روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے خاموش سفارتی کوششوں میں مصروف ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے ایک مؤثر ذریعے کا کردار ادا کر رہا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے”تاس”کو دیے گئے انٹرویو میں فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان سفارت کاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے اور یہی اصول اس کی خارجہ پالیسی اور عملی اقدامات کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک کے ساتھ اس کے رابطے کے ذرائع مسلسل کھلے ہوئے ہیں۔
پاکستانی سفیر کے مطابق بعض معاملات پر کھلے عام بات چیت کی جاتی ہے، جبکہ حساس نوعیت کے امور کو غیر اعلانیہ سفارتی چینلز کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں سفارتی رابطے جاری ہیں۔
فیصل نیاز ترمذی نے مزید کہا کہ گزشتہ جون میں اسلام آباد سے متعلق دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت(ایم او یو)پاکستان کی سفارتی کوششوں کی مؤثریت کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کسی بھی تنازع کے پائیدار حل کے لیے زیادہ سے زیادہ علاقائی فریقوں کی شمولیت ضروری ہے، کیونکہ اس سے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
پاکستانی سفیر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطوں کے حوالے سے متضاد مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں کر رہا، بلکہ اس کی بات چیت صرف سلطنت عمان کے ساتھ جاری ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کے لیے طریقہ کار طے کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت60روزہ عمل شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم تنازعات کا سفارتی حل تلاش کرنا تھا۔ اس معاہدے کے بعد کچھ عرصے کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو گئی تھی، تاہم جولائی کے آغاز میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے یہ پیش رفت متاثر ہوئی۔
بعد ازاں امریکی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دیں، جبکہ ایرانی اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو بار بار حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

