امریکا میں ’برتھ ٹورزم‘ کے خلاف کریک ڈاؤن،600سے زائد ویزے منسوخ
امریکی محکمہ خارجہ کی نئی ٹاسک فورس کا آغاز، دنیا بھر میں نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی تیز
امریکی محکمہ خارجہ نے ’برتھ ٹورزم‘ کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے برتھ ٹورزم پریوینشن ٹاسک فورس قائم کر دی ہے اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران دنیا بھر میں غیر ملکی شہریوں کے600سے زائد ویزے منسوخ کیے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ان افراد اور نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو بنیادی طور پر امریکا میں بچے کی پیدائش اور اس کے نتیجے میں امریکی شہریت حاصل کرنے کے مقصد سے ملک کا سفر کرتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’’امریکی شہریت برائے فروخت نہیں ہے۔‘‘
روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ منظم نیٹ ورکس ویزا درخواست گزاروں کو سفری مقاصد کے بارے میں غلط معلومات دینے کی تربیت دیتے ہیں، امریکا میں رہائش کا انتظام کرتے ہیں اور بعض معاملات میں جعلی دستاویزات بھی تیار کرتے ہیں تاکہ ویزا نظام سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
نئی ٹاسک فورس امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے تعاون سے کام کرے گی۔ حکام ویزا رکھنے والے افراد، ان کے سفری ریکارڈ اور مختلف سرکاری اداروں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا جائزہ لے کر ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کوشش کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ غیر تارک وطن ویزے صرف ان قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہوں جن کے لیے وہ جاری کیے گئے ہیں، جبکہ امریکی شہریت کے نظام کی ساکھ اور سالمیت کا بھی تحفظ کیا جائے۔
175,000 سے زائد ویزے منسوخ
امریکی محکمہ خارجہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد مجموعی طور پر175,000سے زیادہ ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ ان منسوخیوں کی وجوہات میں دھوکا دہی، مجرمانہ سرگرمیاں اور دیگر قانونی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
برتھ ٹورزم کے خلاف حالیہ کارروائی سابقہ سفارتی تحقیقات کا تسلسل ہے۔ جون میں یورپ، مغربی افریقہ اور شمالی افریقہ میں امریکی سفارتی مشنز نے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی جن کا تعلق سیکڑوں مشتبہ کیسز سے تھا۔
یورپ، افریقہ میں نیٹ ورکس کا سراغ
یورپ میں ایک امریکی سفارت خانے نے2024سے اب تک برتھ ٹورزم کے400سے زیادہ مشتبہ کیسز کی نشاندہی کی۔ حکام کے مطابق ان کیسز کا تعلق کم از کم چھ کمپنیوں سے تھا جو درخواست گزاروں کو ویزا انٹرویو کے لیے تیار کرتی تھیں اور امریکا میں رہائش اور ہسپتال یا زچگی سے متعلق انتظامات میں مدد فراہم کرتی تھیں۔
مغربی افریقہ میں ایک امریکی سفارتی مشن نے100سے زائد افراد پر مشتمل ایسے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جس میں جعلی دستاویزات اور ویزا ’’فکسرز‘‘ استعمال کیے جا رہے تھے۔ شمالی افریقہ میں بھی ایسے والدین کے100سے زائد ویزے منسوخ کیے گئے جو بنیادی طور پر بچے کی پیدائش کے لیے امریکا داخل ہوئے تھے۔
پیدائشی شہریت پر پس منظر
ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتی آئی ہے کہ امریکی وزٹ ویزا بنیادی مقصد کے طور پر امریکا میں بچے کی پیدائش کے ذریعے اس کے لیے شہریت حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
حالیہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت پر وسیع تر پابندیاں عائد کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔ اس کے بعد انتظامیہ نے پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ویزا اسکریننگ اور منسوخی کے طریقہ کار پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئی ٹاسک فورس برتھ ٹورزم میں سہولت کاری کرنے والے افراد اور اس میں شریک افراد کی نشاندہی کا عمل جاری رکھے گی۔ بعض افراد کو مستقبل میں امریکا میں داخلے پر مستقل پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

