امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام)نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی بحری محاصرے کے دوران اب تک45تجارتی جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ دو جہازوں کو روک کر ان کی سرگرمیاں معطل کی گئیں اور مزید دو جہازوں کی تلاشی بھی لی گئی۔
سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ4اگست تک امریکی افواج نے محاصرے کے طریقہ کار پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے متعدد کارروائیاں کیں، جن میں تجارتی جہازوں کا رخ موڑنا، بعض جہازوں کو روکنا اور تلاشی لینا شامل ہے۔
بیان کے ساتھ امریکی بحریہ کے ایک اہلکار کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے، جو جنگی جہاز USS Boxer (LHD-4) کے جنگی انفارمیشن سینٹر میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق یہ جہاز ایران کے خلاف جاری بحری محاصرے کی کارروائیوں کی حمایت میں خطے کے پانیوں میں گشت کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا نے14جولائی کو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد تہران کے خلاف بحری محاصرے کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔ اس بحران کے نتیجے میں آبنائے ہرمز، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً20فیصد تیل کی ترسیل ہوتی تھی، تقریباً مکمل طور پر بند ہو گئی، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہوئے۔
دریں اثنا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق متعلقہ فریقوں کے درمیان رابطوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ معاہدے یا مشترکہ اعلان کا امکان ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان مذاکرات بدستور جاری ہیں، جن کا مقصد جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایسے راستوں کا تعین کرنا ہے جو ایران اور سلطنت عمان دونوں کے سیکیورٹی تقاضوں اور خودمختاری کا احترام کریں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سلسلے میں بہت جلد کسی معاہدے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب قطری وزارت خارجہ نے بھی خلیج میں کشیدگی کم کرنے اور بحری نقل و حمل کی بحالی کے لیے جاری سفارتی ثالثی کی کوششوں کی تصدیق کی ہے۔
ٹیگز:
