"`
ایک ماہ بعد امریکا اور ایران میں براہِ راست جھڑپ، ٹرمپ کا ایران کو ’سخت جواب‘ دینے کا اعلان
امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً ایک ماہ بعد براہِ راست حملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’سخت جواب‘ دینے کی دھمکی دی ہے۔ نئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ وسیع فوجی تصادم کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
واشنگٹن/دبئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر31اگست کو ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو “سخت مارے گا”۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان تقریباً ایک ماہ بعد پہلی مرتبہ براہِ راست حملوں کا تبادلہ ہوا۔
حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب ایران نے رات گئے اردن میں موجود دو امریکی فضائی اڈوں پر میزائل داغے۔ ایران نے یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں واقع لارک جزیرے پر امریکی حملے کے جواب میں کی۔
واشنگٹن کے مطابق امریکی فوج نے ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا تھا جو آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق لارک جزیرے پر امریکی حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ارکان بھی شامل تھے۔
“ہم انہیں سخت ماریں گے، جواب دیا جائے گا۔”
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوکس نیوز سے گفتگو میں بیان
ٹرمپ:نئی کارروائی مکمل جنگ کی واپسی نہیں
بعد ازاں اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ حملوں کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا اور ایران دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔
انہوں نے ایران کو ایک “ناکام ملک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی معیشت اور فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس کے باوجود اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا ایران پر مزید حملہ نہیں کرے گا، تاہم انہوں نے مستقبل کے اقدامات کے بارے میں کہا کہ “دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ایسا کرنے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ ان کے بقول ایران پہلے ہی “فوجی طور پر مکمل شکست” سے دوچار ہے۔
ایرانی تیل تنصیبات سے متعلق مصنوعی ذہانت کی ویڈیوز
پیر کے روز اس سے پہلے ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ دو ویڈیوز بھی پوسٹ کیں جن میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر دھماکوں کے مناظر دکھائے گئے تھے۔
ویڈیوز کے ساتھ ٹرمپ نے پیغام درج کیا کہ “خارگ جزیرہ مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے”۔
تاہم امریکی حکام نے تصدیق کی کہ خارگ جزیرے پر ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ ایران نے ٹرمپ کی پوسٹ کو “مضحکہ خیز” قرار دیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعد میں کہا کہ ٹرمپ ایران کو “پیغام بھیج رہے تھے”۔
اردن میں ایرانی میزائل حملے
اردن کی فوج کے مطابق اس نے ان آٹھ میزائلوں کو روک لیا جو کنگ حسین اور الازرق فضائی اڈوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ان اڈوں پر امریکی فوجی دستے بھی موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے ایران کے تمام ایسے میزائل مار گرائے جو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
تہران نے کارروائی کو محدود تصادم قرار دے دیا
ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے رات بھر جاری رہنے والے حملوں کے تبادلے کو “محدود اور قابو میں رکھا گیا تصادم” قرار دیا، تاہم خبردار کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران سخت جواب دے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کرغزستان میں ایک علاقائی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ جاری رکھنا “کسی کے مفاد میں نہیں”۔
انہوں نے زور دیا کہ تہران اب بھی مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دیتا ہے۔
’اقتصادی جنگ‘ کی پالیسی اور نئی پابندیاں
یہ نئی کشیدگی کئی ہفتوں کی نسبتاً پرسکون صورتحال کے بعد سامنے آئی ہے، جس دوران ٹرمپ انتظامیہ نے فوجی کارروائی کے بجائے “اقتصادی جنگ” پر زیادہ توجہ مرکوز کی تھی۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران نئی ثانوی پابندیوں کے معاشی اثرات کے باعث “جوابی کارروائی کر رہا ہے”۔
ان کے مطابق بینکوں اور دیگر اداروں کو ہدف بنانے والی مزید پابندیاں بھی ہر ہفتے جاری کی جاتی رہیں گی۔
آبنائے ہرمز ایک بار پھر مرکزِ توجہ
آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ معمول کے حالات میں عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، تاہم رواں سال کے آغاز میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے یہ راستہ عملاً بند ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز صرف اس کی نگرانی میں دوبارہ کھولا جائے گا، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف جوابی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
چھ ماہ سے جاری تنازع اور مذاکرات کی ناکامی
تقریباً چھ ماہ سے جاری اس تنازع کا آغاز امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا۔ اس دوران متعدد فوجی کارروائیاں، عارضی جنگ بندیوں اور ناکام مذاکرات کے ادوار دیکھنے میں آئے۔
فی الحال نہ تو امریکا اور نہ ہی ایران بظاہر مکمل جنگ کی طرف واپس جانے کا ارادہ ظاہر کر رہا ہے، تاہم دونوں فریقوں نے کسی بھی نئے حملے کا جواب دینے کے لیے اپنی آمادگی واضح کر دی ہے۔
عالمی منڈی پر اثرات
نئی لڑائی اور مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی میں مزید خلل کے خدشات کے باعث منگل یکم ستمبر کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایرانی تیل کی برآمدات، امریکی پابندیوں اور خطے میں ممکنہ مزید فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی توانائی منڈی آنے والے دنوں میں بھی دباؤ کا شکار رہنے کا امکان ہے۔

