ایران اور امریکہ آمنے سامنے:اگلی جنگ میزائلوں کی ہوگی یا آبنائے ہرمز کی؟
تہران کی جارحانہ حکمتِ عملی، امریکی عسکری برتری، اسرائیلی دفاعی صلاحیت اور آبنائے ہرمز پر ممکنہ تصادم کا عسکری جائزہ
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک میزائل یا ایک غلط عسکری اندازہ محدود تصادم کو کہیں بڑی جنگ میں تبدیل کرسکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی کو محض سفارتی تنازع سمجھنا اب ممکن نہیں۔
تہران اپنی فوجی حکمتِ عملی کو زیادہ جارحانہ بنانے کی بات کررہا ہے، امریکہ خطے میں اپنی عسکری قوت برقرار رکھے ہوئے ہے، اور اسرائیل ایران کی میزائل، ڈرون اور دیگر عسکری صلاحیتوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے بنیادی خطرہ سمجھتا ہے۔
عسکری اعتبار سے اصل سوال یہ نہیں کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا نہیں۔ یقیناً پہنچا سکتا ہے۔
میری نظر میں اس سوال کا جواب ایران کے لیے کہیں زیادہ پریشان کن ہے۔
ایران کی طاقت اور اس کی بنیادی کمزوری
ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں ایک ایسی فوجی حکمتِ عملی تیار کی ہے جس کا مقصد امریکہ جیسی بڑی طاقت کا براہِ راست روایتی مقابلہ کرنا نہیں بلکہ اس کے لیے جنگ کی قیمت بڑھانا ہے۔
تہران کے پاس بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، حملہ آور ڈرون، ساحلی دفاعی نظام اور منتشر لانچنگ پلیٹ فارم موجود ہیں۔ یہ صلاحیتیں نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔
لیکن ایران کی سب سے بڑی کمزوری بھی یہی حکمتِ عملی ظاہر کرتی ہے۔ تہران جانتا ہے کہ کھلے اور روایتی میدانِ جنگ میں وہ امریکی فضائی اور بحری طاقت کا ہم پلہ نہیں۔ امریکہ کے پاس جدید لڑاکا طیارے، آبدوزیں، طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے والے ہتھیار، سیٹلائٹ نگرانی، الیکٹرانک وارفیئر، انٹیلی جنس اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ایسی صلاحیت موجود ہے جس کا ایران مکمل مقابلہ نہیں کرسکتا۔
اور اس عسکری مساوات میں اسرائیل کو نظر انداز کرنا ایک بہت بڑی تجزیاتی غلطی ہوگی۔
اسرائیل اس جنگی مساوات کو بدل دیتا ہے
ایران کے لیے مسئلہ صرف امریکی فوج نہیں۔
اسرائیل نے کئی دہائیوں میں انٹیلی جنس، فضائی کارروائی، سائبر صلاحیت، میزائل دفاع اور طویل فاصلے کے انتہائی درست حملوں کی قابلِ ذکر صلاحیت پیدا کی ہے۔ اسرائیل کا دفاعی نظام بھی صرف آئرن ڈوم تک محدود نہیں۔ مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس متعدد سطحوں پر مشتمل فضائی اور میزائل دفاع موجود ہے۔
اسرائیل کے لیے ایران کوئی دور دراز نظریاتی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست سلامتی کا مسئلہ ہے۔ ایرانی میزائل اور ڈرون صلاحیت، اور تہران کی اسرائیل مخالف حکمتِ عملی نے اسرائیلی دفاعی منصوبہ بندی میں ایران کو مرکزی مقام دے رکھا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ تکنیکی، انٹیلی جنس اور فضائی صلاحیت ایران کے لیے ایک انتہائی مشکل جنگی ماحول پیدا کرتی ہے۔ اس لیے تہران کی حکمتِ عملی براہِ راست طاقت کے مقابلے کے بجائے غیر متناسب جنگ پر مبنی ہے۔
ڈرون اور میزائل:ایران کا اصل عسکری کارڈ
جدید جنگ نے ثابت کردیا ہے کہ نسبتاً کم قیمت ہتھیار بھی انتہائی مہنگے دفاعی نظام کے لیے مسئلہ پیدا کرسکتے ہیں۔ ایران اسی حقیقت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
بڑی تعداد میں ڈرون اور میزائل داغنے کا مقصد ہمیشہ ہر ہتھیار کو اپنے ہدف تک پہنچانا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات مقصد دشمن کے فضائی دفاع کو مصروف کرنا، اس کے انٹرسیپٹر میزائل خرچ کروانا، ریڈار اور کمانڈ نظام پر دباؤ ڈالنا اور بعد میں آنے والے زیادہ خطرناک ہتھیاروں کے لیے راستہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔
یہ ایک حقیقی فوجی خطرہ ہے، لیکن اسے ایران کی ناقابلِ شکست طاقت سمجھنا غلط ہوگا۔ میزائل ذخائر محدود ہوتے ہیں۔ لانچرز تباہ کیے جاسکتے ہیں۔ مواصلاتی نظام جام ہوسکتے ہیں۔ کمانڈ مراکز نشانہ بن سکتے ہیں۔ اسلحہ بنانے والی صنعت کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔
جدید جنگ میں صرف یہ اہم نہیں کہ آپ کے پاس کتنے میزائل ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ آپ کتنے عرصے تک انہیں تلاش، منتقل، تیار اور فائر کرسکتے ہیں جبکہ دشمن مسلسل آپ کو تلاش کررہا ہو۔ یہی وہ میدان ہے جہاں امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اور فضائی طاقت ایران کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز:ایران کا خطرناک ترین ہتھیار؟
ایران کا سب سے مؤثر ہتھیار شاید کوئی بیلسٹک میزائل نہ ہو۔ وہ آبنائے ہرمز ہوسکتی ہے۔
یہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں کی طرف جانے والے تیل اور دیگر توانائی وسائل کا بہت بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس لیے ہرمز میں جنگ صرف ایران اور امریکہ کا معاملہ نہیں۔ یہ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ اور عالمی معیشت کا مسئلہ بن سکتی ہے۔
ایران کو اس گزرگاہ کو مہینوں تک مکمل طور پر بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ چند کامیاب حملے، بارودی سرنگوں کا خطرہ، ڈرون یا میزائل حملوں کا مسلسل خدشہ اور جہاز رانی کے لیے غیر یقینی ماحول ہی انشورنس کی قیمت بڑھانے، ٹینکروں کا راستہ تبدیل کرنے اور عالمی منڈی میں خوف پیدا کرنے کے لیے کافی ہوسکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بین الاقوامی جہاز رانی کو یرغمال بنانا فوجی برتری نہیں۔ یہ ایک غیر متناسب حربہ ہے جسے نسبتاً کمزور طاقت زیادہ طاقتور مخالف کے خلاف استعمال کرتی ہے۔
امریکہ کا مفاد صرف اپنا دفاع کرنا نہیں بلکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی آزادی برقرار رکھنا بھی ہے۔ آبنائے ہرمز کو سیاسی یا فوجی دباؤ کے آلے میں تبدیل ہونے دینا ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔
امریکی بحری طاقت کا امتحان
امریکی بحریہ کو ایران کے مقابلے میں واضح تکنیکی برتری حاصل ہے۔ لیکن ہرمز جیسے محدود جغرافیائی علاقے میں جنگ کھلے سمندر سے مختلف ہوتی ہے۔
ساحلی میزائل، ڈرون، چھوٹی تیز رفتار کشتیاں اور دوسرے غیر متناسب ذرائع پیچیدہ خطرہ پیدا کرسکتے ہیں۔ اسی لیے امریکی مقصد صرف ایرانی اہداف تباہ کرنا نہیں ہوگا۔ اصل مقصد یہ ہوگا کہ سمندری راستہ اتنا محفوظ رکھا جائے کہ تجارتی جہاز وہاں سے گزرنے کے لیے تیار ہوں۔
کاغذ پر آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ایک چیز ہے۔ دنیا کی شپنگ کمپنیوں، عملے اور انشورنس اداروں کو یقین دلانا کہ وہاں سفر محفوظ ہے، دوسری چیز۔
ایران کا سب سے بڑا غلط اندازہ کیا ہوسکتا ہے؟
تہران شاید یہ سوچے کہ امریکہ کسی طویل جنگ سے بچنا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے محدود ایرانی حملوں کو برداشت کرتا رہے گا۔ یہ اندازہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکی سیاسی قیادت جنگ سے بچنا چاہ سکتی ہے، لیکن امریکی فوج کی کارروائی کی صلاحیت کو سیاسی احتیاط کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
اگر ایرانی حملے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی مارے جاتے ہیں، کسی امریکی جنگی جہاز کو شدید نقصان پہنچتا ہے یا بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی ہوتی ہے تو واشنگٹن کے پاس جواب دینے کے لیے وسیع فوجی صلاحیت موجود ہے۔
اور اگر اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملہ ہوتا ہے تو اسرائیل سے یہ توقع رکھنا غیر حقیقی ہوگا کہ وہ صرف دفاع کرتا رہے گا۔ اس مقام پر ایران کے میزائل لانچرز، فضائی دفاع، کمانڈ اینڈ کنٹرول، فوجی تنصیبات اور اسلحہ سازی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی اصل برتری
فوجی طاقت کو صرف طیاروں اور میزائلوں کی تعداد سے نہیں ناپا جاتا۔
اصل برتری اس پورے نظام میں ہوتی ہے جو دشمن کو تلاش کرتا ہے، اس کی نقل و حرکت کو سمجھتا ہے، معلومات کو فوری طور پر جنگی یونٹس تک پہنچاتا ہے اور پھر درست ہتھیار کو درست وقت پر درست ہدف کے خلاف استعمال کرتا ہے۔
یہاں امریکہ کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیت اس برتری کو مزید خطرناک بناتی ہے۔
ایران اپنے ہتھیار چھپا سکتا ہے، اپنے لانچر منتقل کرسکتا ہے اور اپنی تنصیبات منتشر کرسکتا ہے۔ لیکن ایک طویل جنگ میں مسلسل چھپے رہنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا جاتا ہے۔
ہر ریڈار سگنل، مواصلاتی رابطہ، گاڑی کی نقل و حرکت اور میزائل لانچ دشمن کے لیے معلومات پیدا کرتا ہے۔ جدید میدانِ جنگ میں معلومات خود ایک ہتھیار ہیں۔
عالمی معیشت کو ہتھیار نہیں بنایا جاسکتا
آبنائے ہرمز میں ایرانی دباؤ کا سب سے بڑا شکار صرف امریکہ یا اسرائیل نہیں ہوں گے۔ عالمی معیشت ہوگی۔
تیل کی قیمت بڑھنے سے ایشیا متاثر ہوگا، یورپ متاثر ہوگا، ترقی پذیر ممالک متاثر ہوں گے اور عام شہری مہنگائی کی قیمت ادا کریں گے۔
اس لیے ہرمز میں آزاد جہاز رانی کا دفاع کسی ایک ملک کی سیاسی ترجیح نہیں بلکہ بین الاقوامی اقتصادی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اگر کوئی ریاست عالمی توانائی کی شہ رگ کو فوجی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتی ہے تو اسے معمول کی علاقائی کشیدگی سمجھنا خطرناک ہوگا۔
اگر بڑی جنگ شروع ہوئی تو کون جیتے گا؟
اگر سوال یہ ہے کہ کیا ایران امریکہ یا اسرائیل کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو جواب ہے:ہاں۔
ایرانی میزائل اور ڈرون شہری اور فوجی اہداف کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں خلل عالمی معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ایک طویل تنازع پورے خطے کے لیے انتہائی مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔
اگر ایران ایک وسیع روایتی جنگ کا انتخاب کرتا ہے تو اسے ایک ایسی امریکی فوجی طاقت کا سامنا ہوگا جسے فضائی، بحری، خلائی، انٹیلی جنس اور طویل فاصلے تک حملے کی صلاحیت میں نمایاں برتری حاصل ہے۔
اور اس کے ساتھ اسرائیل کی انٹیلی جنس، فضائی طاقت اور میزائل دفاعی صلاحیت کو شامل کردیا جائے تو تہران کے لیے عسکری مساوات مزید خراب ہوجاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ آسان ہوگی۔ امریکی، اسرائیلی، ایرانی اور دوسرے شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑیں گی۔ عالمی معیشت کو نقصان ہوگا۔ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔
اسی لیے مضبوط بازدارندگی جنگ کی خواہش نہیں بلکہ جنگ روکنے کا ذریعہ ہے۔ ایران کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ امریکی فوجیوں، اسرائیلی شہریوں یا بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف بڑے حملے کی قیمت اس کے متوقع فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔
آخری بات
آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے خلاف ہتھیار بنانا ایران کی روایتی فوجی برتری کا ثبوت نہیں ہوگا بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہوگا کہ تہران براہِ راست امریکی طاقت کا مقابلہ کرنے کے بجائے غیر متناسب دباؤ پر انحصار کرتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے سامنے اصل چیلنج صرف ایرانی میزائل اور ڈرون روکنا نہیں۔ اصل چیلنج ایسی قابلِ اعتماد بازدارندگی برقرار رکھنا ہے جس میں تہران کو معلوم ہو کہ کسی امریکی فوجی، اسرائیلی شہری یا بین الاقوامی تجارتی راستے کو آسان ہدف سمجھنا ایک تباہ کن غلط حساب ثابت ہوسکتا ہے۔
ایران کے پاس خطرناک ہتھیار ہیں۔ اسے کمزور سمجھنا غلط ہوگا۔ لیکن اسے امریکہ اور اسرائیل کے برابر عسکری طاقت سمجھنا بھی حقیقت نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور بڑی جنگ کی ضرورت نہیں۔ لیکن امن صرف خواہش سے قائم نہیں رہتا۔
امن اس وقت زیادہ محفوظ ہوتا ہے جب جارحیت کرنے والے کو پہلے سے معلوم ہو کہ جارحیت کی قیمت اس کے فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔
دفاعی و عسکری تجزیہ کار
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کرلیں۔

