لندن:برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے غیر قانونی ہجرت کے خلاف”بے رحم اور مسلسل”کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت انگلش چینل کے راستے چھوٹی کشتیوں میں آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برنہم کے وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے پہلے دو ہفتوں کے دوران دو ہزار سے زائد پناہ گزین اور تارکین وطن چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کرکے برطانیہ پہنچے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت ریفارم یو کے نے”آپریشن فورٹریس”کے نام سے ایک نئی امیگریشن پالیسی پیش کی ہے، جس کے تحت برطانیہ پہنچنے والی چھوٹی کشتیوں کو روک کر واپس فرانس بھیجنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ریفارم یو کے کے رہنما نائجل فاریج نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آئی تو برطانیہ کی سرحدیں”ناقابلِ عبور”بنا دی جائیں گی اور صرف دو ہفتوں کے اندر چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی آمد کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
فاریج نے منصوبے کا اعلان اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں بڑھتے ہوئے ہجرتی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کیا، جہاں ہزاروں تارکین وطن خطرناک سفر کے بعد پہنچ چکے ہیں، جبکہ اس دوران درجنوں افراد اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں۔
تاہم ریفارم یو کے کی اس تجویز پر قانونی اور عملی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکمران لیبر پارٹی نے الزام عائد کیا کہ ریفارم یو کے اپنی مالی معاونت اور پارٹی رہنماؤں کو ملنے والے تحائف سے متعلق تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے پرانے امیگریشن منصوبوں کو نئے انداز میں پیش کر رہی ہے۔
دفاعی اور سلامتی امور کے ماہرین نے بھی اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سابق برطانوی پیرا ٹروپر اور ہنری جیکسن سوسائٹی کے سینئر ایسوسی ایٹ فیلو اینڈریو فاکس کے مطابق برطانوی بحریہ فرانس کی اجازت کے بغیر فرانسیسی سمندری حدود میں داخل ہو کر کشتیوں کو روکنے یا تارکین وطن کو واپس کیلے بندرگاہ نہیں بھیج سکتی۔
انہوں نے کہا کہ”یہی اس پالیسی کی بنیادی کمزوری ہے۔”برطانیہ میں غیر قانونی ہجرت گزشتہ کئی برسوں سے ایک اہم سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ مسلسل حکومتوں نے فرانس کے ساتھ تعاون اور سخت سرحدی اقدامات کے باوجود انگلش چینل کے ذریعے آنے والے تارکین وطن کی آمد روکنے کی کوشش کی ہے، تاہم اب تک یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔

