• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ
مضمون/کالم

امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرنومبر 4, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

نیویارک اردو⁦|⁩امریکہ کی ڈائری

ٹرمپ کی شکست⁦:⁩غرور، جنگ اور اتحادیوں سے دوری

امریکی عوام کا فیصلہ، ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں کا جائزہ

شعیب عادل

شعیب عادل

امریکی سیاست میں عوامی فیصلے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتخابی نتائج صرف حکومتوں کی کارکردگی نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں، طرزِ حکمرانی اور عالمی تعلقات پر بھی عوامی ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی سیاسی مشکلات کے پس منظر میں بھی یہی عوامل نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان وقت کا تقریباً دس گھنٹے کا فرق ہے۔ رات کو میں ابتدائی نتائج دیکھ کر سو گیا۔ سوچا کہ رات کو جاگ کر کیا کرنا ہے، صبح اٹھ کر نتیجہ دیکھ لوں گا، جب صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی ہوگی۔ بہرحال، صبح اٹھ کر دیکھا تو جہاں امریکی عوام خوشی سے ناچ رہے ہیں، وہیں پاکستانی بھی پھولے نہیں سما رہے۔

امریکی عوام نے تو ایران جنگ اور مہنگائی کے خلاف ووٹ دیا ہے، جبکہ پاکستانی عوام کو ان مسائل سے کوئی واسطہ نہیں۔ پاکستان میں مہنگائی اس وقت ہوتی ہے جب پیپلز پارٹی یا نواز لیگ میں سے کوئی ایک یا دونوں اپوزیشن میں ہوں۔ اب چونکہ دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں، اس لیے نہ کوئی مہنگائی ہے اور نہ ہی دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ٹرمپ کی شکست کے اسباب

ٹرمپ کی شکست کی وجہ اس کی اپنی پالیسیاں ہیں، جن میں پہلے نمبر پر غیر ملکی اشیا پر ٹیرف بڑھانا ہے، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں۔ دوسرا ایران پر حملہ، جس کی وجہ سے تیل، گیس اور فرٹیلائزر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

2024ء کی انتخابی مہم میں صدر ٹرمپ اور جے ڈی وینس گروسری اسٹورز کے باہر کھڑے ہو کر عوام کو بتاتے تھے کہ بائیڈن دور میں اشیا کی قیمتیں کس قدر بڑھ گئی ہیں اور عوام بہت پریشان ہیں۔ ان کا وعدہ تھا کہ میں اقتدار میں آتے ہی⁦24⁩گھنٹوں میں نہ صرف قیمتیں کم کر دوں گا بلکہ روس یوکرین جنگ بھی رکوا دوں گا اور کوئی نئی جنگ شروع نہیں کروں گا۔

ٹرمپ کی سیاست کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ انتخابی مہم میں مہنگائی اور جنگیں ختم کرنے کے وعدے کیے گئے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہی مسائل نے ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔

نرگسیت اور تنہا فیصلوں کی سیاست

ٹرمپ کی شکست کی ایک وجہ اس کا حد سے زیادہ نرگسیت پسند ہونا بھی ہے۔ وہ ایک کامیاب پراپرٹی ڈیلر ہے۔ اگر کوئی پراپرٹی ڈیلر مہینے میں دو پلاٹ بھی بیچ لیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو دنیا کا عقل مند ترین شخص سمجھنے لگتا ہے۔ یہی حال ٹرمپ کا ہے۔ اس نے تمام فیصلے تن تنہا کیے اور اپنے مشیروں کی بھی نہیں سنی۔

اس کا خیال ہے کہ جتنا وہ دنیا کو سمجھتا ہے، اتنا کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے مشیروں نے ٹیرف نہ لگانے کی تجویز دی تھی، جسے اس نے رد کر دیا اور نام نہاد ’’لبریشن ڈے‘‘ منایا۔ پھر ایک سال بعد سپریم کورٹ نے بھی ٹیرف کو مسترد کر دیا تھا، لیکن ٹرمپ نے اس فیصلے کو بھی تسلیم نہ کیا۔

عدالتیں جو فیصلے ٹرمپ کے حق میں کرتی ہیں، وہ درست ہیں اور جو فیصلے اس کے خلاف ہوں، اس کے نزدیک وہ فیصلے ہی غلط ہیں۔

ٹرمپ کا طرزِ حکمرانی مشاورت کے بجائے اپنی ذات پر غیر معمولی اعتماد اور تنہا فیصلوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ یہی طرزِ سیاست بالآخر اس کے لیے سیاسی بوجھ بن سکتا ہے۔

عالمی نظام اور اتحادیوں سے ٹرمپ کی دوری

دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے جو عالمی نظام (World Order) تشکیل دیا تھا، اس پر ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں اتفاق کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں، لیکن ٹرمپ نے اس نظام کو بھی اپنی نرگسیت کی بھینٹ چڑھا دیا۔

دنیا میں امریکہ کی طاقت کا ایک بڑا سبب اس کے اتحادی تھے۔ اگر آپ کے اتحادی طاقتور ہیں تو آپ بھی طاقتور ہیں، لیکن ٹرمپ نے طاقت کے نشے میں چور ہو کر ہر اتحادی کے ساتھ نفرت آمیز سلوک کیا اور ان پر بھاری ٹیرف عائد کیے۔

ٹرمپ کو دنیا میں صرف تین ہی حکمران پسند ہیں⁦:⁩صدر پوٹن، صدر شی اور صدر کم جونگ اُن، جو آمرانہ طرزِ حکمرانی کے لیے معروف ہیں۔ صدر ٹرمپ بھی انہی جیسا بننے کی کوشش کرتے رہے۔ جو صدر کی چاپلوسی نہیں کرتا، اسے دھتکار دیا جاتا ہے، چاہے وہ اپنی پارٹی کا رہنما ہو یا کوئی عالمی سربراہ۔

مودی سے لے کر یورپی رہنماؤں، جاپانی، کوریائی، آسٹریلوی اور کینیڈین قیادت تک، ٹرمپ نے متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جسے سفارتی آداب اور اتحادی تعلقات کے منافی سمجھا گیا۔

امریکہ کی عالمی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں اور معیشت میں نہیں، بلکہ اس کے اتحادیوں کے اعتماد اور مشترکہ عالمی نظام میں بھی پوشیدہ ہے۔

ایران جنگ اور اتحادیوں کو نظرانداز کرنے کی قیمت

ماضی میں امریکی صدور کسی بھی غیر ملکی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس اور پھر اپنے اتحادیوں سے مشاورت کرتے تھے اور متفقہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو نظرانداز کر دیا۔

ایران پر حملے کے معاملے میں کانگریس سے مشاورت تو دور کی بات، ٹرمپ نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سفارشات پر بھی عمل نہیں کیا۔ اس کے بعد جب ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تو ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں کو طعنے دینے شروع کر دیے کہ وہ اس کی مدد نہیں کر رہے۔

یہ صورتحال امریکی خارجہ پالیسی کے ایک بنیادی تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنے اتحادیوں سے تعاون اور حمایت کی توقع رکھتا ہے، دوسری طرف ان سے مشاورت کیے بغیر ایسے فیصلے کرتا ہے جن کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔

امریکہ کی عالمی قیادت کا امتحان

ٹرمپ کی سیاست کا اصل سوال صرف انتخابی کامیابی یا شکست کا نہیں، بلکہ امریکہ کے عالمی کردار کا بھی ہے۔ معاشی فیصلے، ایران کے ساتھ جنگ، اتحادیوں سے کشیدگی اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نے امریکی قیادت کے اس تصور کو چیلنج کیا ہے جس کی بنیاد دوسری عالمی جنگ کے بعد رکھی گئی تھی۔ امریکہ کی طاقت کا انحصار صرف اس بات پر نہیں کہ وہ کتنی فوجی یا معاشی قوت رکھتا ہے، بلکہ اس پر بھی ہے کہ دنیا اس کی قیادت پر کتنا اعتماد کرتی ہے۔

شعیب عادل

شعیب عادل
کالم نگار⁦|⁩امریکہ کی ڈائری
امریکہ کی ڈائری — شعیب عادل
ٹرمپ، ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی انتخابات، امریکی سیاست، ایران جنگ، آبنائے ہرمز، امریکی معیشت، مہنگائی، تجارتی محصولات، ریپبلکن پارٹی، امریکی اتحادی، شعیب عادل، امریکہ کی ڈائری شعیب عادل
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleعبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات
Next Article ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.