واشنگٹن:امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے تجارتی بحری جہازوں اور خطے کے ممالک پر حملے جاری رکھے تو امریکہ اس کا دس گنا زیادہ شدید فوجی جواب دے گا۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور لبنانی صدر جوزف عون کی ملاقات کے موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران نے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے تمام مواقع ضائع کر دیے ہیں، جس کے باعث گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت بھی معطل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس موجودہ کشیدگی سے نمٹنے کے لیے متعدد آپشنز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو دروازہ کھلا ہے، لیکن اگر اس نے جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اسے امریکی وزارت دفاع کی بھرپور طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی وزیر جنگ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بڑی مقدار میں ہتھیار موجود ہیں، جو خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، اسی لیے امریکہ سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے حملے جاری رکھے تو امریکہ”دن بدن اور رات در رات”اس پر دس گنا زیادہ شدید حملے کرے گا۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے اندر مسلسل دسویں رات بھی کارروائیاں کیں، جن کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائیوں کے دوران فوجی کمانڈ مراکز، بحری تنصیبات، ڈرون لانچنگ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر ایران نے کویت، بحرین اور اردن کو نشانہ بنانے والے نئے حملوں کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد17جون کو طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت عملاً ختم ہو گئی۔ اس یادداشت کے تحت ایرانی جوہری پروگرام اور دیگر متنازع امور پر مذاکرات کا آغاز ہونا تھا تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

