ایسا نصاب جسے ہم اعتماد کے ساتھ اپنے بچوں کے سامنے رکھ سکیں
تحریر:شیخ موسیٰ درامہ
بانی، STEMDUP Institute, Inc.
برونکس، نیو یارک
نصاب میں اصلاحات، برونکس، سعودی عرب
سعودی عرب کی جانب سے اپنے قومی تعلیمی نصاب پر نظرثانی کے حالیہ اقدامات حوصلہ افزا ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ دنیا بھر کے اسکولوں اور مذہبی اداروں میں استعمال ہونے والے اسلامی نصاب پر ازسرنو غور اور اسے بہتر بنانے کی ضرورت کی جانب ایک خوش آئند پہلا قدم ہے۔
طویل عرصے سے ایسے بعض تعلیمی مواد میں ایسی تشریحات اور تعلیمات شامل رہی ہیں جو تفرقہ پیدا کرنے والی، خود کو نقصان پہنچانے والی، قرآنِ کریم کی روح سے ہم آہنگ نہ ہونے والی اور پُرامن بقائے باہمی، فکری ترقی، صنفی مساوات اور معاشی و سماجی ترقی کے لیے درکار اقدار سے متصادم رہی ہیں۔
میں یہ بات محض ایک مبصر کی حیثیت سے نہیں کر رہا بلکہ ایک ایسے معلم کی حیثیت سے کر رہا ہوں جس نے اس چیلنج کا براہِ راست تجربہ کیا ہے۔ میری اہلیہ اور میں اسلامی لیڈرشپ اسکول کے بانیوں میں شامل تھے۔ یہ کے۔12سطح کا تعلیمی ادارہ تھا اور برونکس میں قائم ہونے والا پہلا باقاعدہ منظور شدہ مکمل وقت کا اسلامی اسکول تھا۔ ہم نے اس منصوبے کو غیر معمولی ایمان، عزم اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ شروع کیا تھا۔ ہماری خواہش تھی کہ مسلمان بچوں کو معیاری تعلیم حاصل ہو اور انہیں اپنی علمی ترقی اور مذہبی شناخت میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔ یہ آج بھی ہماری زندگی کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
اصل چیلنج صرف اسلامی اسکول قائم کرنا نہیں تھا
لیکن اس اسکول کی تعمیر نے ہمیں ایک ایسی حقیقت سے روشناس کرایا جس کا ہمیں مکمل اندازہ نہیں تھا۔ چیلنج صرف ایک اسلامی اسکول قائم کرنا نہیں تھا بلکہ ایسا اسلامی نصاب تلاش کرنا تھا جسے ہم پورے اعتماد کے ساتھ اپنے بچوں کے سامنے رکھ سکیں۔
اسلامی لیڈرشپ اسکول کے قیام کے چند ہی ماہ بعد اتفاقاً میری نظرPBSکے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو پر پڑی۔ پروگرام میں ایک ایسے معروف اور کثیر التصانیف مصنف سے گفتگو کی جا رہی تھی جن کی کتابیں اسلامی اسکولوں، کتب خانوں اور مساجد میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی تھیں۔ صحافی نے ان سے سوال کیا کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد دنیا بھر کے اسکولوں، کتب خانوں اور جمعہ کے خطبات میں ان کی کتابوں کے استعمال کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں۔
ان کا جواب میرے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا:
’’اگر مجھے اس وقت وہ سب معلوم ہوتا جو آج معلوم ہے تو میں ان کتابوں کو مختلف انداز میں لکھتا۔‘‘
یہ الفاظ سن کر میں رک گیا۔ ہمارے اسلامیات کے نصاب کی بنیاد بڑی حد تک انہی کی کتابوں پر قائم تھی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا: ’’ہمارے سامنے ایک مسئلہ ہے۔‘‘ یہی وہ لمحہ تھا جب ہم نے اس معاملے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔
سوال یہ نہیں کہ کتاب اسلامی ہے یا نہیں
اب سوال محض یہ نہیں رہا تھا کہ ’’کیا یہ ایک اسلامی کتاب ہے؟‘‘ اس سے کہیں زیادہ اہم سوال یہ بن گیا:
’’کیا یہ وہ علم ہے جسے ہم اپنے بچوں کے ذہنوں اور دلوں میں جگہ دینا چاہتے ہیں؟‘‘
یہ فرق بہت اہم ہے۔ بچے صرف وہ چیزیں یاد نہیں کرتے جو ہم انہیں پڑھاتے ہیں بلکہ وہ ان تعلیمات کو اپنے ساتھ لے کر بڑے ہوتے ہیں۔ یہی تعلیمات اس بات پر اثر انداز ہوتی ہیں کہ وہ اپنے دین کو کس طرح سمجھتے ہیں، دوسرے لوگوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، عورتوں اور مردوں کے بارے میں ان کا تصور کیا ہوتا ہے، اختلافِ رائے کا سامنا کیسے کرتے ہیں اور بالآخر معاشرے میں اپنا کردار کس طرح ادا کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیم کی ضرورت، مگر ذمہ دار نصاب کے ساتھ
ہمارے تجربے نے ہمیں یقین دلایا کہ اسلامی تعلیم کے لیے ایسے نصاب کی ضرورت ہے جو دینی بنیادوں پر قائم ہو، لیکن اس کے ساتھ فکری طور پر ذمہ دار، عمر کے لحاظ سے موزوں، عصرِ حاضر سے متعلق اور نوجوان مسلمانوں کو ایک متنوع دنیا میں اعتماد اور امن کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے تیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ بدقسمتی سے ایسے وسائل آج بھی محدود ہیں۔
اسی تجربے نے بالآخر ہمیں سیکولر STEMDUP Academy قائم کرنے کے فیصلے تک پہنچایا۔ اس ادارے کی بنیاد ایک اسلامی اسکول قائم کرنے کے دوران حاصل ہونے والے ہمارے عملی تجربات اور ان اسباق پر رکھی گئی جو ہم نے بحیثیت معلمین سیکھے تھے۔
ہم نے کبھی یہ نہیں سمجھا کہ حل اسلامی تعلیم کو ترک کرنا ہے۔ اس کے برعکس، ہمارا یقین ہے کہ اسلامی اسکول ایسے بچوں کی تربیت کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں جو علمی طور پر مضبوط، روحانی طور پر مستحکم، فکری طور پر جستجو رکھنے والے اور اپنی برادریوں کے لیے ذمہ داری کا احساس رکھنے والے ہوں۔
لیکن اس کے لیے ہمیں یہ جائزہ لینے کی آمادگی پیدا کرنا ہوگی کہ ہم کیا پڑھاتے ہیں، کیوں پڑھاتے ہیں اور جو تعلیمی مواد ہمیں ورثے میں ملا ہے، کیا وہ آج کے بچوں کی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔
اصلاحات کا مقصد ایمان کو رد کرنا نہیں
شاید نصاب میں اصلاحات کے حوالے سے موجودہ عالمی بحث ہمیں یہی موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ ہماری مذہبی شناخت یا فکری ورثے کو مسترد کرنے کی بات نہیں۔ یہ اس بات کی ہمت پیدا کرنے کا معاملہ ہے کہ ہم اسلام کے ابدی اصولوں اور انسانی تشریحات کے درمیان فرق کر سکیں، خصوصاً ان انسانی تشریحات کے درمیان جو شاید آج ہمارے بچوں یا معاشروں کی ضروریات پوری نہ کرتی ہوں۔
ہمارے بچے اس سے کم کے مستحق نہیں۔
مصنف کے بارے میں
شیخ موسیٰ درامہ برونکس، نیو یارک سے تعلق رکھنے والے معلم، امام اور بین المذاہب ہم آہنگی کے داعی ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ شریں ڈرامہ کے ساتھ2001میں اسلامی لیڈرشپ اسکول کی بنیاد رکھی، جو برونکس کا پہلا باقاعدہ منظور شدہ مکمل وقت کا اسلامی اسکول تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اسی ادارے کے تجربے کی بنیاد پر نصاب میں موجود خامیوں اور اصلاح کی ضرورت کی نشاندہی کی۔2025میں انہوں نے سیکولر STEMDUP Academy قائم کی۔ تعلیم کے علاوہ شیخ موسیٰ ڈرامہ بین المذاہب روابط اور ہولوکاسٹ کی یاد سے متعلق کام کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ Reflections from Israel نامی دستاویزی فلم میں بھی شریک رہے، جو Claims Conference اور جرمنی کی وزارتِ خزانہ کے اشتراک سے تیار کی گئی تھی۔
وہ اسلامی نصاب میں اصلاحات، مذہبی تعلیم میں صنفی مساوات اور مسلم۔یہودی مکالمے سمیت مختلف موضوعات پر لکھتے اور گفتگو کرتے ہیں۔
مصنف: شیخ موسیٰ درامہ — بانی، STEMDUP Institute, Inc. اور اسلامی لیڈرشپ اسکول کے شریک بانی، برونکس کا پہلا منظور شدہ مکمل وقت کا اسلامی اسکول۔

