سعودی کابینہ نے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت اجلاس میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد میں شمولیت اور اس کی حمایت کے لیے بڑھتی ہوئی عالمی تائید کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والے کابینہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ اتحاد بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں بین الاقوامی بحری راستوں، تجارتی گزرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کے لیے مشترکہ تعاون کا مؤثر نظام قائم کرنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا ہے، تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
کابینہ نے غزہ میں ہتھیار ختم کرنے سے متعلق تاریخی معاہدے کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت ایک جامع سیاسی عمل کا آغاز ثابت ہوگی۔
بیان میں مصر، قطر، ترکیہ، امریکہ اور امن کونسل کی جانب سے اس معاہدے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے کابینہ کو آگاہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اس کے مختلف علاقائی و عالمی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کابینہ نے اس موقع پر کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن اور علاقائی استحکام کے لیے تمام فریقوں کو سیاسی و سفارتی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، شام کے صدر احمد الشرع، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے ساتھ ہونے والے ٹیلی فونک رابطوں سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا۔ ان گفتگوؤں میں دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی کابینہ نے انسانی امدادی سرگرمیوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ اپریل میں پانچواں ریاض انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین فورم منعقد کیا جائے گا، جو عالمی سطح پر انسانی امداد، پائیدار شراکت داری اور متاثرہ افراد تک امداد کی فراہمی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
اجلاس میں مختلف قومی پروگراموں اور حکومتی حکمت عملیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے پروگرام”خدمت ضیوف الرحمن”کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت حجاج کرام اور عمرہ زائرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو حرمین شریفین اور ان کے مہمانوں کی خدمت کے لیے سعودی قیادت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
کابینہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب زائرین کی آمد سے روانگی تک بہترین خدمات، سہولیات اور انتظامات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتا رہے گا۔
اجلاس میں2026کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کی آرٹیکل فور مشاورتی رپورٹ کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ رپورٹ میں سعودی معیشت کی مضبوط بنیادوں، اقتصادی تنوع، مالیاتی و زری استحکام، طویل المدتی منصوبہ بندی اور وژن2030کے تحت نافذ اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ ان اقدامات نے گزشتہ دہائی میں معاشی ترقی، ادارہ جاتی بہتری، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں پیش رفت ممکن بنائی ہے۔

