• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » <span class="utfx-rtl-content" dir="rtl">عبدل السید کی کامیابی پر تنازع، حماس نواز شخصیات اور انتہا پسند حلقوں کی حمایت پر سوالات</span>
امریکہ

عبدل السید کی کامیابی پر تنازع، حماس نواز شخصیات اور انتہا پسند حلقوں کی حمایت پر سوالات

ریپبلکن رہنما پہلے ہی عبدل السید کو ایک "انتہا پسند" امیدوار قرار دے رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ عام انتخابات میں ان کے حماس نواز، حزب اللہ سے ہمدردی رکھنے والے اور اسرائیل مخالف شخصیات سے روابط کو انتخابی مہم کا اہم موضوع بنایا جائے گا۔
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 5, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

امریکا کی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں عبدل السید کی کامیابی کے بعد ان کے سیاسی نظریات، متنازع شخصیات سے تعلقات اور انتخابی حمایت پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

عبدل السید کو سوشلسٹ رہنما برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن کے علاوہ ترک نژاد امریکی سیاسی مبصر حسن پائیکر کی بھی بھرپور حمایت حاصل رہی، جن پر ماضی میں حماس، ماؤ زے تنگ اور امریکا مخالف بیانات کی تعریف کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

اگرچہ رائے عامہ کے متعدد جائزوں میں عبدل السید کو واضح برتری حاصل تھی، تاہم وہ انتہائی معمولی فرق سے کامیاب ہوئے، جس سے ان کی سیاسی مقبولیت کے بارے میں نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران عبدل السید نے حسن پائیکر کے ساتھ ڈیٹرائٹ میں ایک انتخابی تقریب میں شرکت کی، جبکہ ان کی حمایت کرنے والوں میں ایسے مذہبی رہنما بھی شامل تھے جن پر ماضی میں یہود مخالف بیانات اور متنازع نظریات پھیلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

عبدل السید نے ایک ایسے مذہبی رہنما کے ساتھ بھی عوامی تقریبات میں شرکت کی جس پر ہولوکاسٹ سے متعلق متنازع بیانات دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اسی طرح انہیں ڈیئربورن ہائٹس کے امام حسن قزوینی کی بھی حمایت حاصل رہی، جنہیں سینیٹر برنی سینڈرز ماضی میں⁦”⁩زہریلے⁦”⁩خیالات اور⁦”⁩یہود مخالف سازشی نظریات⁦”⁩کا پرچار کرنے والا قرار دے چکے ہیں۔

عبدل السید کی حمایت کرنے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو امریکی خارجہ پالیسی، اسرائیل کے لیے امریکی امداد اور سرمایہ دارانہ نظام کے سخت ناقد ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق انتخابی تقریب میں شریک بعض حامیوں نے کھل کر اسرائیل کے لیے امریکی مالی امداد کی مخالفت کی، جبکہ دیگر نے خود کو سوشلسٹ نظریات کا حامی قرار دیتے ہوئے امریکی سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔

رپورٹ میں عبدل السید کے ذاتی مالی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اخبار کے مطابق وہ بیرون ملک متعدد کرائے کی جائیدادوں کے مالک ہیں، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ سرمایہ داری پر تنقید اور ذاتی سرمایہ کاری کے درمیان تضاد موجود ہے۔

ریپبلکن رہنما پہلے ہی عبدل السید کو ایک⁦”⁩انتہا پسند⁦”⁩امیدوار قرار دے رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ عام انتخابات میں ان کے حماس نواز، حزب اللہ سے ہمدردی رکھنے والے اور اسرائیل مخالف شخصیات سے روابط کو انتخابی مہم کا اہم موضوع بنایا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی عبدل السید کی کامیابی نے اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بعض پارٹی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے نظریات اور متنازع روابط عام انتخابات میں پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کے حامی اسے پارٹی میں نظریاتی تبدیلی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مشی گن کا انتخابی نتیجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی میں بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے امیدواروں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے، تاہم ان کے متنازع تعلقات اور سخت نظریاتی مؤقف عام انتخابات میں ان کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتے ہیں۔

اسرائیل الزبتھ وارن امریکا امریکی انتخابات امریکی سیاست انتخابی مہم انتہا پسندی برنی سینڈرز حزب اللہ حسن پائیکر حسن قزوینی حماس ڈیموکریٹک پارٹی سوشلسٹ سیاست عبدل السید مشی گن مشی گن سینیٹ واشنگٹن فری بیکن
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleسعودی کابینہ کا کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد کی عالمی حمایت کا خیرمقدم، غزہ امن معاہدے کا بھی خیرمقدم
Next Article ماگا بمقابلہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
مقبول ترین

ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.