• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » قومی کھیل کی موت؟
ایشیا

قومی کھیل کی موت؟

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 23, 2026Updated:اگست 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
کھیل⁦|⁩خصوصی تجزیہ

قومی کھیل کی موت؟ پاکستان ہاکی ورلڈ کپ⁦2026⁩میں زوال کی انتہا

چار بار کا عالمی چیمپئن اور تین بار کا اولمپک طلائی تمغہ جیتنے والا پاکستان آج عالمی ہاکی میں⁦12⁩ویں نمبر پر؛ ورلڈ کپ کے پول ڈی میں تین میچوں کے بعد صرف ایک پوائنٹ
اسحاق بلوچ

تحریر:
اسحاق بلوچ
چار بار کی عالمی چیمپئن، تین اولمپک طلائی تمغوں کی مالک اور کبھی دنیا کی طاقتور ترین ہاکی ٹیموں میں شمار ہونے والا پاکستان آج اپنے ماضی کے سائے میں کھڑا ہے۔⁦2026⁩کے عالمی کپ میں انگلینڈ سے شکست، ویلز کے خلاف ڈرا اور بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد گرین شرٹس پول ڈی میں صرف ایک پوائنٹ کے ساتھ مشکلات سے دوچار رہے۔ سوال اب صرف ایک ٹورنامنٹ کی ناکامی کا نہیں بلکہ پاکستان ہاکی کے پورے نظام کے مستقبل کا ہے۔

بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں جاری ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ⁦2026⁩میں پاکستان کی مہم انتہائی مایوس کن انداز میں آگے بڑھی۔ پاکستان نے اپنے پہلے میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں⁦4-1⁩سے شکست کھائی، دوسرے میچ میں ویلز کے خلاف⁦3-3⁩سے ڈرا کھیلا اور آخری پول میچ میں روایتی حریف بھارت سے⁦5-3⁩سے شکست کا سامنا کیا۔ نتیجتاً پاکستان نے تین میچوں میں صرف ایک پوائنٹ حاصل کیا اور پول ڈی میں چوتھی پوزیشن پر رہا۔

تین میچ، ایک پوائنٹ اور گہرا ہوتا بحران

پہلے میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو⁦4-1⁩سے شکست دی۔ پاکستان کی جانب سے واحد گول افراز نے کیا، لیکن مجموعی طور پر انگلینڈ نے کھیل پر زیادہ مؤثر کنٹرول برقرار رکھا۔

اس کے بعد ویلز کے خلاف مقابلہ پاکستان کے لیے جیتنے کا سنہری موقع تھا۔ عبدالرحمٰن نے تیسرے منٹ میں پاکستان کو برتری دلائی، لیکن ویلز نے گیریٹ فرلونگ اور ریس بریڈشا کے گولز کے ذریعے⁦2-1⁩کی برتری حاصل کرلی۔ آخری کوارٹر میں سفیان خان اور حنان شاہد نے پاکستان کو دوبارہ⁦3-2⁩کی برتری دلائی، مگر فرلونگ نے اپنا دوسرا گول کرکے میچ⁦3-3⁩سے برابر کردیا۔

اس ڈرا نے پاکستان کو ٹورنامنٹ کا پہلا پوائنٹ تو دیا، لیکن ایک ایسی ٹیم کے خلاف مکمل تین پوائنٹس حاصل نہ کرسکنا جسے عالمی ہاکی میں نسبتاً نیا فریق سمجھا جاتا ہے، پاکستانی شائقین کے لیے مزید تشویش کا باعث بنا۔

آخری پول میچ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف پاکستان⁦5-3⁩سے شکست کھا گیا۔ یوں تین میچوں کے بعد پاکستان کے پاس کوئی فتح نہ تھی، صرف ایک ڈرا اور دو شکستیں تھیں۔ پول ڈی میں انگلینڈ⁦9⁩پوائنٹس کے ساتھ پہلے، بھارت⁦6⁩پوائنٹس کے ساتھ دوسرے جبکہ پاکستان اور ویلز ایک ایک پوائنٹ کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہے۔

یہ صرف تین میچوں کی کہانی نہیں؛ یہ اس نظام کے زوال کی تصویر ہے جس نے کبھی پاکستان کو عالمی ہاکی کا بے تاج بادشاہ بنایا تھا۔

عالمی سپر پاور سے⁦12⁩ویں نمبر تک

پاکستان کی ہاکی تاریخ غیر معمولی کامیابیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایف آئی ایچ کے مطابق پاکستان چار مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیت چکا ہے، جو اب بھی ایک ریکارڈ ہے، جبکہ قومی ٹیم تین مرتبہ اولمپک طلائی تمغہ بھی حاصل کرچکی ہے۔ پاکستان نے عالمی کپ⁦1971⁩، 1978،⁦1982⁩اور⁦1994⁩میں جیتا۔

پاکستان نے⁦1960⁩، 1968 اور⁦1984⁩کے اولمپکس میں ہاکی کے طلائی تمغے حاصل کیے۔⁦1956⁩سے⁦1976⁩کے دوران پاکستان نے تین اولمپک سلور اور دو برونز میڈلز بھی جیتے، جس سے اس دور کی عالمی حیثیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مگر آج ایف آئی ایچ عالمی رینکنگ میں پاکستان⁦12⁩ویں نمبر پر ہے۔ خود ایف آئی ایچ کے⁦2026⁩ورلڈ کپ ٹیم پروفائل میں بھی پاکستان کو⁦12⁩ویں نمبر کی ٹیم قرار دیا گیا ہے۔

اولمپکس سے مسلسل دوری

1994 میں آخری مرتبہ عالمی کپ جیتنے کے بعد پاکستان بڑی عالمی کامیابیوں کے حصول میں مسلسل پیچھے جاتا رہا۔⁦2000⁩کے بعد پاکستان اولمپک ہاکی کے سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچ سکا، جبکہ⁦2016⁩، 2020 اور⁦2024⁩کے اولمپکس کے لیے قومی ٹیم کوالیفائی بھی نہ کرسکی۔

2018 کے عالمی کپ کے بعد⁦2026⁩میں پاکستان پہلی مرتبہ دوبارہ ہاکی ورلڈ کپ کے مرکزی مرحلے میں پہنچا۔ ایف آئی ایچ کے مطابق پاکستان نے⁦2026⁩ورلڈ کپ کوالیفائر میں دوسری پوزیشن حاصل کرکے عالمی کپ میں واپسی کی۔

پرو لیگ میں بھی آخری نمبر

ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کی عالمی ہاکی میں گرتی ہوئی پوزیشن کی ایک اور واضح مثال ایف آئی ایچ پرو لیگ⁦2025-26⁩رہی۔ پاکستان نو ٹیموں پر مشتمل لیگ میں آخری نمبر پر رہا۔ ایف آئی ایچ کے حتمی پوائنٹس ٹیبل کے مطابق پاکستان نویں پوزیشن پر تھا۔

پاکستان نے پرو لیگ کے اس سیزن میں ایک بھی میچ نہیں جیتا اور تمام⁦16⁩میچز میں شکست کھائی۔ آخری میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو⁦7-0⁩سے شکست دی، جبکہ پاکستان کا گول ڈیفرنس منفی⁦57⁩رہا۔ :contentReference[oaicite:8]{index=8}

اعداد و شمار جو خطرے کی گھنٹی ہیں

  • ورلڈ کپ ٹائٹل: 4
  • اولمپک طلائی تمغے: 3
  • 2026 عالمی رینکنگ: 12ویں پوزیشن
  • 2025-26 پرو لیگ: 9 ٹیموں میں آخری پوزیشن
  • 2025-26 پرو لیگ میں فتوحات: صفر
  • 2026 ورلڈ کپ پول ڈی: 3 میچ،⁦1⁩پوائنٹ

زوال کے پیچھے نظام کا بحران

پاکستان ہاکی کے زوال کو صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی یا کسی ایک کوچ کی ناکامی تک محدود کرنا مسئلے کی مکمل تصویر نہیں دیتا۔ کئی برسوں سے فیڈریشن کی انتظامی کشمکش، حکومتی مداخلت، وسائل کی کمی، کمزور ڈومیسٹک ڈھانچے اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے فقدان نے کھیل کی بنیادوں کو کمزور کیا ہے۔

سابق اولمپیئنز اور ہاکی سے وابستہ حلقوں پر بھی یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ کیا قومی کھیل کے فروغ کے لیے ان کی اجتماعی صلاحیت اور تجربہ مؤثر انداز میں استعمال ہوا؟ پاکستان کو صرف عہدوں کی سیاست نہیں بلکہ ایک ایسا پیشہ ورانہ نظام درکار ہے جس میں کوچنگ، ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ، فٹنس، اسپورٹس سائنس اور جدید ڈیٹا اینالیٹکس کو مستقل بنیادوں پر شامل کیا جائے۔

ڈومیسٹک نظام کی بربادی

پاکستان کی ہاکی کی طاقت کبھی صرف قومی ٹیم نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط ڈومیسٹک نظام موجود تھا۔ کسٹمز، پی آئی اے، واپڈا، پولیس، ریلوے، بینکوں اور دیگر قومی اداروں کی ٹیمیں کھلاڑیوں کو روزگار، تربیت اور مالی تحفظ فراہم کرتی تھیں۔

وقت کے ساتھ ان اداروں کی ٹیمیں ختم ہوئیں یا کمزور پڑ گئیں۔ اس تبدیلی نے کھلاڑیوں کے لیے مستقل کیریئر کے راستے محدود کردیے اور نئی نسل کے لیے ہاکی کو ایک محفوظ پیشہ سمجھنا مشکل ہوگیا۔

جب ایک باصلاحیت نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ قومی سطح تک پہنچنے کے باوجود مستقل روزگار، تربیتی سہولت اور مالی تحفظ یقینی نہیں تو کھیل میں طویل المدتی سرمایہ کاری کا جذبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

فیڈریشن، سیاست اور احتساب

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتظامی معاملات بھی برسوں سے تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔ حکومتی مداخلت، مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات اور تقرریوں سے متعلق تنازعات نے اس ادارے کی ساکھ اور فیصلہ سازی کو متاثر کیا ہے۔

فیڈریشن کے مالی معاملات بھی سوالات سے محفوظ نہیں رہے۔ ماضی کے آڈٹ اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، جنہوں نے اسپانسرز اور کھیل کے انتظامی ڈھانچے پر اعتماد کو متاثر کیا۔

اہم وضاحت: مالی بے ضابطگیوں، تقرریوں اور انتظامی بدعنوانی سے متعلق مخصوص الزامات کے لیے متعلقہ آڈٹ رپورٹس، سرکاری تحقیقات اور دستاویزی شواہد کو بنیادی حوالہ بنایا جانا چاہیے۔ کسی فرد یا ادارے کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا باقاعدہ تحقیقات کے بغیر مناسب نہیں۔

پاکستان نے عالمی ہاکی ورلڈ کپ کو کیا دیا؟

پاکستان کا عالمی ہاکی میں کردار صرف اپنے ٹائٹلز تک محدود نہیں۔ عالمی کپ کے قیام کی تاریخ میں بھی پاکستان کا اہم کردار رہا۔ ایئر مارشل نور خان نے عالمی ہاکی کپ کے انعقاد کا تصور پیش کیا، جسے بعد میں عالمی ہاکی کے ادارے نے قبول کیا۔ ابتدائی طور پر پہلا عالمی کپ لاہور میں منعقد ہونا تھا، لیکن سیاسی حالات کے باعث اسے بارسلونا منتقل کردیا گیا۔

پاکستان نے افتتاحی عالمی کپ کی ٹرافی بھی عطیہ کی تھی۔ یہ ٹرافی سونے، چاندی، ہاتھی دانت اور ساگوان کی لکڑی سے تیار کی گئی تھی اور آج بھی ہاکی ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان کے کردار کی علامت ہے۔

جس ملک نے دنیا کو ہاکی ورلڈ کپ کا تصور، افتتاحی ٹورنامنٹ کا فاتح اور اس کی شاندار ٹرافی دی، وہ آج خود عالمی ہاکی کے حاشیے پر کھڑا ہے۔

قومی کھیل کو بچانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟

پاکستان ہاکی کو بحال کرنے کے لیے فوری ردعمل کے بجائے ایک جامع اور طویل المدتی اصلاحاتی منصوبے کی ضرورت ہے۔ محض ایک غیر ملکی کوچ، چند نئے کھلاڑی یا ایک اچھی مہم اس بحران کا مستقل حل نہیں ہوسکتی۔

  • مضبوط ڈومیسٹک لیگ: مستقل اور باقاعدہ قومی لیگ قائم کی جائے جس میں کھلاڑیوں کو معقول معاوضہ اور پیشہ ورانہ معاہدے ملیں۔
  • جونیئر ڈویلپمنٹ: اسکول، کالج اور کلب سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ اور اکیڈمی پروگرام شروع کیے جائیں۔
  • پیشہ ورانہ فیڈریشن: انتظامی عہدوں پر سیاسی وابستگی کے بجائے اہلیت، تجربہ اور کارکردگی کو معیار بنایا جائے۔
  • مالی شفافیت: فیڈریشن کے بجٹ، آڈٹ، اسپانسرشپ اور اخراجات کی تفصیلات باقاعدگی سے عوام کے سامنے رکھی جائیں۔
  • اسپورٹس سائنس: فٹنس، نیوٹریشن، فزیوتھراپی، ویڈیو اینالیسس اور جدید ڈیٹا پر مبنی کوچنگ کو قومی نظام کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
  • مسلسل بین الاقوامی مقابلے: قومی ٹیم کو بڑے ٹورنامنٹس کے علاوہ مضبوط ٹیموں کے خلاف باقاعدہ سیریز اور کیمپ فراہم کیے جائیں۔
  • کھلاڑیوں کا معاشی تحفظ: قومی سطح کے کھلاڑیوں کے لیے مستقل یا طویل المدتی معاہدوں اور کیریئر سپورٹ کا نظام بنایا جائے۔

کیا قومی کھیل کا سورج غروب ہوچکا ہے؟

پاکستان ہاکی کی موجودہ صورتحال بلاشبہ تشویشناک ہے، لیکن اسے ’’موت‘‘ قرار دینا شاید قبل از وقت ہوگا۔ چار عالمی کپ اور تین اولمپک طلائی تمغوں کی تاریخ رکھنے والے ملک کے پاس ہاکی کا غیر معمولی ٹیلنٹ، عوامی جذبہ اور کھیل کا گہرا ثقافتی ورثہ اب بھی موجود ہے۔ مسئلہ صلاحیت کی مکمل عدم موجودگی نہیں بلکہ اسے منظم، مستقل اور پیشہ ورانہ نظام میں تبدیل کرنے کا ہے۔

2026 کے عالمی کپ میں انگلینڈ، ویلز اور بھارت کے خلاف نتائج نے پاکستان ہاکی کے بحران کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ اگر ان نتائج سے سبق نہ سیکھا گیا تو عالمی ہاکی میں پاکستان کا فاصلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر حکومت، فیڈریشن، سابق اولمپیئنز، کوچز، کھلاڑی، اسپانسرز اور نجی شعبہ ایک واضح اصلاحاتی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں تو بحالی اب بھی ممکن ہے۔

قومی کھیل کو صرف ماضی کی عظمت کے قصے سنا کر زندہ نہیں رکھا جاسکتا۔ اسے میدان، اکیڈمی، کلب، کوچ، کھلاڑی، وسائل اور شفاف انتظامی نظام دینا ہوگا۔ پاکستان ہاکی کی اصل جنگ اب کسی ایک میچ میں نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح کے لیے ہے۔

پاکستان نے کبھی دنیا کو ہاکی کھیلنا سکھایا تھا؛ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے ہی نظام کو دوبارہ سیکھے، درست کرے اور قومی کھیل کو ایک نئی زندگی دے۔
تحریر: اسحاق بلوچ
اسحاق بلوچ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleہمارے بچوں کے لیے کیسا نصاب ہونا چاہیے؟
Next Article عبدل السید کی سینیٹ مہم کو⁦CAIR⁩کی ایک لاکھ⁦75⁩ہزار ڈالر کی مالی مدد
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.