امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کے درمیان اٹلی کے دارالحکومت روم میں مذاکرات کے پہلے روز کا دور منگل کو مکمل ہو گیا، جبکہ بات چیت کا سلسلہ بدھ کی صبح دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ دونوں فریق ایک وسیع تر سیکیورٹی معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے کوشاں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سفارت خانے میں دو الگ الگ اجلاس منعقد ہوئے۔ سفارتی مذاکرات کاروں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان زمینی سرحدوں کے تعین پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ فوجی نمائندوں نے مستقبل میں اسرائیلی افواج کے انخلا کی تصدیق کے طریقہ کار اور اس عمل کی نگرانی کے لیے کسی تیسرے فریق کے ممکنہ کردار پر غور کیا۔
لبنان نے اپنے ایجنڈے میں جنگ بندی، سرحدی حد بندی اور اسرائیلی انخلا کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر نگرانی کے نظام کو اولین ترجیح دی ہے۔ بیروت نے موجودہ”پائلٹ زونز”کو جنوبی لبنان کے شہروں بنت جبیل اور خیام تک توسیع دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
پائلٹ زون منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج مخصوص علاقوں سے انخلا کرتی ہیں اور ان کی جگہ لبنانی مسلح افواج تعینات ہو کر سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں، جبکہ حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کو دوبارہ اپنی عسکری موجودگی قائم کرنے سے روکا جاتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کا موجودہ دور جمعرات تک جاری رہے گا۔ واشنگٹن نے دونوں ممالک کے لیے دیرپا سلامتی کے قیام، اسرائیل کو درپیش خطرات کے خاتمے اور جنوبی لبنان میں لبنانی حکومت کی مکمل عملداری بحال کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
مذاکرات میں اسرائیلی وفد کی قیادت امریکا میں اسرائیل کے سفیر یخیئیل لیٹر کر رہے ہیں، جبکہ لبنانی وفد کی قیادت سابق سفیر سائمن کرم کے سپرد ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ان مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں”ذلت آمیز رعایتیں”قرار دیا ہے۔ ان کے بیان کو لبنان کی حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جاری سیاسی اور سیکیورٹی کشمکش کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کا عمل اب بھی نازک مرحلے میں ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل انخلا کے لیے حزب اللہ کے عسکری خطرے کا خاتمہ ضروری ہے، جبکہ لبنانی حکام ان علاقوں پر مکمل قومی خودمختاری بحال کرنا چاہتے ہیں جہاں حزب اللہ کئی دہائیوں سے اسلحہ، سرنگوں اور عسکری ڈھانچے قائم کیے ہوئے ہے۔

