• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » پراکسیوں کا کھیل اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل
اسرائیل

پراکسیوں کا کھیل اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 23, 2026Updated:اگست 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

اشفاق آذر
تجزیہ و کالم

تحریر: اشفاق آذر

مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ بعض اوقات جنگ کسی اور کے ہاتھ میں بندوق دے کر لڑی جاتی ہے۔ یہی پراکسی وار ہے، اور گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ اس سیاست کا سب سے بڑا میدان بنا ہوا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ بعض اوقات جنگ کسی اور کے ہاتھ میں بندوق دے کر لڑی جاتی ہے۔ ایک ریاست اپنے مفادات کے لیے کسی دوسرے ملک میں موجود مسلح گروہ کی پشت پناہی کرتی ہے، اسے وسائل، تربیت اور سیاسی سہارا فراہم کرتی ہے، جبکہ میدان میں مرنے والے لوگ اس ریاست کے شہری نہیں ہوتے۔ یہی پراکسی وار ہے، اور گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ اس سیاست کا سب سے بڑا میدان بنا ہوا ہے۔

پراکسی جنگوں کی بنیاد کسی ایک واقعے میں تلاش نہیں کی جاسکتی۔ فلسطین کا حل طلب مسئلہ، عرب اسرائیل جنگیں، لبنان کی خانہ جنگی،⁦1979⁩کا ایرانی انقلاب، ایران عراق جنگ، افغانستان کی جنگ، عراق پر امریکی حملہ، عرب بہار اور شام و یمن کے بحرانوں نے مل کر وہ ماحول پیدا کیا جس میں غیر ریاستی مسلح قوتوں کو پنپنے کا موقع ملا۔ جہاں ریاست کمزور ہوئی، سیاسی نظام ناکام ہوا یا بیرونی مداخلت بڑھی، وہاں کسی نہ کسی مسلح گروہ نے اپنی جگہ بنا لی۔

ایران نے خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور سلامتی کے لیے ایسے گروہوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے جنہیں وہ اپنے علاقائی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتا رہا۔ لبنان میں حزب اللہ اس پالیسی کی نمایاں مثال ہے۔ عراق، شام اور یمن میں بھی ایرانی اثر و رسوخ سے وابستہ مسلح گروہوں نے خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کیا۔ لیکن پراکسی سیاست کو صرف ایران تک محدود کرنا بھی درست نہیں۔ سعودی عرب، ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر ریاستیں بھی مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اور مسلح فریقوں کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ شام اس کی واضح مثال ہے، جہاں ایک داخلی بحران رفتہ رفتہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی کشمکش میں بدل گیا۔

پراکسی گروہوں کی طاقت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ محض بیرونی طاقتوں کے بنائے ہوئے ڈھانچے نہیں ہوتے۔ ان کی جڑیں اکثر مقامی محرومیوں، سیاسی ناانصافی، فرقہ وارانہ خوف، قبضے، ریاستی جبر یا معاشی عدم مساوات میں ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف فوجی طاقت سے ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جب کوئی گروہ طویل عرصے تک ایک علاقے میں موجود رہتا ہے تو وہ سیاسی، سماجی اور معاشی نیٹ ورک بنا لیتا ہے اور بعض اوقات ریاست کے متبادل کے طور پر سامنے آجاتا ہے۔

’’کمزور ریاستیں مسلح گروہوں کو جنم دیتی ہیں، اور طاقتور مسلح گروہ ریاست کو مزید کمزور کردیتے ہیں۔‘‘

یہیں سے مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا المیہ شروع ہوتا ہے۔ کمزور ریاستیں مسلح گروہوں کو جنم دیتی ہیں، اور طاقتور مسلح گروہ ریاست کو مزید کمزور کردیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ملک میں فوج اور حکومت کے ساتھ کئی دوسری طاقتیں بھی اپنے ہتھیار اور اپنی وفاداریاں رکھتی ہیں۔ قانون کی بالادستی متاثر ہوتی ہے، سیاسی اختلاف تشدد میں بدلتا ہے اور عام شہری مسلسل خوف اور عدم تحفظ میں زندگی گزارتے ہیں۔

عراق، شام، یمن، لبنان اور فلسطینی علاقوں کے عوام نے اس سیاست کی سب سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، معیشتیں تباہ ہوئیں اور ایک پوری نسل نے جنگ کے ماحول میں آنکھ کھولی۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلے کا حل صرف تمام مسلح گروہوں کو طاقت کے ذریعے ختم کرنا ہے۔ اگر ان گروہوں کے پیچھے موجود سیاسی اور سماجی مسائل حل نہ کیے جائیں تو ایک گروہ کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ پیدا ہوسکتا ہے۔

اسی لیے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا راستہ صرف فوجی کارروائی سے نہیں بلکہ سیاسی حل سے نکلے گا۔ سب سے پہلے خطے کی بڑی طاقتوں کو پراکسی جنگ کی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ایران، سعودی عرب، ترکی، اسرائیل اور دیگر ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک دوسرے کے خلاف مسلح گروہوں کو استعمال کرنا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کرتا ہے۔

فلسطین کا مسئلہ اس پورے بحران کا مرکزی پہلو ہے۔ جب تک فلسطینیوں کے سیاسی حقوق، سلامتی اور مستقبل کے سوال کا کوئی قابلِ عمل حل نہیں نکلتا، مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ صرف عسکری طاقت سے اسرائیل کو طویل المدتی سلامتی نہیں مل سکتی اور صرف مسلح مزاحمت سے فلسطینیوں کو ایک محفوظ اور باوقار مستقبل حاصل نہیں ہوسکتا۔ دونوں کے درمیان کسی سیاسی سمجھوتے کی طرف جانا ہی واحد پائیدار راستہ ہے۔

اسی طرح عراق، شام، لبنان اور یمن میں ایسی ریاستی ادارہ جاتی طاقت بحال کرنا ہوگی جو تمام شہریوں کو برابر تحفظ دے۔ ریاست کے پاس قانون نافذ کرنے کا واحد جائز اختیار ہو، سیاسی اختلاف پارلیمنٹ میں حل ہو، عدالتیں مؤثر ہوں اور شہریوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی مسلح گروہ کا سہارا نہ لینا پڑے۔ جہاں ریاست انصاف، تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے، وہاں غیر ریاستی طاقتیں لازماً جگہ بناتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ صرف فرقہ واریت یا پراکسیز کا مسئلہ نہیں؛ یہ ریاستی کمزوری، طاقت کی علاقائی کشمکش، تاریخی تنازعات اور سیاسی ناانصافیوں کا مجموعہ ہے۔ اس لیے امن بھی ایک ہی قدم سے قائم نہیں ہوگا۔ ایران اور عرب ممالک کے درمیان مذاکرات، اسرائیل فلسطین تنازع کا سیاسی حل، علاقائی طاقتوں کے درمیان عدم مداخلت کے اصول اور کمزور ریاستوں میں مضبوط سیاسی اداروں کی تعمیر، یہ سب ایک ہی عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔

آخرکار مشرقِ وسطیٰ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کب تک اپنی جنگیں دوسروں کے ہاتھوں لڑواتا رہے گا۔ پراکسی کے ذریعے حاصل کی گئی فتح شاید وقتی ہو، مگر اس کی قیمت نسلیں ادا کرتی ہیں۔ پائیدار امن اس وقت ممکن ہوگا جب خطے کی ریاستیں یہ تسلیم کریں کہ دوسروں کے علاقوں میں مسلح گروہوں کے ذریعے اپنا اثر بڑھانے کے بجائے براہِ راست سفارت کاری اور سیاسی مفاہمت زیادہ محفوظ راستہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کو مزید جنگجوؤں، ملیشیاؤں اور میزائلوں کی نہیں، مضبوط ریاستوں، سیاسی انصاف اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے۔ ورنہ جنگیں ختم نہیں ہوں گی؛ صرف ان کے نام، کردار اور میدان بدلتے رہیں گے، جبکہ قیمت ہمیشہ عام لوگ ادا کرتے رہیں گے۔

اشفاق آذر شاعر، صحافی اور پرنٹ و ٹی وی نیوز مدیر ہیں۔

ڈس کلیمر

نیو یارک اُردو پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اشفاق آذر
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleاب بیروت کو فیصلہ کرنا ہوگا
Next Article ہمارے بچوں کے لیے کیسا نصاب ہونا چاہیے؟
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.