اسلام آباد:پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ سفارتی روابط اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے اور زیادہ جامع مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی تعاون کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ٹیکنالوجی اور علاقائی سفارت کاری کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سفارت کار نے خلیجی بحران کے دوران پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا بھی اعتراف کیا گیا۔ امریکی ناظم الامور نے کہا کہ پاکستان نے مشکل علاقائی حالات میں مفاہمت اور امن کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کیا۔
پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ علاقائی تنازعات کا پائیدار حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مختلف علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت حاصل ہے، جس کا اعتراف حالیہ امریکی بیانات میں بھی کیا گیا ہے۔
حالیہ پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب صرف انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی تک محدود نہیں رہے بلکہ اقتصادی تعاون بھی تیزی سے تعلقات کا اہم ستون بنتا جا رہا ہے۔
اسی سلسلے میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے زرعی ٹیکنالوجی اور اقتصادی تعاون سے متعلق ایک ویبینار میں بھی شرکت کی، جس میں امریکی کمپنیوں، پاکستانی حکام اور زرعی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے پاکستان کے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔
زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، تاہم پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، کم پیداواری صلاحیت اور روایتی کاشتکاری جیسے مسائل اس شعبے کو درپیش ہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید امریکی زرعی ٹیکنالوجی، بشمول پریسیژن فارمنگ، جدید آبپاشی نظام، ڈیجیٹل فارمنگ، بایوٹیکنالوجی، بہتر بیج اور فصل کے بعد ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات، پاکستانی زراعت کی پیداوار اور استعداد میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان تعاون صرف تجارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ علم، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی پر بھی مرکوز ہے، تاکہ مقامی کسانوں اور زرعی شعبے کی طویل المدتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق2025کے دوران امریکہ سے پاکستان کو زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات کا حجم ڈیڑھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ پاکستان نے فوڈ پروسیسنگ، زرعی مشینری، بایوٹیکنالوجی اور کولڈ چین انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اسی تناظر میں رواں سال پاکستان کے لیے امریکی محکمہ تجارت کے زیر اہتمام”سرٹیفائیڈ ایگریکلچرل ٹیکنالوجیز ٹریڈ مشن”بھی متوقع ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مثبت سفارتی اور اقتصادی رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں پاک امریکہ تعلقات کا محور صرف سیکیورٹی تعاون نہیں رہے گا بلکہ تجارت، زرعی ترقی، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام جیسے شعبے بھی دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے۔





