"`html
لاہور میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کی مصنوعی ذہانت میں پاک امریکہ شراکت داری کی حمایت
امریکی جدت کے اگلے باب میں پاکستان کے ساتھ ٹیکنالوجی، تعلیم اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر زور
امریکہ کی آزادی کے250سال مکمل ہونے کے موقع پر مصنوعی ذہانت(AI)امریکی جدت، تخلیقی صلاحیت اور تعاون کی طویل روایت کے اگلے باب کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اسی تناظر میں لاہور میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے ماہرینِ تعلیم، کاروباری رہنماؤں اور میڈیا نمائندوں کے ایک متحرک گروپ سے ملاقات کی، جہاں امریکی ٹیکنالوجی اور جدت کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اختراعی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نٹالی بیکر نے زور دیا کہ امریکی اور پاکستانی اداروں، کاروباری شعبے اور اختراع کاروں کے درمیان شراکت داری نئے مواقع پیدا کرنے اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی انتظامیہ کے تحت ٹیکنالوجی، تعلیم اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
پنجاب کے ساتھ مصنوعی ذہانت میں تعاون
لاہور میں اپنے حالیہ رابطوں کے دوران نٹالی بیکر نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات کے مشیر علی ڈار سے ملاقات کی۔ بات چیت میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، ہنرمندی کے فروغ، اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی ترقی میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز رہی۔
اس موقع پر پنجاب کے2029ء تک کے مصنوعی ذہانت کے روڈ میپ کا بھی ذکر کیا گیا، جسے امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری، شراکت داری اور عالمی معیار کی امریکی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے نئے مواقع سے ہم آہنگ قرار دیا گیا۔
نٹالی بیکر نے پاکستان کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں نیٹ سول ٹیکنالوجیز، کوڈ ننجا اور گیم ڈسٹرکٹ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے تیزی سے وسعت پاتے ہوئے ٹیکنالوجی شعبے کا عملی مشاہدہ کیا۔ ملاقاتوں کے دوران سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل خدمات اور مصنوعی ذہانت کے مختلف استعمالات پر گفتگو ہوئی۔
انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طلبہ سے بھی ملاقات کی اور ادارے کی ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ساتھ شراکت داری کا جائزہ لیا۔ اس شراکت داری کو اس امر کی مثال قرار دیا گیا کہ امریکی تعلیمی معیار کس طرح پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مضبوط کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
“
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں سب سے بڑی پیش رفت سرکاری و نجی شعبے، جامعات اور کاروباری افراد کے درمیان تعاون کے ذریعے سامنے آئے گی۔
ماہرینِ تعلیم، کاروباری رہنماؤں اور میڈیا نمائندوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے بیکر نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکی قیادت اور قابلِ اعتماد شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق جدت کو اقتصادی ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے باہمی تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ طویل عرصے سے پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اور سرمایہ کاری کے اہم ذرائع میں شامل ہے، جبکہ2025ء میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت8ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ موجودہ امریکی انتظامیہ کے تحت واشنگٹن پاکستان کے نجی شعبے، اختراع کاروں، جامعات اور حکومت کے ساتھ مل کر تجارت، سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت سمیت تیزی سے ترقی کرنے والی نئی ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
بیکر نے اس امر پر بھی اعتماد کا اظہار کیا کہ گہرا تعاون پاکستان کی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو محفوظ انداز میں تیار اور استعمال کرنے کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
پاک امریکہ تعلقات میں ٹیکنالوجی کا بڑھتا کردار
مبصرین نے پاک امریکہ تعلقات میں عملی اور نتائج پر مبنی تعاون کو آگے بڑھانے میں نٹالی بیکر کے فعال کردار کو سراہا ہے۔ جدت، تعلیم اور تجارتی شراکت داری کے حوالے سے ان کی مسلسل رسائی کو ایسے وقت میں دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کی مثبت کوشش قرار دیا جا رہا ہے جب دونوں ممالک ٹیکنالوجی کو باہمی مفاد کے لیے استعمال کرنے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
امریکہ کے فریڈم 250 جشن کے موقع پر لاہور سے سامنے آنے والا پیغام واضح ہے:آزادی، تخلیقی صلاحیت اور تعاون کی وہی روح جس نے ڈھائی صدیوں کے دوران امریکی ترقی کو آگے بڑھایا، اب مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے ساتھ نئی شراکت داری کے دروازے کھول رہی ہے۔
تصویری جھلکیاں
"`

