ممدانی نے دوست کی انتخابی مہم کے لیے ایسی کارکن کو بھرتی کیا جس نے بعد میں بروکلین ہائی اسکول میں ’’لیکسس چلانے والے، اسرائیل سے محبت کرنے والے صہیونیوں‘‘ کو دھمکی دی
نیو یارک سٹی کے مئیر ظہران ممدانی نے ماضی میں ایک ایسی انتخابی کارکن کو بھرتی کیا تھا جسے بعد ازاں ایک سرکاری ہائی اسکول میں یہودی نوعمر طلبہ کو ’’دہشت گردی کی دھمکی‘‘ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ بعد میں بروکلین کے ترقی پسند ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے اسے جیل سے بچنے کے لیے ایک نسبتاً نرم عدالتی معاہدہ دیا۔
2018 میں، جب ممدانی بروکلین میں صحافی راس بارکان کی ناکام ریاستی سینیٹ انتخابی مہم کے مہم منیجر تھے، انہوں نے ایمان عبد کو بطور معاوضہ انتخابی کارکن بھرتی کرنے کی نگرانی کی۔ ریاستی انتخابی مالیاتی ریکارڈ کے مطابق عبد کو جولائی اور اگست2018کے دوران بارکان کی مہم سے 540 ڈالر ادا کیے گئے۔ اس وقت ممدانی ایک ابھرتے ہوئے ترقی پسند سیاسی منتظم تھے اور انہوں نے اس مہم کا انتخابی فیلڈ آپریشن ابتدا سے ترتیب دیا تھا۔
سات سال بعد، اگست2025میں، ایمان عبد کو نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ(NYPD)نے اس وقت گرفتار کیا جب اس نے انسٹاگرام پر مین ہٹن بیچ کے لیون ایم گولڈسٹین ہائی اسکول فار دی سائنسز کا گوگل میپس اسکرین شاٹ پوسٹ کیا۔
’’اگر کسی بھی وجہ سے نیو یارک سٹی میں کسی سرکاری اسکول کو نشانہ بنانا ہو۔۔۔ لیکسس چلانے والے، اسرائیل سے محبت کرنے والے صہیونی سب یہاں پڑھتے ہیں۔‘‘
اس پوسٹ میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ طلبہ ’’سب برتھ رائٹ‘‘ پر جا چکے ہیں۔ مذکورہ اسکول ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں یہودی آبادی خاصی نمایاں ہے۔
ایمان عبد کو دہشت گردی کی دھمکی دینے، بچے کے لیے نقصان دہ طرزِ عمل اختیار کرنے، سنگین ہراسانی اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی دھمکی سمیت متعدد الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل وہ ریاستی سینیٹر جولیا سالازار کی انتخابی مہم میں بھی معاوضہ لے کر کام کر چکی تھیں۔
بعض رپورٹس میں انہیں رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کی2018کی انتخابی مہم سے وابستہ نوجوانوں کی منتظم بھی بتایا گیا، تاہم اوکاسیو کورٹیز کی ٹیم نے اس بات کی تردید کی کہ عبد کبھی ان کے عملے کا حصہ رہی تھیں اور ان دھمکیوں کی مذمت بھی کی۔
جیل سے بچنے کے لیے عدالتی معاہدہ
اگست2026کے آغاز میں ایمان عبد نے نفرت پر مبنی جرم کے طور پر سنگین ہراسانی کے الزام میں جرم قبول کر لیا۔ یہ جرم ایک سنگین نوعیت کا جرم تھا۔ بروکلین ڈسٹرکٹ اٹارنی ایرک گونزالیز کے دفتر نے انہیں جیل جانے سے بچانے کے لیے ایک معاہدے کی پیشکش کی۔
معاہدے کے تحت عبد کو قید کی سزا سے بچنے کے لیے متبادلِ قید پروگرام کے تحت 20 کونسلنگ سیشنز مکمل کرنا ہوں گے۔ اس کے بعد الزام کو نفرت پر مبنی جرم کی حیثیت ختم کرتے ہوئے ایک کم درجے کے جرم، یعنی معمولی نوعیت کے جرم، میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
اس فیصلے پر بعض ناقدین نے سخت اعتراض کیا۔ یونائیٹڈ جیوش ٹیچرز کے موشے اسپیرن سمیت ناقدین کا کہنا تھا کہ اس طرح کا نتیجہ یہ پیغام دیتا ہے کہ یہودی طلبہ اور اسکولوں کو دی جانے والی دھمکیوں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔
ایمان عبد کی جانب سے عوامی سطح پر کسی پشیمانی کا اظہار سامنے نہیں آیا۔ ممدانی کے ابتدائی سیاسی نیٹ ورک سے ان کا تعلق بھی2025کی مئیر کی انتخابی مہم کے دوران بڑی حد تک منظرِ عام پر نہیں آیا۔
ممدانی کے دفتر نے ان کی بھرتی یا بعد میں پیش آنے والے مقدمے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سوشلسٹ نیٹ ورک پر مزید سوالات
یہ واقعہ ایسے وقت میں نیو یارک کی ترقی پسند سیاسی قیادت کے گرد موجود نیٹ ورکس پر مزید سوالات اٹھاتا ہے جب شہر میں یہود مخالف دھمکیوں اور واقعات پر پہلے ہی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماخذ: فراہم کردہ رپورٹ

