امریکا کی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری کے موقع پر امیدوار عبدالصمد السید(عبدل السید)کو ایک متنازع مذہبی رہنما کی حمایت ملنے کے بعد نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔ایک امریکی رپورٹ کے مطابق ڈیئربورن ہائٹس سے تعلق رکھنے والے امام حسن قزوینی نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ پرائمری انتخابات میں عبدل السید کے حق میں ووٹ ڈالیں۔
رپورٹ کے مطابق24جولائی کے ایک خطبے میں حسن قزوینی نے عبدل السید کی حریف کانگریس رکن ہیلی اسٹیونز کو اسرائیل کا”کٹھ پتلی”قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا میں اسرائیل نواز لابی مالی اثر و رسوخ کے ذریعے قانون سازوں کی حمایت حاصل کرتی ہے۔ انہوں نے عبدل السید کو ووٹ دینا”اخلاقی ذمہ داری”اور”مذہبی فریضہ”بھی قرار دیا۔
حسن قزوینی نے اپنے خطاب میں مشی گن کے ووٹروں سے کہا کہ وہ اسرائیل نواز لابی کے مبینہ منصوبوں سے ہوشیار رہیں اور منگل کو ووٹ ڈال کر ایسے امیدوار کو کامیاب کریں جو ان کے بقول ریاست اور مقامی برادری کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہو، نہ کہ اسرائیل کے مفادات کی۔
رپورٹ کے مطابق حسن قزوینی نے گزشتہ ہفتے باضابطہ طور پر عبدل السید کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ عبدل السید نے بھی جون میں قزوینی کے اسلامک انسٹی ٹیوٹ آف امریکا کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے قزوینی کو مبارک باد دی اور ادارے کی تعریف کی۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حتیٰ کہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز، جو عبدل السید کے نمایاں حامیوں میں شمار ہوتے ہیں، وہ بھی ماضی میں حسن قزوینی پر سخت تنقید کر چکے ہیں۔2020میں سینڈرز نے قزوینی پر”یہود مخالف سازشی نظریات”پھیلانے اور”زہریلے”بیانات دینے کا الزام عائد کیا تھا، جب قزوینی نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل داعش کی مالی معاونت کرتا ہے اور یہ تنظیم مسلم دنیا میں صہیونی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق2024میں حسن قزوینی نے انسدادِ یہود دشمنی سے متعلق قانون کی حمایت کرنے والے امریکی قانون سازوں کے خلاف بھی سخت بیانات دیے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حسن قزوینی کی حمایت ڈیموکریٹک پرائمری میں عبدل السید کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، تاہم عام انتخابات میں ایک متنازع مذہبی شخصیت سے قربت ان کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریپبلکن جماعت پہلے ہی عبدل السید کو ایک”انتہا پسند”امیدوار قرار دے رہی ہے اور ان کے بعض متنازع کارکنوں اور شخصیات سے روابط کو انتخابی مہم میں موضوع بنا سکتی ہے۔

