کئی ماہ سے آبنائے ہرمز امریکہ اور ایران کے درمیان گہری ہوتی کشیدگی کی علامت بنی ہوئی ہے۔ جو تنازع ابتدا میں سیاسی اور فوجی اختلاف تک محدود دکھائی دیتا تھا، وہ رفتہ رفتہ عالمی اثرات رکھنے والے بحران میں تبدیل ہوگیا۔ توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی، سرمایہ کاروں کے خدشات اور وسیع تر علاقائی جنگ کے امکانات نے دنیا کی توجہ اس اہم آبی گزرگاہ پر مرکوز کر دی ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔
لیکن کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ سفارت کاری ایک بار پھر آگے بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران آبنائے ہرمز کے بحران کو کم کرنے کے لیے کسی ممکنہ انتظام کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔ قطر سے آنے والی اطلاعات نے بھی اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق بحری رسائی اور انتظامی معاملات پر ایران اور عمان کے درمیان بات چیت اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
اگرچہ ابھی کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں ہوا، تاہم خطے کے اہم ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات کئی ہفتوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں نئی تیزی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ پیش رفت صرف خلیج تک محدود اہمیت نہیں رکھتی۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ توانائی کی منڈیاں خطے کی ہر نئی پیش رفت پر فوری ردعمل ظاہر کرتی ہیں، جبکہ آبنائے کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی توانائی کی فراہمی کے تحفظ سے متعلق خدشات کو بڑھایا ہے۔ ایسے ممالک جو پہلے ہی مہنگائی، معاشی سست روی اور درآمدی اخراجات میں اضافے سے دوچار ہیں، ان کے لیے خلیج میں طویل بحران ایک اضافی بوجھ بن سکتا ہے۔
اسی لیے آبنائے ہرمز میں استحکام محض علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معاشی ضرورت ہے۔
حالیہ پیش رفت کا سب سے حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ سفارت کاری بیک وقت کئی راستوں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ قطر، عمان، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اختلافات کم کیے جا سکیں اور سمجھوتے کی گنجائش پیدا ہو۔
ایسی سفارتی کوششیں اکثر عالمی توجہ حاصل نہیں کرتیں، لیکن بڑے سفارتی معاہدوں کی بنیاد عموماً یہی خاموش رابطے بنتے ہیں۔
پاکستان کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ بحران کے دوران اسلام آباد مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کرتا رہا ہے۔ پاکستانی اور ایرانی حکام کے درمیان حالیہ رابطے، جن میں تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی شامل ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کسی مذاکراتی حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کے متوازن تعلقات اور ایک تعمیری سفارتی کردار ادا کرنے کی اس کی صلاحیت اسے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
تاہم یہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا کہ حتمی معاہدہ فوری طور پر ہونے والا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ تہران پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں تک رسائی اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں تبدیلی کا خواہاں ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن آزادانہ جہاز رانی، سکیورٹی ضمانتوں اور وسیع تر تزویراتی معاملات پر زور دے رہا ہے۔
یہ مسائل آسانی سے حل ہونے والے نہیں، جبکہ دونوں حکومتوں کو اپنے اپنے داخلی سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
اس کے باوجود سفارت کاری ہمیشہ ایک ہی جست میں کامیابی حاصل نہیں کرتی۔ اکثر معاہدے اس وقت وجود میں آتے ہیں جب فریقین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مسلسل محاذ آرائی کی قیمت مذاکرات سے زیادہ ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران شاید اسی مقام کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
ایران کو درپیش معاشی مشکلات اور طویل فوجی کشیدگی کے مالی و تزویراتی اخراجات دونوں فریقوں کو کسی عملی حل کی طرف بڑھنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ اسی طرح خلیجی ممالک بھی مزید کشیدگی کے خواہاں نہیں۔ خطے کا کوئی ملک طویل عدم استحکام، تجارتی راستوں میں رکاوٹ یا مسلسل فوجی تصادم کے خطرے سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔
خلیج عمان میں حالیہ بحری واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہیں کہ صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔ ایک معمولی غلط فہمی یا غلط اندازہ بھی سفارتی پیش رفت کو نقصان پہنچا کر دوبارہ کشیدگی بھڑکا سکتا ہے۔
اسی لیے موجودہ سفارتی کوششیں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے ذریعے بات چیت کو فوجی دباؤ سے نکال کر سیاسی حل کی جانب منتقل کرنے کا موقع پیدا ہو سکتا ہے۔
شاید اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عوامی سطح پر سخت بیانات کے باوجود سفارتی رابطے کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ پسِ پردہ مذاکرات کار اور ثالث کسی ممکنہ سمجھوتے کے راستے تلاش کرتے رہے ہیں۔ تازہ اشارے بتاتے ہیں کہ یہ کوششیں شاید اب کسی نتیجے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
اگر کوئی انتظام طے پا جاتا ہے، چاہے وہ محدود نوعیت ہی کا کیوں نہ ہو، تو اس کے اثرات آبنائے ہرمز سے کہیں آگے تک محسوس ہوں گے۔ بحری آمدورفت کی بحالی توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے، عالمی معاشی بے یقینی کم کرنے اور علاقائی سکیورٹی پر وسیع تر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت بھی بن سکتی ہے کہ کئی ماہ کی دشمنی اور تصادم کے باوجود مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوتا۔
البتہ توقعات کو حقیقت پسندانہ رکھنا ضروری ہے۔ سفارتی کامیابی کے بعد بھی نئے چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں اور کسی معاہدے پر عمل درآمد بعض اوقات خود معاہدے تک پہنچنے جتنا مشکل ثابت ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اہم ہے کہ خطے میں بااثر آوازیں ایک بار پھر معاہدے کے امکان پر بات کر رہی ہیں۔
کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد پیش رفت کی اس امید کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے بہت سے مواقع اس لیے ضائع ہوئے کہ قیادتوں نے مذاکرات کے بجائے تصادم کا راستہ اختیار کیا۔
آج شاید ایک بار پھر راستہ بدلنے کا موقع موجود ہے، اگرچہ یہ موقع محدود اور نازک ہے۔
یہ موقع دیرپا کامیابی میں تبدیل ہوگا یا نہیں، اس کا انحصار تمام فریقوں کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ سیاسی مفادات پر علاقائی استحکام، اور محاذ آرائی پر سمجھوتے کو ترجیح دیں۔
اگر ایسا ممکن ہوگیا تو آبنائے ہرمز مستقبل میں صرف بحران کی علامت نہیں رہے گی بلکہ اسے ایک ایسی جگہ کے طور پر بھی یاد کیا جا سکتا ہے جہاں سفارت کاری نے ایک مشکل تعطل سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا۔

