واشنگٹن ڈی سی: امریکی مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل(AMMWEC)کے زیر اہتمام دوسری سالانہ نیشنل کولیشن اگینسٹ اینٹی سیمیٹزم اینڈ ہیٹ کانفرنس کا انعقاد واشنگٹن ڈی سی میں کیا گیا، جس میں امریکی کانگریس کے اراکین، امریکی محکمہ انصاف کے اعلیٰ حکام، شہری حقوق کے ماہرین، بین المذاہب رہنماؤں اور70سے زائد قومی و بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے مذہبی نفرت، انتہا پسندی اور یہودی مخالف تعصب کے خلاف مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے لیےAMMWECکی کاوشوں کو سراہا اور بین المذاہب ہم آہنگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
کانفرنس کی نمایاں تقریب کے دوران ابراہام پبلشنگ اینڈ ریسرچ سینٹر (Abraham PRC) کی جانب سے کتاب "O’ Jerusalem: The Witness Delegations—Truth, Faith & Oct. 7” کی رونمائی کی گئی۔ کتاب میں ان مسلم صحافیوں، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور بین المذاہب کارکنوں کی عینی شہادتیں شامل ہیں جنہوں نے7اکتوبر کے حملوں سے قبل اور بعد میں اسرائیل کا دورہ کیا اور اپنے مشاہدات کو سیاسی بیانیے کے بجائے ذاتی تجربات کی بنیاد پر قلم بند کیا۔
کانفرنس کی نظامتAMMWECکی بورڈ رکن سیماب آصف نے کی، جبکہ افتتاحی تقریب میں مسلم، یہودی اور مسیحی مذہبی رہنماؤں نے مشترکہ طور پر”ابراہامی دعا برائے امن”کرائی۔ اس کے بعد امریکہ کی آئندہ250ویں سالگرہ کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔
امریکی محکمہ انصاف کی**ٹاسک فورس ٹو کامبیٹ اینٹی سیمیٹزم**کے چیئرمین لیو ٹیرل نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہودی مخالف تعصب کا خاتمہ سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا،”میں یہاں نہ ریپبلکن کی حیثیت سے آیا ہوں اور نہ ڈیموکریٹ کی حیثیت سے۔ اینٹی سیمیٹزم کا مسئلہ سیاست کا نہیں بلکہ حق اور باطل کا معاملہ ہے۔”کانفرنس سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان گریگ اسٹینٹن اور بریڈ شنائیڈر نے بھی خطاب کیا، جبکہ ڈاکٹر انیلا علی اور معروف مصنفہ دارا ہارن کے درمیان خصوصی گفتگو بھی ہوئی۔ اس کے علاوہ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ(ADL)اور انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف گلوبل اینٹی سیمیٹزم اینڈ پالیسی(ISGAP)کے ڈاکٹر چارلس ایشر اسمال نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اجلاس میں جامعات میں بڑھتے ہوئے یہودی مخالف رجحانات، امن کے قیام میں مسلم خواتین کے کردار، ڈیجیٹل انتہا پسندی اور بین الاقوامی مذہبی آزادی جیسے موضوعات پر مختلف نشستیں منعقد کی گئیں۔
کانفرنس کے اہم سیشن میں کتاب **”O’ Jerusalem”** میں شامل مسلم وفد کے ارکان نے اپنے مشاہدات بیان کیے۔ صحافی واجد علی سید کی نظامت میں ہونے والے اس پینل میں شرکاء نے اسرائیل، غزہ کے سرحدی علاقوں، مغربی کنارے، بیت اللحم اور7اکتوبر کے حملوں سے متاثرہ علاقوں کے دوروں کے تجربات بیان کیے۔
واجد علی سید نے کہا،”اس کتاب کا مقصد صرف گواہی دینا ہے۔ یہ ان مسلم آوازوں کی کہانیاں ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا، اسے سیاسی بیانیے یا پروپیگنڈے کے بجائے ذاتی تجربات کی بنیاد پر بیان کیا ہے۔”اختتامی خطاب میںAMMWECکی صدر ڈاکٹر انیلا علی نے بین المذاہب شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی اور باہمی احترام کے بغیر کسی بھی معاشرے میں حقیقی امن ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا،”اگر آپ محفوظ نہیں تو میں بھی محفوظ نہیں ہوں، اور جب تک یہودی برادری محفوظ نہیں ہوگی، نہ گرجا گھر، نہ مسجد، نہ کنیسہ اور نہ ہی مندر مکمل طور پر محفوظ ہو سکتے ہیں۔”کانفرنس کے اختتام پرAMMWECنے مسلم۔یہودی تعلقات کو مضبوط بنانے، مذہبی آزادی کے تحفظ اور نفرت و یہودی مخالف تعصب کے خلاف عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
