ابراہیمی معاہدوں کی چھٹی سالگرہ:جیرڈ کشنر اور آئزک ہرزوگ کا مشرقِ وسطیٰ میں امن کے دائرے کو وسیع کرنے پر زور
رپورٹ
جیرڈ کشنر اور اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے اس ہفتے ابراہیمی معاہدوں کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر ایکس پر اپنے پیغامات میں ان تاریخی معاہدوں کی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور مشرقِ وسطیٰ میں معمول کے تعلقات، تعاون اور امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنے پر زور دیا۔
ابراہیمی معاہدے ستمبر2020میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں طے پائے تھے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر آئے، جبکہ بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس عمل میں شامل ہوئے۔ اس وقت وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر اور ان معاہدوں کے اہم معماروں میں شامل جیرڈ کشنر نے چھٹی سالگرہ کے موقع پر ایک تفصیلی پیغام جاری کیا۔
کشنر نے لکھا کہ چھ برس قبل صدر ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں امن، شراکت داری اور خوشحالی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ ان کے مطابق بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں، لیکن جرات مندانہ قیادت، مستقل مزاجی اور پرانے مفروضوں کو چیلنج کرنے والے چند افراد کی کوششوں نے ثابت کر دیا کہ بظاہر ناممکن کام بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
کشنر نے ابراہیمی معاہدوں کا موازنہ خطے میں اختیار کیے جانے والے سابقہ طریقہ کار سے کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ طویل عرصے تک ایسے پرانے تصورات اور ناکام فریم ورک میں پھنسا رہا جو تنازعات کو حل کرنے کے بجائے صرف ان کا انتظام کرتے رہے۔
ان کے مطابق ابراہیمی معاہدوں کا بنیادی تصور سادہ تھا:لوگوں کو تقسیم کرنے والی چیزوں کو تقویت دینے کے بجائے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے والے تعلقات قائم کیے جائیں، باہمی سمجھ بوجھ میں اضافہ کیا جائے، تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دی جائے، سکیورٹی تعاون کو گہرا کیا جائے اور ایسے عملی فوائد پیدا کیے جائیں جو لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائیں اور ہر فریق کو امن میں اپنا مفاد نظر آئے۔
کشنر نے ابراہیمی معاہدوں کے عملی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو عمل ایک جرات مندانہ تصور کے طور پر شروع ہوا تھا، اس کے نتیجے میں اربوں ڈالر کی تجارت، مشترکہ جدت، نئی دوستیوں اور شراکت داریوں کے ساتھ ساتھ ماضی کے ناکام طریقوں کے مقابلے میں ایک مؤثر متبادل سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور ایسی مواقع کی ایک نئی کھڑکی موجود ہے جنہیں بہت سے لوگ ناممکن قرار دیں گے۔ ان کے مطابق ابراہیمی معاہدوں نے ثابت کیا کہ ایک مختلف راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے اور اب تعاون، مشترکہ خوشحالی اور سلامتی کے گرد ایک زیادہ وسیع علاقائی تحریک تشکیل دینے کا موقع موجود ہے۔
کشنر نے امید ظاہر کی کہ جس طرح دنیا کو ایک مرتبہ حیران کیا گیا، اسی طرح درست قیادت، توجہ، صبر اور حوصلے کے ساتھ دوبارہ بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے کشنر کے پیغام کا براہِ راست جواب دیتے ہوئے ابراہیمی معاہدوں کی چھٹی سالگرہ کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
ہرزوگ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں کشنر کی ٹیم کی جانب سے تشکیل دیے گئے ابراہیمی معاہدوں کی چھٹی سالگرہ خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ ان کے مطابق یہ وقت اس بات پر غور کرنے کا ہے کہ خطے میں کس قدر قابلِ ذکر شراکت داریاں قائم کی جا چکی ہیں، اور ساتھ ہی مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے اگلے سفر کا راستہ مشترکہ طور پر طے کرنے کا بھی ہے۔
ہرزوگ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ عمل ابھی صرف آغاز ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ تمام متعلقہ فریق مشرقِ وسطیٰ میں امن کے اس دائرے کو مزید وسیع کرنے کے لیے کام کریں تاکہ خطے کے تمام عوام کو اس کے فوائد حاصل ہو سکیں۔
دونوں رہنماؤں کا یہ تبادلۂ خیال ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور ابراہیمی معاہدوں میں شامل ممالک اور دیگر علاقائی ریاستوں کے درمیان مزید معمول کے تعلقات، اقتصادی تعاون اور سکیورٹی شراکت داری کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔
چھ برس بعد ابراہیمی معاہدے صرف سفارتی تعلقات کی بحالی کا ایک نمونہ نہیں بلکہ اقتصادی روابط، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کے ایک وسیع تر ماڈل کے طور پر بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔ کشنر اور ہرزوگ کے پیغامات میں یہ امید نمایاں ہے کہ اس ماڈل کو مزید ممالک اور شعبوں تک وسعت دی جا سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں یہ سوال اب بھی اہم ہے کہ کیا معمول کے تعلقات اور اقتصادی تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ تاہم ابراہیمی معاہدوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چھ برس کے تجربے نے کم از کم یہ ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں پرانے تنازعات کے باوجود تعاون اور شراکت داری کے نئے راستے تلاش کرنا ممکن ہے۔
اگر اس عمل کو مزید وسعت ملتی ہے تو اس کے اثرات صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط کے شعبوں میں بھی ایک نئے علاقائی ماحول کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔
ماخذ: جیرڈ کشنر(ایکس) | آئزک ہرزوگ(ایکس)

