مشی گن میں عبدل السید کی سینیٹ مہم کو کیئر کی ایک لاکھ75ہزار ڈالر کی مالی مدد
مخالف امیدوار کی ایپک حمایت کو ’’غیر ملکی مداخلت‘‘ قرار دینے والی مہم کے درمیان کیئر کی مالی معاونت پر سوالات اٹھ گئے
امریکہ میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز(CAIR)نے مشی گن سے سینیٹ کی نشست کے لیے بائیں بازو کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کی انتخابی مہم کی خاموشی سے مالی معاونت کی ہے۔ کیئر وہ تنظیم ہے جس کے سربراہ نے7اکتوبر2023کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ اسے دیکھ کر ’’خوش‘‘ ہوئے تھے۔
کیئر کی جانب سے السید کی مہم کو دی جانے والی مالی مدد ایسے وقت سامنے آئی ہے جب السید نے اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری مہم میں اسرائیل نواز امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی(AIPAC)کو ہدف بنانا اپنی مہم کا ایک اہم حصہ بنا رکھا تھا۔ انہوں نے مشی گن کی کانگریس رکن ہیلی اسٹیونز کے خلاف مقابلے میں ایپک کی جانب سے ان کی حریف کی حمایت کو انتخابی عمل میں ’’غیر ملکی مداخلت‘‘ قرار دیا تھا۔
کیئر کے یونٹی اینڈ جسٹس فنڈ نے21جولائی کو ’’فائٹنگ فار مشی گن پی اے سی‘‘ کو ایک لاکھ75ہزار ڈالر دیے، جو عبدل السید کی سینیٹ مہم کی حمایت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
انتخابی مالیات کے ریکارڈ کے مطابق یہ رقم کیئر کے ’’یونٹی اینڈ جسٹس فنڈ‘‘ کی جانب سے دی گئی، جو تنظیم نے2024میں اس مقصد کے لیے قائم کیا تھا کہ ’’مسلم برادری کے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھایا جائے‘‘۔ یہ اقدام7اکتوبر2023کے بعد کیئر کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافے کے تناظر میں سامنے آیا۔
السید کی حمایت کرنے والا سب سے بڑا بیرونی گروپ
’’فائٹنگ فار مشی گن‘‘ خود کو ترقی پسند، مزدور، سابق فوجیوں اور مختلف سماجی تنظیموں کے اتحاد کے طور پر پیش کرتا ہے جو عبدل السید کو منتخب کرانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ گروپ اب تک السید کی حمایت کرنے والا سب سے بڑا بیرونی گروپ بن چکا ہے اور ڈیجیٹل اشتہارات اور رائے عامہ کے جائزوں پر تقریباً30لاکھ ڈالر خرچ کر چکا ہے۔
کیئر کی جانب سے فراہم کردہ قابلِ ذکر مالی معاونت نے السید کے اسرائیل مخالف مؤقف اور ان کے بعض متنازع سیاسی روابط پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ السید کو حسن پیکر کے ساتھ انتخابی مہم چلانے پر بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ حسن پیکر ایک معروف سیاسی انفلوئنسر ہیں جنہوں نے ماضی میں کہا تھا کہ ’’امریکہ9/11کا مستحق تھا‘‘ اور حماس کو اسرائیل سے ’’ایک ہزار گنا بہتر‘‘ قرار دیا تھا۔
ایپک کے خلاف بیانات اور یہود دشمنی کے الزامات
بعض یہودی رہنماؤں نے ایپک کے خلاف السید کے مسلسل حملوں پر ان پر یہود دشمنی کو فروغ دینے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ایپک نے ہیلی اسٹیونز کی حمایت کی تھی۔
السید نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ایپک نے اس انتخابی دوڑ میں ان کی حریف کو منتخب کرانے کے لیے ریکارڈ رقم خرچ کی ہے کیونکہ ان کے بقول وہ ’’ایک ایسی غیر ملکی حکومت کے لیے قابلِ اعتماد ووٹ‘‘ ہوں گی جو ’’نسل کشی میں مدد، اسلحہ اور معاونت‘‘ فراہم کر رہی ہے۔
عبدل السید کی انتخابی مہم نے اس سوال پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا کہ آیا کیئر کی جانب سے ان کی مہم کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت کو بھی اسی منطق کے تحت انتخابی عمل میں ’’غیر ملکی مداخلت‘‘ سمجھا جانا چاہیے جس کا الزام السید نے ایپک پر عائد کیا تھا۔
متنازع مذہبی و سیاسی روابط
السید نے اپنی انتخابی مہم کے دوران نیشن آف اسلام سے وابستہ بعض افراد سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ وہ یومِ مزدور کے اختتام ہفتے کے دوران ایک اسلامی کانفرنس میں بھی شرکت کرنے والے ہیں، جہاں ایسے مذہبی رہنما بھی موجود ہوں گے جنہوں نے ہولوکاسٹ کو ’’جھوٹا ڈراما‘‘ قرار دیا ہے۔
ایک اور مذہبی رہنما، جس کے بارے میں متنازع اور ’’پیڈوفیلیا سے متعلق بیانات‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے، کو واشنگٹن فری بیکن کی رپورٹ کے بعد کانفرنس کے ایک پینل سے ہٹا دیا گیا۔
کیئر اور یونٹی اینڈ جسٹس فنڈ
کیئر امریکہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی وکالتی تنظیموں میں سے ایک اور سب سے زیادہ متنازع تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے2008کی ایک وفاقی دہشت گردی کی تحقیقات کے دوران کیئر کو ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کے ’’غیر ملزم شریک سازش کار‘‘ کے طور پر نامزد کیا تھا۔ ہولی لینڈ فاؤنڈیشن پر حماس کے لیے فرنٹ گروپ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر رون ڈی سینٹس اور ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ بھی کیئر کو ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دے چکے ہیں اور اپنی ریاستی ایجنسیوں کو اس غیر منافع بخش ادارے کے ساتھ تعاون سے روک چکے ہیں۔
کیئر کے شریک بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد عواد نے2023کے اواخر میں7اکتوبر کے حماس حملے کے حوالے سے یہ کہہ کر شدید ردعمل پیدا کیا تھا کہ وہ اسرائیل پر حملہ دیکھ کر ’’خوش‘‘ ہوئے تھے۔ بائیڈن انتظامیہ نے عواد کے بیانات کو ’’یہود مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی اور کیئر کو اپنے ’’کمبیٹ اینٹی سیمٹزم‘‘ ورکنگ گروپ سے نکال دیا تھا۔
عواد نے2024میں ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران ایک ’’لابنگ تنظیم‘‘ بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ کیئر نے اسے ’’مسلم برادری کے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے‘‘ کے لیے قائم کیا ہے، خصوصاً غزہ کی جنگ کے بعد۔
’’اگر آپ اثر و رسوخ چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے لیے رقم خرچ کرنا ہوگی‘‘
نہاد عواد نے یونٹی اینڈ جسٹس فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے مالی وسائل ضروری ہیں۔
کیئر ایکشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر باسِم الکرا کو یونٹی اینڈ جسٹس فنڈ کا ابتدائی خزانچی مقرر کیا گیا تھا۔ انتخابی ریکارڈ کے مطابق کیئر ایکشن نے اس فنڈ کو ایک لاکھ85ہزار ڈالر فراہم کیے ہیں۔
دیگر اسرائیل مخالف گروپ بھی السید کے ساتھ
یونٹی اینڈ جسٹس فنڈ کی جانب سے ’’فائٹنگ فار مشی گن‘‘ کو دی جانے والی ایک لاکھ75ہزار ڈالر کی رقم اس فنڈ کی اب تک کی سب سے بڑی سیاسی ادائیگی ہے۔ گزشتہ سال اسی گروپ نے ’’نیویارکرز فار لوئر کاسٹس‘‘ کو ایک لاکھ ڈالر دیے تھے، جو اسرائیل مخالف گروپ ہے اور نیو یارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کی حمایت کر چکا ہے۔
’’فائٹنگ فار مشی گن پی اے سی‘‘ کو دیگر اسرائیل مخالف کارکنوں اور تنظیموں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ السید کے سسر طیب جوکاکو نے اس گروپ کو تین لاکھ ڈالر فراہم کیے ہیں۔ جوکاکو نے20جولائی کو یونٹی اینڈ جسٹس فنڈ کو مزید ایک لاکھ ڈالر بھی دیے۔
طیب جوکاکو اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے بانی ارکان میں شامل ہیں۔ مضمون کے مطابق یہ تنظیم امریکہ میں اخوان المسلمون کے عوامی چہرے کے طور پر کام کرتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو سمجھنے کے ادارے، جو اسرائیل مخالف تنظیم ہے اور ماضی میں یہ کہہ چکا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کی ’’بنیادی وجہ اسرائیل ہے‘‘، نے بھی ’’فائٹنگ فار مشی گن پی اے سی‘‘ کو چار لاکھ ڈالر فراہم کیے ہیں۔
اشتہارات میں اسرائیل حماس جنگ کا ذکر کم
ترقی پسند سیاسی کارکن ہنّا فرٹیگ کی جانب سے قائم کیے گئے ’’فائٹنگ فار مشی گن‘‘ نے السید کی حمایت میں لاکھوں ڈالر کے ڈیجیٹل اشتہارات چلائے ہیں۔ تاہم ان اشتہارات میں اسرائیل حماس جنگ کا ذکر بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے، حالانکہ یہی مسئلہ اس کے بعض بڑے عطیہ دہندگان کے لیے اہم سیاسی موضوع سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ اشتہارات میں السید کی ’’میڈی کیئر فار آل‘‘ اور کم اخراجات کی حمایت کو نمایاں کیا گیا ہے، جبکہ ایک اور اشتہار میں ان کے ہائی اسکول فٹ بال ٹیم کے کپتان رہنے کو اجاگر کیا گیا۔
انتخابی سروے بھی سوالات کی زد میں
’’فائٹنگ فار مشی گن‘‘ کے حالیہ مالیاتی گوشواروں میں دیگر دلچسپ تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ گروپ نے5Plus1نامی ایک سیاسی گروپ کو ’’غیر منافع بخش عطیہ‘‘ کے طور پر19,825ڈالر دیے۔ یہ گروپ ڈیٹرائٹ کے پادری ہوریس شیفیلڈ سے وابستہ ہے، جو السید کی حمایت کر چکے ہیں اور اپنے ٹاک ریڈیو پروگرام میں ان کے متعدد انٹرویوز بھی کر چکے ہیں۔
السید نے شیفیلڈ کی حمایت کو اپنی مہم میں نمایاں کیا ہے۔ دوسری جانب، فری بیکن کے مطابق السید نے شیفیلڈ سے وابستہ ایک اور گروپ ’’ایکومینیکل منسٹرز الائنس‘‘ کو سیاسی مشاورت کے لیے82,500ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس انتظام نے سیاسی مفادات کے بدلے مالی ادائیگیوں کے الزامات کو جنم دیا ہے، کیونکہ السید اور شیفیلڈ دونوں نے اپنے انٹرویوز کے دوران ان ادائیگیوں کا انکشاف نہیں کیا۔
’’فائٹنگ فار مشی گن پی اے سی‘‘ نے ڈیموکریٹک پرائمری کے ایسے سروے پر بھی دسیوں ہزار ڈالر خرچ کیے جو بعد میں انتہائی غلط ثابت ہوئے۔
گزشتہ ماہ اس گروپ نے ٹلچن ریسرچ کو24ہزار ڈالر ادا کیے۔ اس ادارے کے سروے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈیموکریٹک پرائمری میں عبدل السید کو ہیلی اسٹیونز پر19پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ تاہم حتمی نتیجے میں السید صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے اسٹیونز کو شکست دے سکے۔
انتخابی مہم کے لیے مزید مالی اخراجات
یونٹی اینڈ جسٹس فنڈ نے ووٹرز سے رابطے اور انتخابی مہم کی سرگرمیوں کے لیے ’’چیس اینڈ پورٹر‘‘ نامی مشاورتی فرم کو تقریباً40,267ڈالر ادا کیے ہیں۔ یہ فرم ملک بیڈون کی ملکیت ہے، جو ڈیئر بورن ہائٹس کے میئر کے چیف آف اسٹاف ہیں۔ ڈیئر بورن ہائٹس ڈیٹرائٹ کا ایک ایسا مضافاتی علاقہ ہے جہاں مسلم آبادی نمایاں ہے۔

