واشنگٹن:امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان نے مشترکہ طور پر ’’رائٹ ٹو ورشپ ایکٹ‘‘ (Right to Worship Act) کے نام سے ایک وفاقی بل پیش کر دیا ہے، جس کا مقصد عبادت گاہوں کے اطراف مذہبی آزادی اور محفوظ رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
اس قانون کے تحت کسی بھی عبادت گاہ کے پیدل یا گاڑیوں کے داخلی راستے سے100فٹ کے دائرے میں ایسی سرگرمی ممنوع ہوگی جو جان بوجھ کر مقررہ مذہبی عبادات میں خلل ڈالے، عبادت کے لیے آنے والوں کی رسائی میں رکاوٹ بنے یا انہیں دھمکانے، خوفزدہ کرنے یا ہراساں کرنے کا سبب بنے۔ یہ پابندی عبادت کے مقررہ وقت کے علاوہ اس سے ایک گھنٹہ قبل اور ایک گھنٹہ بعد تک نافذ رہے گی۔
بل کی قیادت سینیٹر ایلیسا سلاٹکن(ڈیموکریٹ، مشی گن)، سینیٹر ٹیڈ کروز(ریپبلکن، ٹیکساس)، رکن کانگریس بریڈ ناٹ(ریپبلکن، شمالی کیرولائنا)اور رکن کانگریس ٹام سوزی(ڈیموکریٹ، نیویارک)کر رہے ہیں۔
یہ قانون ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب امریکہ بھر میں یہودی عبادت گاہوں(سیناگاگ)سمیت مختلف مذہبی اداروں کے باہر احتجاج، ہراسانی اور دھمکی آمیز واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق صرف وہی طرزِ عمل غیر قانونی تصور ہوگا جو عبادت میں نمایاں رکاوٹ پیدا کرے یا لوگوں کو عبادت میں شرکت سے روکنے، ڈرانے یا ہراساں کرنے کا باعث بنے۔ تاہم، پرامن احتجاج اور آئین کی پہلی ترمیم (First Amendment) کے تحت حاصل آزادیِ اظہار کے حقوق محفوظ رہیں گے، بشرطیکہ ان سے عبادت میں خلل نہ پڑے۔
قانون کی خلاف ورزی پر مرحلہ وار سول جرمانے عائد کیے جائیں گے، جبکہ متاثرہ افراد، امریکی اٹارنی جنرل یا ریاستی اٹارنی جنرل عدالت سے حکمِ امتناع اور ہرجانے کے لیے مقدمہ دائر کر سکیں گے۔ عبادت گاہوں کو اپنی عبادات کے اوقات عوامی طور پر ظاہر کرنے کا پابند نہیں بنایا جائے گا۔
سینیٹر ایلیسا سلاٹکن نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اپنی عبادت گاہ جانے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ’’رائٹ ٹو ورشپ ایکٹ‘‘ مذہبی اداروں کے100فٹ کے دائرے میں ایسے خلل انگیز رویوں کو روکے گا جو لوگوں کو دھمکانے یا عبادت سے روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں جماعتوں کے ارکان اس قانون کی منظوری کے لیے مل کر کام کریں گے۔
سینیٹر ٹیڈ کروز نے کہا کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم ہر شہری کو اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کا حق دیتی ہے اور کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ اس حق کا تحفظ یقینی بنائے۔ ان کے بقول حالیہ برسوں میں نفرت پر مبنی منظم سرگرمیوں کے ذریعے اس حق کو متاثر کرنے کی کوششیں کی گئیں جنہیں آزادیِ اظہار کے نام پر درست قرار دیا جاتا رہا۔
رکن کانگریس ٹام سوزی، جنہوں نے رواں سال کے آغاز میں SACRED Act کے نام سے ایک متعلقہ بل بھی پیش کیا تھا، نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اپنی سیناگاگ، چرچ، مسجد، مندر، مندر(Mandir)یا گردوارے میں داخل ہونے کے لیے غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
رکن کانگریس بریڈ ناٹ کے مطابق یہ بل پرامن اظہارِ رائے کا تحفظ برقرار رکھتے ہوئے عبادت گزاروں کو ان عناصر کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرے گا جو انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس قانون کی تیاری میں اینٹی ڈیفیمیشن لیگ(ADL)نے بھی تعاون کیا ہے اور تنظیم نے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اے ڈی ایل کے چیف ایگزیکٹو جوناتھن گرین بلیٹ نے کہا کہ کسی بھی شخص کو عبادت کرنے کے لیے دشمنانہ ہجوم سے گزرنے یا لاؤڈ اسپیکر کے شور میں دعا کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
بل کی حمایت کرنے والی تنظیموں میں امریکن جیوش کمیٹی، اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ، ہندو امریکن فاؤنڈیشن، یونائیٹڈ سکھس، اگوداتھ اسرائیل آف امریکہ، جیوش فیڈریشنز آف نارتھ امریکہ، آرتھوڈوکس یونین، یو جے اے فیڈریشن آف نیویارک، بی اے پی ایس سوامی نارائن سنستھا، کولیشن آف ہندوز آف نارتھ امریکہ، ہیڈاسا، کامبیٹ اینٹی سیمیٹزم موومنٹ اور امریکن مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل(AMMWEC)شامل ہیں۔
یہ مجوزہ قانون ریاستی سطح پر کیے گئے اقدامات، خصوصاً نیویارک میں عبادت گاہوں کے گرد بفر زون قائم کرنے کے قانون، کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس میں مذہبی آزادی اور آزادیِ اظہار کے درمیان آئینی توازن کو برقرار رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکن مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل(AMMWEC)نے بھی اس قانون کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کی صدر انیلہ علی نے کہا کہ احتجاج ہر امریکی کا آئینی حق ہے، لیکن کسی دوسرے شہری کو اپنے مذہب پر محفوظ طریقے سے عمل کرنے سے روکنا یا اسے خوفزدہ کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کسی سیناگاگ، چرچ، مسجد، مندر یا گردوارے کو خطرہ لاحق ہو تو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کو متحد ہو کر مذہبی آزادی کے دفاع کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق عبادت کی آزادی تمام امریکیوں کا بنیادی حق ہے اور اس کے تحفظ کو کبھی بھی سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

