واشنگٹن:امریکی خبر رساں ادارے پولیٹیکو کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کیوبا کی کمیونسٹ حکومت پر بنیادی اصلاحات کے لیے دباؤ بڑھانے کے دوران امریکہ نے جزیرے میں اپنی انٹیلی جنس موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔
انتظامیہ کے منصوبوں سے واقف دو افراد نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مزید امریکی جاسوس اور انٹیلی جنس اثاثے کیوبا پہنچے ہیں۔ تاہم ذرائع نے اس کارروائی کے حجم یا اس میں شامل تمام امریکی اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے۔
رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس سرگرمیوں میں اضافے کے کئی مقاصد ہو سکتے ہیں، جن میں معلومات اکٹھی کرنا، ذرائع بھرتی کرنا اور ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تیاری شامل ہے۔ تاہم حکمت عملی سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
سفارت کاری کے ساتھ بڑھتا ہوا دباؤ
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے مئی میں ہوانا کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبات براہِ راست اعلیٰ سطح کے کیوبا کے حکام تک پہنچائے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ریٹکلف نے کیوبا کے وزیر داخلہ، انٹیلی جنس سربراہ اور سابق کیوبا رہنما راؤل کاسترو کے پوتے سے بھی ملاقات کی۔
امریکی پیغام واضح تھا کہ واشنگٹن سکیورٹی اور اقتصادی معاملات پر تعاون کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے ہوانا کو بنیادی نوعیت کی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ امریکی حکام نے یہ بھی خبردار کیا کہ کیوبا اب مغربی نصف کرۂ ارض میں امریکہ مخالف غیر ملکی طاقتوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کام نہیں کر سکتا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوبا سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کی قریبی نگرانی کر رہے ہیں۔ پولیٹیکو کے مطابق روبیو کیوبا کو انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شمار کرتے ہیں اور کیوبا کی حکومت کی جانب سے بامعنی اصلاحات قبول نہ کیے جانے پر ان میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
واشنگٹن نے سفارتی مطالبات کے ساتھ ساتھ پابندیوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے بھی کیوبا کی حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کے کیوبا سے متعلق پابندیوں کے پروگرام میں ایسے حکام اور ادارے بھی شامل ہیں جن پر جبر اور امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیوبا میں امریکی انٹیلی جنس سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ فوجی کارروائی فوری طور پر ہونے والی ہے۔ البتہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مختلف ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہا ہے۔
مذہبی آزادی کی صورتحال بھی تشویش کا باعث
کیوبا میں کمیونسٹ حکومت کئی دہائیوں سے آزاد مسیحی مذہبی سرگرمیوں کو ریاستی اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتی رہی ہے۔ خاص طور پر ان پادریوں اور کلیسیاؤں کو نگرانی، دھمکیوں، جرمانوں، گرفتاریوں، املاک کی ضبطی اور جبری جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا ہے جو ریاست سے منظور شدہ مذہبی تنظیموں کے دائرے سے باہر کام کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رجسٹرڈ کلیسیائیں بھی اس وقت حکومتی کارروائی کا نشانہ بن سکتی ہیں جب ان کے رہنما سیاسی قیدیوں کی حمایت کریں، حکومتی زیادتیوں پر تنقید کریں یا کمیونسٹ پارٹی کے کنٹرول کو تسلیم کرنے سے انکار کریں۔
بین الجماعتی امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی(USCIRF)کی2026کی رپورٹ میں بھی کیوبا میں مذہبی آزادی کی صورتحال کو خراب قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذہبی رہنما اور مذہبی برادریاں مسلسل ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ غیر رجسٹرڈ مذہبی گروہوں سے پوچھ گچھ، انہیں حراست میں لینے اور ان کی املاک ضبط کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
کمیشن کے مطابق پرامن مذہبی سرگرمیوں کے باعث قید کیے گئے بعض افراد کو جیلوں میں سردی، بھوک اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔USCIRFنے سفارش کی ہے کہ امریکہ کیوبا کو دوبارہ ’’مذہبی آزادی کی سنگین، منظم اور مسلسل خلاف ورزی کرنے والے ملک‘‘ یعنی ’’کنٹری آف پارٹیکولر کنسرن‘‘ قرار دے۔ کمیشن نے کیوبا کے ان حکام پر ہدفی پابندیاں عائد کرنے کی بھی سفارش کی ہے جو مذہبی افراد کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے میں ملوث ہیں۔
کمیشن نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ کیوبا میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے والی سول سوسائٹی کی تنظیموں کی بھی حمایت کرے۔
کیوبا پر امریکی دباؤ، حکمت عملی سے بڑھ کر اخلاقی سوال
کیوبا میں امریکی انٹیلی جنس سرگرمیوں میں اضافہ محض ایک جغرافیائی یا فوجی حکمت عملی کا معاملہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیوبا کے عوام کو اپنے ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے، آزادانہ طور پر عبادت کرنے اور ریاستی خوف کے بغیر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق کب اور کیسے ملے گا۔
امریکی دباؤ کے حامیوں کے لیے کیوبا محض فلوریڈا سے تقریباً90میل دور واقع ایک مخالف حکومت نہیں بلکہ ایسا سیاسی نظام بھی ہے جس پر مذہبی آزادی اور انسانی حقوق محدود کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
تاہم کسی بھی پائیدار اصلاحی عمل کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف حکومت کی اقتصادی یا سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ شہری آزادیوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔ کیوبا کے عوام کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی رائے کا اظہار کرنے اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے کا حق بلاخوف حاصل ہونا چاہیے۔
اگر ٹرمپ انتظامیہ واقعی کیوبا میں بنیادی تبدیلی چاہتی ہے تو سفارت کاری، اقتصادی دباؤ اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کے ساتھ مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کو بھی اس پالیسی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ کسی بھی ملک میں حقیقی آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک شہری ریاست کے خوف کے بغیر اپنے ایمان اور ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل نہ ہوں۔

