"`
سی آئی اے چیف جان ریٹکلف کا ماسکو کا اچانک دورہ، واشنگٹن اور روس کے درمیان اہم خفیہ رابطہ
امریکی میڈیا کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے منگل کو ماسکو کا غیر اعلانیہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے روسی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی(سی آئی اے)کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے منگل کے روز اچانک اور غیر اعلانیہ طور پر ماسکو کا دورہ کیا اور روسی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ یوکرین پر روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ہونے والے حساس ترین معلوم رابطوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
CBS نیوز اور Axios نے سب سے پہلے ریٹکلف کے دورۂ ماسکو کی خبر دی، جبکہ DW اور رائٹرز کے مطابق یہ ملاقاتیں اس وقت ہوئیں جب فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ ایک امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ لٹویا سے ماسکو کے ونوکوو ایئرپورٹ پہنچا اور چند گھنٹے بعد وہاں سے روانہ ہوگیا۔
سی آئی اے یا کریملن کی جانب سے دورے کے مقصد کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ روسی صدارتی محل کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی کہا کہ انہیں مذکورہ طیارے کی آمد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
بظاہر یہ روس کا کسی موجودہ سی آئی اے ڈائریکٹر کا پہلا معلوم دورہ ہے، جب سے ولیم برنز نے نومبر2021میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی تھی۔
نومبر2021میں اس وقت کے سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات ماسکو کی جانب سے یوکرین پر حملہ شروع کیے جانے سے صرف چند ماہ قبل ہوئی تھی۔
جان ریٹکلف کے موجودہ دورۂ ماسکو کا وقت خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا کی ثالثی میں جاری کوششیں سست پڑ گئی ہیں، جبکہ روس اور یوکرین دونوں نے روایتی میدانِ جنگ سے باہر بھی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔
ایران کا معاملہ بھی پس منظر میں اہم
دوسری جانب واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جو روس کا قریبی شراکت دار ہے۔ امریکا نے مختلف ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ کاروباری روابط محدود کریں، بصورتِ دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق روس اور ایران کے درمیان فوجی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات گہرے ہیں۔ ان تعلقات میں یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں ماسکو کو ایران کی جانب سے ڈرونز کی فراہمی بھی شامل ہے۔
یوکرینی حکام نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ماسکو ایران کو ڈرون ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کر رہا ہے۔ تاہم روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ریٹکلف کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب واشنگٹن یوکرین میں روس کی فوجی حکمتِ عملی اور نیٹو کے عزم کو آزمانے کی وسیع تر کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ماسکو کے دورے کی سرکاری وجہ تاحال ظاہر نہیں کی گئی، تاہم انٹیلی جنس کے ذریعے ہونے والا یہ غیر معمولی رابطہ اس امکان کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب متعدد محاذوں پر خطرات بڑھ رہے ہیں، واشنگٹن اور ماسکو براہِ راست سفارتی ذرائع کے علاوہ پسِ پردہ رابطوں کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔
خاموشی بھی ایک پیغام؟
فی الحال عوامی طور پر دستیاب معلومات محدود ہیں:سی آئی اے کے سربراہ ماسکو گئے، ملاقاتوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں اور واشنگٹن و ماسکو دونوں جانب سے اس معاملے پر بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں۔
تاہم جنگ، پابندیوں اور تیزی سے بدلتے ہوئے اتحادوں کے اس دور میں واشنگٹن اور ماسکو کی جانب سے اختیار کی گئی یہ غیر معمولی خاموشی خود ایک اہم پیغام رکھتی دکھائی دیتی ہے۔ ریٹکلف کا ماسکو پہنچنا اور روسی حکام سے ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کی سطح کم اور کئی محاذوں پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

