ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خلیجی خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ کویتی فوج نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب اعلان کیا کہ اس کا فضائی دفاع ایرانی ڈرون حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہا ہے۔
کویت کی جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی جارحیت کے بعد کویت کا فضائی دفاع دشمن کے ڈرون حملوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہے۔ فوج نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں، پرسکون رہیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں حکام سے تعاون کریں۔
ادھر بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بھی فضائی خطرات کے پیش نظر خطرے کے سائرن بجانے کا اعلان کیا۔ وزارت کی جانب سے جاری بیان میں تمام شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ گھبرانے کے بجائے قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہوں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کریں۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کے شہر عقبہ کے ہوائی اڈے پر موجود امریکی فوج کے طیاروں کو نشانہ بنایا، جس سے انہیں نقصان پہنچا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی اس دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی اطلاع نشر کی۔
پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے شام کے علاقے التنف میں امریکی فوج کے ایک اڈے پر حملہ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ایران کے جنوب مشرقی شہر ایرانشہر کے علاقے بمپور میں فوجی چھاؤنی پر ہونے والی بمباری کے جواب میں دشمن کے اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔
تاہم اس دعوے پر شکوک بھی پائے جاتے ہیں۔ امریکی فوج فروری میں اعلان کر چکی تھی کہ وہ التنف اڈے سے انخلا کر کے اسے شامی فوج کے حوالے کر چکی ہے۔ مزید برآں، ایک شامی فوجی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ عراق، اردن اور شام کی سرحدی تکون پر واقع اس مقام پر کسی قسم کی بمباری نہیں ہوئی۔

