امریکا کی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں عبدل السید کی کامیابی کے بعد ان کے سیاسی نظریات، متنازع شخصیات سے تعلقات اور انتخابی حمایت پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
عبدل السید کو سوشلسٹ رہنما برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن کے علاوہ ترک نژاد امریکی سیاسی مبصر حسن پائیکر کی بھی بھرپور حمایت حاصل رہی، جن پر ماضی میں حماس، ماؤ زے تنگ اور امریکا مخالف بیانات کی تعریف کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
اگرچہ رائے عامہ کے متعدد جائزوں میں عبدل السید کو واضح برتری حاصل تھی، تاہم وہ انتہائی معمولی فرق سے کامیاب ہوئے، جس سے ان کی سیاسی مقبولیت کے بارے میں نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران عبدل السید نے حسن پائیکر کے ساتھ ڈیٹرائٹ میں ایک انتخابی تقریب میں شرکت کی، جبکہ ان کی حمایت کرنے والوں میں ایسے مذہبی رہنما بھی شامل تھے جن پر ماضی میں یہود مخالف بیانات اور متنازع نظریات پھیلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
عبدل السید نے ایک ایسے مذہبی رہنما کے ساتھ بھی عوامی تقریبات میں شرکت کی جس پر ہولوکاسٹ سے متعلق متنازع بیانات دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اسی طرح انہیں ڈیئربورن ہائٹس کے امام حسن قزوینی کی بھی حمایت حاصل رہی، جنہیں سینیٹر برنی سینڈرز ماضی میں”زہریلے”خیالات اور”یہود مخالف سازشی نظریات”کا پرچار کرنے والا قرار دے چکے ہیں۔
عبدل السید کی حمایت کرنے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو امریکی خارجہ پالیسی، اسرائیل کے لیے امریکی امداد اور سرمایہ دارانہ نظام کے سخت ناقد ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق انتخابی تقریب میں شریک بعض حامیوں نے کھل کر اسرائیل کے لیے امریکی مالی امداد کی مخالفت کی، جبکہ دیگر نے خود کو سوشلسٹ نظریات کا حامی قرار دیتے ہوئے امریکی سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ میں عبدل السید کے ذاتی مالی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اخبار کے مطابق وہ بیرون ملک متعدد کرائے کی جائیدادوں کے مالک ہیں، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ سرمایہ داری پر تنقید اور ذاتی سرمایہ کاری کے درمیان تضاد موجود ہے۔
ریپبلکن رہنما پہلے ہی عبدل السید کو ایک”انتہا پسند”امیدوار قرار دے رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ عام انتخابات میں ان کے حماس نواز، حزب اللہ سے ہمدردی رکھنے والے اور اسرائیل مخالف شخصیات سے روابط کو انتخابی مہم کا اہم موضوع بنایا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی عبدل السید کی کامیابی نے اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بعض پارٹی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے نظریات اور متنازع روابط عام انتخابات میں پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کے حامی اسے پارٹی میں نظریاتی تبدیلی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مشی گن کا انتخابی نتیجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی میں بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے امیدواروں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے، تاہم ان کے متنازع تعلقات اور سخت نظریاتی مؤقف عام انتخابات میں ان کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتے ہیں۔

