امریکی ایلچی وٹکوف اور کشنر یوکرین امن مذاکرات کے لیے ماسکو پہنچ گئے
جنگ کے خاتمے کے لیے روسی قیادت سے مذاکرات؛ امریکی وفد ماسکو کے بعد اتوار کو کیف جائے گا
ماسکو،5ستمبر 2026 — امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ہفتے کے روز ماسکو پہنچ گئے جہاں وہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں اہم مذاکرات کریں گے۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد
جیرڈ کشنر ہفتے کے روز ماسکو پہنچ گئے۔ متعدد رپورٹس میں ذرائع اور روسی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے
کہ دونوں امریکی نمائندے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے مقصد سے روسی دارالحکومت آئے ہیں۔
وٹکوف اور کشنر ماسکو کے ونوکووو ایئرپورٹ پر اترے، جہاں روسی صدر کے خصوصی ایلچی
کریل دیمترییف نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں امریکی نمائندوں اور دیمترییف کو لے جانے والا
موٹر کیڈ ماسکو شہر کی جانب روانہ ہوتا دیکھا گیا۔
پروازوں کی نگرانی سے متعلق دستیاب اعداد و شمار کے مطابق امریکی حکومت کا ایک طیارہ ہیلسنکی میں قیام کے بعد ماسکو پہنچا۔
ٹرمپ:وفد جنگ کے خاتمے کی تجویز لے کر آیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وٹکوف اور کشنر روس کے لیے جنگ ختم کرنے کی ایک تجویز لے کر گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ وٹکوف اور کشنر ’’جنگ کے خاتمے کی ایک تجویز‘‘ اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔
انہوں نے دونوں کو ’’بہترین مذاکرات کار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ
’’ممکن ہے کہ ہمارے پاس یہ کام کرنے کا ایک اچھا موقع ہو۔‘‘
تاہم ٹرمپ نے اس تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ اب پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہے،
اور اسے ختم کرنے کے لیے امریکا کی سفارتی کوششیں تاحال کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔
ماسکو کے بعد کیف روانگی
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نمائندے ماسکو میں قیام کے بعد
اتوار کو کیف جائیں گے۔ یہ وٹکوف اور کشنر کا یوکرین کے دارالحکومت کا پہلا دورہ ہوگا۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین مذاکرات کے لیے امریکی وفد کو محفوظ راستہ فراہم کرے گا۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ
ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے معاملے میں بھی باہمی تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔
تاہم رپورٹس کے مطابق روس نے رات کے وقت کیف کے قریب واقع یوکرینی ہوائی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے۔
بعد ازاں کریملن نے سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں دارالحکومت پر حملوں میں عارضی وقفے کا حوالہ دیا۔
امریکی وفد کا ماسکو کے بعد کیف جانا واشنگٹن کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ
شروع کرانے کی تازہ کوشش کا حصہ ہے۔
وٹکوف اور کشنر کے سابقہ ماسکو دورے
وٹکوف اور کشنر صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد متعدد مرتبہ ماسکو کا دورہ کرچکے ہیں، جہاں انہوں نے
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور دیگر روسی حکام سے ملاقاتیں اور مذاکرات کیے۔
دوسری جانب کریملن مسلسل یہ مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے کہ صدر پیوٹن کی بنیادی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ان شرائط میں روس کے علاقائی دعوے اور یوکرین کی جانب سے نیٹو کی رکنیت سے دستبرداری شامل ہیں۔
روس ان شرائط کو ناقابلِ تبدیلی قرار دیتا رہا ہے۔
اس سے قبل امریکا کی حمایت سے ہونے والی سفارتی کوششیں بھی کسی بڑے پیش رفت یا حتمی معاہدے کا باعث نہیں بن سکیں۔
مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی نئی امریکی کوشش
وٹکوف اور کشنر کا موجودہ دورہ واشنگٹن کی جانب سے تعطل کا شکار امن مذاکرات کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے
ایک نئی سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔
تاہم ہفتے کے روز تک امریکی حکومت یا کریملن کی جانب سے روسی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات
یا کسی مجوزہ امن منصوبے کے اصل مندرجات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
ماسکو اور کیف میں ہونے والی آئندہ ملاقاتیں اس بات کا اہم امتحان ہوں گی کہ آیا واشنگٹن روس اور یوکرین کے درمیان
طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی قابلِ عمل راستہ نکال پاتا ہے یا نہیں۔ فی الحال سب سے اہم سوال یہی ہے
کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کی جانے والی ممکنہ تجویز روس کی بنیادی شرائط اور یوکرین کے مطالبات کے درمیان
کس حد تک قابلِ قبول سمجھوتا پیدا کرسکتی ہے۔

