• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ٹرمپ انتظامیہ نے دو مزید میکسیکن کارٹیلز کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا
خصوصی رپورٹ

ٹرمپ انتظامیہ نے دو مزید میکسیکن کارٹیلز کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرمارچ 15, 2020Updated:جولائی 17, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

ٹرمپ انتظامیہ نے دو مزید میکسیکن کارٹیلز کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے میکسیکو کے دو جرائم پیشہ گروہوں جوریز کارٹیل (Juárez Cartel) اور لاس ویاگراس (Los Viagras) کو باضابطہ طور پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں (Foreign Terrorist Organizations) قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی رجسٹر میں اشاعت کے بعد نافذ العمل ہو گیا ہے اور اسے امریکہ کی جانب سے سرحد پار منشیات کی اسمگلنگ، کارٹیل تشدد اور منظم جرائم کے خلاف جاری مہم کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وفاقی قانون کے تحت دستیاب شواہد کی بنیاد پر دونوں تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ گروہ مختلف ناموں اور ذیلی تنظیموں کے ذریعے سرگرم رہے ہیں اور برسوں سے امریکہ اور میکسیکو کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق جوریز کارٹیل، Cartel de Juárez، La Línea، Vicente Carrillo Fuentes Organization اور Barrio Azteca کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، جبکہ لاس ویاگراس کو Cartel de Los Viagras اور Los Blancos de Troya سمیت دیگر ناموں سے بھی شناخت کیا جاتا ہے۔

کارٹیلز کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی سخت پالیسی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری⁦2025⁩میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بین الاقوامی منشیات فروش کارٹیلز کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ گروہ صرف منظم جرائم تک محدود نہیں رہے بلکہ دہشت گردی، قتل و غارت، اغوا، بھتہ خوری اور سرحدی سلامتی کو نقصان پہنچانے جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت کی پالیسی ان تنظیموں کی امریکہ میں موجودگی اور امریکی سرزمین، عوام اور قومی سلامتی کے لیے ان کے خطرات کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے۔

تازہ فیصلے کے بعد جوریز کارٹیل اور لاس ویاگراس بھی ان میکسیکن گروہوں میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں پہلے ہی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جا چکا ہے، جن میں سینالووا کارٹیل، جلیسکو نیو جنریشن کارٹیل، گلف کارٹیل، نارتھ ایسٹ کارٹیل، کارٹیلس یونیڈوس اور لا نیوا فامیلیا میچوکانا شامل ہیں۔

دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے قانونی اثرات

امریکی قانون کے تحت کسی گروہ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد ایسے افراد یا ادارے جو جان بوجھ کر ان تنظیموں کو مالی، مادی یا دیگر معاونت فراہم کریں، ان کے خلاف سنگین وفاقی فوجداری مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت کو ان گروہوں کے مالیاتی نیٹ ورکس منجمد کرنے، سفری پابندیاں عائد کرنے اور امریکہ کے اندر یا بیرون ملک ان سے وابستہ افراد کے خلاف مزید مؤثر کارروائی کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔

تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ کو خودکار طور پر میکسیکو میں فوجی کارروائی کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔

جوریز کارٹیل کی سرحدی سرگرمیاں

جوریز کارٹیل کو میکسیکو کی قدیم اور بااثر منشیات فروش تنظیموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ گروہ کئی دہائیوں سے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ایل پاسو سے متصل میکسیکو کے سرحدی شہر سیوداد جوریز پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جو منشیات، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی رقوم کی منتقلی کے لیے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

1990 کی دہائی میں یہ کارٹیل بدنام منشیات فروش اماڈو کاریلو فوینٹس، المعروف⁦”⁩لارڈ آف دی اسکائز⁦”⁩، کی قیادت میں انتہائی طاقتور بن گیا تھا۔ اگرچہ بعد میں قیادت کو شدید دھچکے پہنچے، تاہم تنظیم نے سرحدی اسمگلنگ کا اپنا وسیع نیٹ ورک برقرار رکھا۔

میچوکان میں لاس ویاگراس کا اثر و رسوخ

لاس ویاگراس بنیادی طور پر میکسیکو کی ریاست میچوکان میں سرگرم ہے، جہاں مختلف کارٹیل برسوں سے منشیات کی پیداوار، زرعی وسائل اور مقامی علاقوں پر قبضے کے لیے خونریز لڑائیاں لڑتے رہے ہیں۔

یہ گروہ⁦2013⁩اور⁦2014⁩کی مسلح عوامی بغاوتوں کے بعد وجود میں آیا اور بعد ازاں ایک منظم اور بھاری ہتھیاروں سے لیس مجرمانہ تنظیم میں تبدیل ہو گیا۔ امریکی حکام کے مطابق تنظیم نے بھتہ خوری، مسلح تشدد، اتحاد بدلنے اور مصنوعی منشیات کی تیاری کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کی قیادت نکولس سیرا سانتانا المعروف⁦”⁩ایل گورڈو⁦”⁩کر رہا ہے، جس پر امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ کے مقدمات درج ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس کی گرفتاری یا سزا میں مدد دینے والی معلومات پر⁦50⁩لاکھ ڈالر انعام بھی مقرر کر رکھا ہے۔

محکمہ انصاف کے مطابق لاس ویاگراس اور اس سے منسلک گروہ حملہ آور ہتھیاروں، دیسی ساختہ بموں، مسلح ڈرونز، بکتر بند گاڑیوں اور بعض غیر ملکی کرائے کے جنگجوؤں کا استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ اپنے زیر اثر علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔

میکسیکو پر بڑھتا ہوا امریکی دباؤ

تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام کی حکومت پر واشنگٹن کے ساتھ کارٹیلز، سرحد پار منشیات کی اسمگلنگ اور سیاسی بدعنوانی کے خلاف تعاون بڑھانے کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

اگرچہ میکسیکو ماضی میں ایسے امریکی اقدامات پر خودمختاری کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ فینٹینیل کی اسمگلنگ، کارٹیل تشدد اور غیر قانونی سرحدی سرگرمیاں اب صرف قانون نافذ کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ براہ راست امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی نامزدگیوں کا مقصد کارٹیل رہنماؤں، مالی معاونین، اسمگلروں اور ان کے سہولت کاروں کو اسی قانونی دباؤ میں لانا ہے جو ماضی میں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleاسرائیل کا لبنان، شام اور غزہ میں سکیورٹی زونز برقرار رکھنے کا اعلان
Next Article سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان پُرامن جوہری توانائی میں تعاون کا معاہدہ طے
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

ہیلے اسٹیونز نے مائیک راجرز کی حمایت کر دی

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.