غزہ میں جنگ کے بعد کے نظام پر مذاکرات تیز، جیرڈ کشنر کی حماس رہنماؤں سے ملاقات
امریکہ نے غزہ کو غیر مسلح کرنے اور جنگ کے بعد حکمرانی کے لیے حماس سے عملی اقدامات پر زور دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غزہ کو غیر مسلح کرنے اور جنگ کے بعد کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکی نمائندہ جیرڈ کشنر نے اتوار کے روز مصر میں حماس کے اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقات کی، جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کے خلاف محدود فوجی کارروائیاں جاری رکھیں۔
کشنر نے مصر میں حماس کے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور بورڈ آف پیس کے ڈائریکٹر جنرل نکولے ملادینوف بھی شریک تھے۔ مذاکرات میں مصر، قطر اور ترکی کے سفارت کاروں نے بھی حصہ لیا۔
غزہ کے لیے امریکی منصوبہ کیا ہے؟
مذاکرات کا مرکزی موضوع غزہ کے لیے امریکی حمایت یافتہ روڈ میپ پر عمل درآمد تھا، جس میں حماس کی جانب سے اپنے ہتھیار حوالے کرنا، دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا، غزہ پر سیاسی کنٹرول سے دستبردار ہونا اور انتظامی اختیارات ٹیکنوکریٹک نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ(NCAG)کو منتقل کرنا شامل ہے۔
مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے نے امریکی اخبار
The Jerusalem Post
کو بتایا کہ مقصد اس روڈ میپ کو ’’ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات‘‘ میں تبدیل کرنا اور بالآخر حماس کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔
بات چیت میں مستقبل میں بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی، انسانی امداد، غزہ کی تعمیر نو اور بالآخر اسرائیلی فوج کے انخلا کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔
اسرائیل کا مؤقف:انخلا سے پہلے حماس کا غیر مسلح ہونا ضروری
مذاکرات میں بنیادی اختلاف اب بھی اس سوال پر قائم ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے گا۔
اطلاعات کے مطابق حماس نے کشنر سے کہا کہ وہ غیر مسلح ہونے کے معاہدے پر عمل درآمد اسی وقت شروع کرے گی جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو عوامی طور پر غزہ کے وسیع تر منصوبے سے اسرائیل کی وابستگی کا اعلان کریں گے۔
تاہم نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ سے واپس نہیں جائے گی جب تک حماس عملی طور پر اپنے ہتھیار نہیں ڈال دیتی۔
اطلاعات کے مطابق کشنر نے حماس پر زور دیا کہ وہ محض وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے اپنی سنجیدگی ثابت کرے۔ انہوں نے تنظیم سے غزہ بھر میں مسلح طاقت کے مظاہرے روکنے اور حکومتی اختیارات نئی فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کرنے میں تعاون کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
کشنر مصر سے اسرائیل روانہ ہو گئے، جہاں توقع ہے کہ وہ ٹونی بلیئر اور نکولے ملادینوف کے ہمراہ نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ فریقین کے درمیان باقی رہ جانے والے اختلافات کو کم کیا جا سکے۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری
سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے غزہ میں دہشت گرد اہداف کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں بھی جاری رکھیں۔
اسرائیلی فوج(IDF)نے اتوار کو بتایا کہ خان یونس میں فلسطینی اسلامی جہاد کے ایک کارکن اور نصیرات میں حماس کے ایک کارکن کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق دونوں افراد اسرائیل کے خلاف حملوں کی تیاری اور پیش رفت میں مصروف تھے۔
یہ کارروائیاں ایک ایسے واقعے کے بعد ہوئیں جس میں حماس کا ایک دھماکا خیز آلہ غزہ کی جنگ بندی کی حد بندی لائن کے قریب ایک اسرائیلی ٹینک سے ٹکرا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس واقعے میں کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
اسرائیلی حکام نے حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ محدود وقفوں سے فائدہ اٹھا کر وہ غیر مسلح ہونے کی تیاری کے بجائے اپنی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ منظم اور مضبوط کر رہی ہے۔
واشنگٹن کے سامنے اصل چیلنج
موجودہ صورتِ حال میں امریکہ ایک ایسے تعطل کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے جو طویل عرصے سے جاری ہے۔ حماس اپنے فوجی اقتدار سے دستبرداری سے قبل اسرائیل سے رعایتیں چاہتی ہے، جبکہ اسرائیل کا اصرار ہے کہ7اکتوبر کے حملے کی ذمہ دار حماس کو پہلے قابلِ تصدیق طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا، اس کے بعد ہی اسرائیل اپنی سکیورٹی سے متعلق دباؤ اور فوجی اختیار میں کمی کرے گا۔
اس طرح غزہ کے مستقبل پر جاری مذاکرات میں جنگ بندی کے بعد کے سیاسی انتظام، حماس کے غیر مسلح ہونے، اسرائیلی فوج کے انخلا، بین الاقوامی استحکامی فورس اور تعمیر نو جیسے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن کی سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد فریقین کو ایسے قابلِ عمل فارمولے پر متفق کرنا ہے جس میں سکیورٹی، حکمرانی اور تعمیر نو کے سوالات کو ایک ساتھ حل کیا جا سکے۔

