امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے پیر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی دوبارہ توثیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج اب بھی ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر حملہ مؤخر کرنے کے صدر ٹرمپ کے فیصلے سے فوجی تیاری میں کوئی کمی نہیں آئی۔
ہیگستھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وزارتِ جنگ ایسی سطح کی تیاری برقرار رکھے ہوئے ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے نہیں دیکھی گئی، اور امریکی فوج ہر لحاظ سے تیار ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران پر مزید حملے عارضی طور پر روکنے کے بعد ایرانی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا۔ ٹرمپ نے اتوار کی رات نیو جرسی سے واشنگٹن جاتے ہوئے ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مذاکرات پیر کے روز ہونے والے ہیں، تاہم انہوں نے مذاکرات کی جگہ، دورانیے یا اس میں شریک افراد کے حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر دہرایا کہ امریکی فوج نے آخری لمحے میں ایران پر حملوں کی نئی لہر کا منصوبہ منسوخ کیا، جس کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی جانب سے درخواستیں کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ بند حملہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا حملہ ہوتا اور ایران کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے حملے اس لیے روکے کیونکہ امریکہ کے اتحادیوں نے بتایا کہ معاہدہ طے پانے کے امکانات قریب ہیں، جبکہ ایران نے بھی معاہدے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ نے جون کے وسط میں ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کا مقصد فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ تھا، تاہم اب تک ایران کی جانب سے ایسا کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جس سے ظاہر ہو کہ معاہدہ قریب پہنچ چکا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ پیش رفت سے قبل کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت مستقبل میں تہران کی خارجہ پالیسی کا محور ہوگی۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں پزشکیان نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت ایران اور خطے کی سلامتی کو مضبوط کرے گی۔
ٹرمپ کے اعلان سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات اختتامی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے نئے راستے پر اتفاق کا موجودہ راستے کھولنے یا بند کرنے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ وزارت کے مطابق طے پانے والا راستہ موجودہ شمالی یا جنوبی راستہ نہیں ہوگا بلکہ ایک نیا راستہ ہوگا جس پر دونوں ممالک باہمی طور پر اتفاق کریں گے۔
ٹرمپ اس سے قبل کئی بار دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لائیں گے، جو انہوں نے فروری کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی تھی، تاہم مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی خاطر انہوں نے حملوں میں اضافہ نہیں کیا۔

