واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور وہاں ایران کی جانب سے بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں۔ انہوں نے ایران سے جنگ اور دیگر واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں اور نقصانات پر معاوضے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز پر واحد کنٹرول امریکی بحریہ کا ہے اور امریکی افواج نے پورے آبنائے سے بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے پہنچائے گئے نقصانات کے ازالے کے لیے امریکہ معاوضے کا مطالبہ کرے گا۔
ایران سے ہلاکتوں کا معاوضہ مانگنے کا مطالبہ
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے ان افراد کی ہلاکتوں کے حوالے سے بھی معاوضہ چاہتے ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ تہران نے جنگوں، حملوں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک کیا۔
صدر کے اس مطالبے سے امریکہ اور ایران کے درمیان لفظی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی فوری معاہدے کی امیدیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی جانب سے واشنگٹن کے سامنے رکھی گئی شرائط کا جواب دے رہے ہیں۔ تہران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے قبل امریکہ سے بعض شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جن میں گزشتہ پانچ ماہ سے زائد عرصے کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ بھی شامل ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر کہا کہ وہ بھی ایران سے ان تمام افراد کے حوالے سے معاوضے کا مطالبہ کریں گے جنہیں ان کے بقول ایران نے ہلاک کیا یا سڑکوں کے کنارے نصب دھماکا خیز آلات اور دیگر تنازعات کے دوران شدید زخمی کیا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایران کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات میں وہ یہ مطالبہ بھی شامل کریں گے کہ تہران ان لاکھوں مظاہرین کے خاندانوں کو معاوضہ ادا کرے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ایرانی حکومت نے ہلاک کیا۔
ٹرمپ نے امریکی بحری جنگی جہاز ’’یو ایس ایس کول‘‘ پر ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے بھی ایران سے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ ان کا اشارہ12اکتوبر2000کو یمن میں امریکی بحری جہاز پر ہونے والے خودکش حملے کی جانب تھا، جس میں17امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم اس حملے کی ذمہ داری ایران کے بجائے القاعدہ پر عائد کی گئی تھی۔ امریکہ کا معاوضے سے متعلق یہ نیا مطالبہ اس سے قبل ہونے والے مذاکرات میں سامنے نہیں آیا تھا۔
ایران کا آبنائے ہرمز سے متعلق مؤقف
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ سلطنتِ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نئے بحری راستوں کے تعین کے لیے حتمی معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
تاہم تہران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے سے قبل امریکہ کو دیگر شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔ ان میں ایران کو مبینہ جنگی نقصانات کا معاوضہ، امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور فوجی دھمکیوں کا سلسلہ روکنا شامل ہیں۔
ایران نے28فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور افراطِ زر میں اضافہ ہوا۔
جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً20فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس(LNG)کی عالمی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی، جس کی وجہ سے اس آبی گزرگاہ کی بندش نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی معاہدے کی ابتدائی امیدیں اس وقت کمزور پڑ گئیں جب ایران نے اسے دوبارہ کھولنے سے قبل اپنی شرائط پر عمل درآمد پر اصرار کیا۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کے باعث عالمی توانائی منڈیاں آئندہ مذاکرات اور بحری آمدورفت کی بحالی سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

