمنی کے خلاف اصولی مؤقف کو کمزور کرنے اور امریکہ کے مخالف عناصر کے بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے مترادف ہے۔
یہ محض ایک انتخابی مقابلے کا معاملہ نہیں، بلکہ امریکی جمہوریت، قومی سلامتی، مذہبی انتہا پسندی اور یہودی برادری کے تحفظ سے جڑا ایک اہم سوال ہے۔
مصنف کا پس منظر
یہ تحریر بیجان یاشار (Bijan Yashar) کی جانب سے لکھی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق ان کا خاندان ایران سے فرار ہو کر آیا تھا اور وہ اسلامی انتہا پسندی کے زیرِ اثر زندگی گزارنے کے تجربے اور اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہیں۔
مصنف کا کہنا ہے کہ ان13نکات سے متعلق مزید تفصیلی حوالہ جات اور دستاویزی معلومات اصل سوشل میڈیا پوسٹ کے تبصروں میں ’’SOURCES PART 1 and 2‘‘ کے عنوان سے فراہم کی گئی ہیں۔
دستاویزی ذرائع — حصہ اول
عبدالسید کے بارے میں پہلے چھ نکات سے متعلق صحافتی تحقیقات، انتخابی مالی ریکارڈ، عدالتی دستاویزات اور متعلقہ شواہد
1۔2012کا خط:محمد مرسی کی حمایت اور میڈیا و پولیس کی تطہیر کا مطالبہ
25 نومبر2012کو عربی زبان میں یہ بیان الاحرام گیٹ (Al-Ahram Gate) پر شائع ہوا، جس کی سرخی امریکہ میں مرسی کے حامیوں سے متعلق تھی۔ اس پر خود کو مصری نژاد امریکی رہنما قرار دینے والے46افراد نے دستخط کیے تھے، جن میں نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالرحمان السید کا نام بھی شامل تھا۔ اس وقت وہ کولمبیا یونیورسٹی میں میڈیکل کے طالب علم تھے۔
بیان کے اہم حصے کا ترجمہ یہ ہے: ’’ہم، مصری کمیونٹی کے رہنما، صدر کی جانب سے کیے گئے انقلابی فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میڈیا اور پولیس کو جلد از جلد پاک کریں۔‘‘
خط میں حکومت پر بیرونی تنقید کو بھی مسترد کیا گیا تھا۔ یہ بیان مرسی کے آئینی اعلان کے چند روز بعد سامنے آیا، جس کے ذریعے ان کے اختیارات میں توسیع کی گئی تھی۔ بعد کے واقعات میں میڈیا پر پابندیوں اور اسلام یا صدر کی توہین کے الزامات کے تحت گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
- Washington Free Beacon — اصل تحقیق اور خط کا ترجمہ
- New York Post — خط پر دستخطوں سے متعلق رپورٹ
- Economic Memos — عربی اصل دستاویز اور انگریزی خلاصہ
- The Guardian — خط کے متن اور سیاسی تناظر کا متبادل جائزہ
اہم وضاحت: گارڈین کے مطابق خط کے اصل متن میں اخوان المسلمون کا نام موجود نہیں تھا۔ اس نے خط کو سابقہ حکومت کے وفادار ادارہ جاتی عناصر کی تطہیر کے مطالبے کے تناظر میں بھی دیکھا۔ خط کی سرخی اور اصل متن کے درمیان اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
2۔ خط پر دستخط کرنے والوں کے انتخابی عطیات اور ہانی صقر کا معاملہ
امریکی فیڈرل الیکشن کمیشن(FEC)کے ریکارڈ کے مطابق اسی خط پر دستخط کرنے والے کم از کم چھ افراد نے عبدالسید کی انتخابی مہمات کو مجموعی طور پر تقریباً25ہزار850ڈالر یا اس سے زیادہ عطیہ کیے۔
ڈاکٹر ہانی صقر، جو لائف فار ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ کے چیف ایگزیکٹو ہیں، نے سینیٹ کی انتخابی مہم کو کم از کم ایک ہزار ڈالر عطیہ کیے۔ ان کا نام1992کی امریکہ میں اخوان المسلمون کے رہنماؤں کی ایک ڈائریکٹری میں بھی بتایا جاتا ہے، جو ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کے مقدمے میں پیش کی گئی تھی۔ ان کے سوشل میڈیا پر اخوان المسلمون کا لوگو استعمال کرنے اور2013میں السیسی کو ’’یہودیوں کا کتا‘‘ قرار دینے والی پوسٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
3۔ ایمان عبدالہادی کی سوشل میڈیا پوسٹس اور خاندانی روابط
عبدالسید کی مادری سوتیلی بہن اور یونیورسٹی آف شکاگو کی پروفیسر ایمان عبدالہادی کی2012اور2013کی پوسٹس میں خاندان کے اخوان المسلمون سے دیرینہ تعلقات، خاندان کے بعض افراد کی گرفتاریوں اور ان کی والدہ کی1970کی دہائی میں تنظیمی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
عبدالسید نے بعد میں ان بیانات کو سنی سنائی باتیں قرار دیا اور کہا کہ ان کی پرورش ان کی والدہ نے نہیں کی تھی۔ ان کے جواباتNBCاور میٹ دی پریس پر بھی زیر بحث آئے۔
- Washington Free Beacon — اصل سوشل میڈیا پوسٹس اور رپورٹ
- Washington Free Beacon — عبدالسید کا جواب اور مؤقف
- Daily Wire — خاندانی روابط پر رپورٹ
- College Fix — ایمان عبدالہادی کے بیانات پر رپورٹ
- New York Post — خاندان اور والدہ سے متعلق رپورٹ
- Fox News — سیاسی تنازع کی کوریج
- NBC News / Meet the Press — عبدالسید کا اپنا مؤقف
4۔ والدہ اور اسلامی امریکی امدادی ادارہ (IARA)
عدالتی دستاویزات میں فاتن الکومی کا1999سے2002کے درمیان مالی منتقلیوں اور رابطوں کے سلسلے میں ایک درجن سے زیادہ مرتبہ ذکر کیا گیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے2004میںIARAکو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد تنظیم(SDGT)قرار دیا تھا۔
تاہم فاتن الکومی پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ عبدالسید کی انتخابی مہم کے مطابق ان کی والدہ یتیم بچوں اور دیگر ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے کام کرتی تھیں۔Snopesنے اس معاملے میں اضافی سیاق و سباق اور اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کے غیر قانونی سرگرمیوں سے آگاہ ہونے کا ثبوت موجود نہیں ہے۔
- New York Post — والدہ سے متعلق تحقیق
- Snopes — دعووں کا جائزہ اور اہم وضاحتیں
- Newsweek — والدہ سے متعلق انتخابی مباحثے کا پس منظر
- Israel Hayom — متعلقہ رپورٹ
- The Midwesterner — عدالتی دستاویزات کا جائزہ
- U.S. Treasury — IARA کی2004کی نامزدگی کا سرکاری ریکارڈ
5۔ سسر طیب جوکاکو،ISNA، CAIR اور انتخابی فنڈنگ
طیب جوکاکو کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہISNAکی بانی کمیٹی میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیتے رہے اور2005سے2010تکCAIR-Michiganکے صدر بھی رہے، جبکہ بعد میں بورڈ میں بھی شامل رہے۔ 2007–2008 کے ہولی لینڈ فاؤنڈیشن مقدمے میں دونوں تنظیموں کو ایسے غیر ملزم شریک سازشیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
عبدالسید کی حمایت کرنے والی Fighting for Michigan PAC کو جوکاکو کی جانب سے کم از کم دو لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ بعد کی رپورٹنگ میں یہ رقم تقریباً تین لاکھ ڈالر بتائی گئی۔
- Washington Free Beacon — سسر کے تنظیمی روابط اور فنڈنگ
- Washington Free Beacon — مزید ایک لاکھ ڈالر کے عطیے کی رپورٹ
- American Almanac — تنظیمی اور مالی روابط
- JFeed — سینیٹ کی سماعتوں اور متعلقہ بیانات
- Federal Election Commission — انتخابی مالی ریکارڈ
6۔ اخوان المسلمون سے منسلک افراد کے براہِ راست انتخابی عطیات
انتخابی ریکارڈ کے جائزے میں ایسے عطیہ دہندگان کا ذکر کیا گیا ہے جن میں مصر کی اخوان المسلمون کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے سابق ترجمان، ہولی لینڈ فاؤنڈیشن مقدمے سے متعلق اخوان المسلمون کے رہنماؤں کی ڈائریکٹری میں شامل افراد اور لائف فار ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ سے وابستہ بعض شخصیات شامل ہیں۔ عطیات کی مجموعی رقم چند ہزار ڈالر بتائی گئی ہے۔
- Washington Free Beacon — عطیہ دہندگان کی تحقیق
- Senate Leadership Fund — انتخابی عطیات کا خلاصہ
- American Almanac — متعلقہ عطیات اور روابط
- Federal Election Commission — انتخابی مالی ریکارڈ
دستاویزی ذرائع — حصہ دوم
ایران سے وابستہ شخصیات، حسن پائیکر، علمی تحقیق، ٹیمپل اسرائیل حملہ، فلاحی اداروں اور پاسدارانِ انقلاب سے متعلق بیانات
7۔ امام محمد علی الٰہی کے ساتھ انتخابی سرگرمیاں
عبدالسید اور امام محمد علی الٰہی کی مشترکہ سرگرمیوں میں2026کی مسجد میں منعقدہ تقریب، بین المذاہب گول میز کانفرنس اور فنڈ ریزنگ تقریب شامل بتائی گئی ہیں۔ اس سے پہلے2018میں بھی دونوں کے مشترکہ پروگرام کا ذکر کیا گیا ہے۔
امام الٰہی کے9/11سے متعلق بیانات، ایرانی بحریہ کے سیاسی و نظریاتی شعبے میں ان کی سابقہ ذمہ داری اور ایران کی شہداء فاؤنڈیشن سے ان کے روابط پر مختلف اداروں نے رپورٹس شائع کی ہیں۔
8۔ حسن پائیکر کے ساتھ سیاسی تعلق اور بیانات سے لاتعلقی
عبدالسید کی حسن پائیکر کے ساتھ مشترکہ انتخابی سرگرمیوں اور ان کے متنازع بیانات پر مختلف امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹنگ کی۔ حسن پائیکر نے9/11کے حوالے سے اپنے بعض بیانات کی وضاحت یا واپسی بھی کی۔ بعد میں عبدالسید نے ان کے بعض مخصوص بیانات سے فاصلہ اختیار کیا، تاہم مکمل اور مستقل لاتعلقی کا معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بنا رہا۔
- POLITICO — ابتدائی سیاسی تعلق اور لاتعلقی کا معاملہ
- Associated Press — بعد کے بیانات اور ردعمل
- Snopes — 9/11 سے متعلق بیان کی اصل نسبت کی وضاحت
- POLITICO — 9/11 کے بیان سے لاتعلقی
- The Guardian — انتخابی مہم اور سیاسی تناظر
- Fox News — انتخابی ردعمل
- CNN — حسن پائیکر اور عبدالسید کے تعلقات پر رپورٹنگ
- Axios — سیاسی مہم اور تنازع
9۔2011کا علمی مقالہ:نسلی گروہوں کے درمیان شادی اور قبل از وقت پیدائش
مقالے کا عنوان تھا: Interethnic mating and risk for preterm birth among Arab-American mothers۔ یہ عبدالسید اور سینڈرو گالیا کی مشترکہ تحقیق تھی، جو Journal of Immigrant and Minority Health میں شائع ہوئی۔
مشی گن میں2000سے2005کے پیدائشی اعداد و شمار کے تجزیے میں عرب نژاد ماؤں کے ہاں غیر عرب والد کی موجودگی کے ساتھ قبل از وقت پیدائش کے امکانات میں معمولی اضافے کا تعلق سامنے آیا:مجموعی قبل از وقت پیدائش کے لیے OR 1.18 اور دیر سے قبل از وقت پیدائش کے لیے OR 1.24۔ تحقیق میں ممکنہ جینیاتی، سماجی اور ثقافتی عوامل پر گفتگو کی گئی اور مزید تحقیق کی ضرورت بھی بیان ہوئی۔
ناقدین نے اس تحقیق کے نسلی اور یوجینکس سے متعلق ممکنہ تاثر پر تنقید کی ہے، تاہم اصل مقالہ اپنی حدود اور متبادل توضیحات کا بھی ذکر کرتا ہے۔
10۔ ٹیمپل اسرائیل پر حملے کے بعد عبدالسید کا بیان اور معذرت
مارچ2026کے حملے کے بعد عبدالسید کے ’’Hurt people hurt people‘‘ کے بیان اور چھ ہزار میل دور ہونے والے واقعات سے اس کے تعلق پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ بعد میں انہوں نے اس بیان کے وقت اور اس کے اثرات پر معذرت کی، تاہم تشدد کے سلسلوں سے متعلق اپنے وسیع تر مؤقف پر قائم رہے۔
- Associated Press — بیان اور معذرت
- Jewish Telegraphic Agency — یہودی ڈیموکریٹس کے سامنے معذرت
- The Detroit News — بیان پر ردعمل
- PolitiFact — حملے اور مؤقف کا جائزہ
- Times of Israel — حملے اور سیاسی ردعمل
- Fox News — اٹارنی جنرل ڈانا نیسل کے تبصرے
- Daily Signal — متعلقہ سیاسی تنقید
11۔ والد اور لائف فار ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ کا معاملہ
ڈاکٹر محمد السید کے اس فلاحی ادارے کے بورڈ میں شامل ہونے اور ادارے کے خلافOFACکے780,000ڈالر کے تصفیے سے متعلق رپورٹس میں ستمبر2002سے مارچ2003تک عراق میں رقوم کی منتقلی کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔ متعلقہ رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں ادارے کے خلاف کارروائی ہوئی، تاہم عبدالسید کے والد پر ان منتقلیوں کے سلسلے میں ذاتی طور پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
12۔ حزب اللہ سے متعلق بیانیہ، جینک اویغور اور نازی پروپیگنڈے کا الزام
اس نکتے کا بنیادی مواد دیگر نکات کی نسبت زیادہ تر سیاسی تبصروں اور رائے پر مبنی ہے۔ عبدالسید کے خلاف مخصوص نازی دعووں کو ذاتی طور پر دہرانے یا جینک اویغور کے اشتہار میں پیش کیے گئے ہر دعوے کی براہِ راست تائید کرنے کا کوئی ایک مضبوط بنیادی دستاویزی حوالہ فراہم نہیں کیا گیا۔
متعلقہ بحث میں اسرائیل اور ایران سے متعلق مؤقف، انتخابی اشتہارات اور ان میں مبینہ یہود مخالف اشاروں پر ہونے والی تنقید شامل ہے۔ اس لیے اس حصے کو مصنف کی سیاسی تشریح کے طور پر پڑھنا چاہیے، ثابت شدہ دستاویزی نتیجے کے طور پر نہیں۔
- ArcaMax — ڈیوڈ ہرسنی کا سیاسی کالم
- دیگر متعلقہ انتخابی اشتہارات اور سیاسی بیانات کی کوریج
13۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز(IRGC)اور مائیک راجرز کے ساتھ مباحثہ
مشی گن یونیورسٹی میں ایک ایرانی نژاد طالب علم نے عبدالسید سے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز اور اسلامی جمہوریہ کی واضح مذمت کا مطالبہ کیا۔ طالب علم نے اپنے خاندان کو ایرانی حکومت کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا حوالہ بھی دیا۔ عبدالسید نے امریکہ کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی قیادت کا فیصلہ کرنا ایرانی عوام کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عمومی طور پر جمہوری تحریکوں کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔
ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے ساتھ مباحثے میں اسرائیل اور ایران میں سے امریکہ کے لیے زیادہ بڑا خطرہ کون ہے، اس سوال پر عبدالسید نے اسے ایک غیر مناسب فرضی سوال قرار دیا۔ ان کے مطابق دونوں نے اپنے اپنے انداز میں خطرناک رویہ دکھایا ہے، جبکہ اسرائیل پر انہوں نے امریکہ کو ایک غیر ضروری جنگ میں گھسیٹنے کا الزام بھی عائد کیا۔
- The Post Millennial — یونیورسٹی آف مشی گن میں سوال و جواب کی رپورٹ
- National Review — IRGC سے متعلق سیاسی مؤقف
- JNS — ایران اور اسرائیل سے متعلق انتخابی مباحثہ
- New York Post — عبدالسید کے بیانات اور انتخابی تنقید
- CBS News — مائیک راجرز کے ساتھ مباحثے کی رپورٹ
- USA Today — مباحثے کا جائزہ
- Times of Israel — اسرائیل اور ایران سے متعلق مؤقف
- Jerusalem Post — انتخابی مباحثے کی کوریج
- Forward / Jewish Telegraphic Agency — یہودی برادری کے ردعمل اور مباحثے کی رپورٹنگ
- متعلقہ یونیورسٹی تقریب اور مباحثے کی ویڈیو ریکارڈنگز
یہ فہرست مختلف نوعیت کے مواد پر مشتمل ہے، جن میں اصل علمی تحقیق، سرکاری مالی ریکارڈ، عدالتی دستاویزات، صحافتی رپورٹس، سیاسی تنظیموں کے بیانات اور رائے پر مبنی مضامین شامل ہیں۔ ان سب کی قانونی اور تحقیقی حیثیت یکساں نہیں۔
