• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » <span class="utfx-rtl-content" dir="rtl">امریکی کانگریس میں عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے ’’رائٹ ٹو ورشپ ایکٹ‘‘ پیش</span>
امریکہ

امریکی کانگریس میں عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے ’’رائٹ ٹو ورشپ ایکٹ‘‘ پیش

بل کی قیادت سینیٹر ایلیسا سلاٹکن (ڈیموکریٹ، مشی گن)، سینیٹر ٹیڈ کروز (ریپبلکن، ٹیکساس)، رکن کانگریس بریڈ ناٹ (ریپبلکن، شمالی کیرولائنا) اور رکن کانگریس ٹام سوزی (ڈیموکریٹ، نیویارک) کر رہے ہیں۔
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 7, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

واشنگٹن⁦:⁩امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان نے مشترکہ طور پر ’’رائٹ ٹو ورشپ ایکٹ‘‘ (Right to Worship Act) کے نام سے ایک وفاقی بل پیش کر دیا ہے، جس کا مقصد عبادت گاہوں کے اطراف مذہبی آزادی اور محفوظ رسائی کو یقینی بنانا ہے۔

اس قانون کے تحت کسی بھی عبادت گاہ کے پیدل یا گاڑیوں کے داخلی راستے سے⁦100⁩فٹ کے دائرے میں ایسی سرگرمی ممنوع ہوگی جو جان بوجھ کر مقررہ مذہبی عبادات میں خلل ڈالے، عبادت کے لیے آنے والوں کی رسائی میں رکاوٹ بنے یا انہیں دھمکانے، خوفزدہ کرنے یا ہراساں کرنے کا سبب بنے۔ یہ پابندی عبادت کے مقررہ وقت کے علاوہ اس سے ایک گھنٹہ قبل اور ایک گھنٹہ بعد تک نافذ رہے گی۔

بل کی قیادت سینیٹر ایلیسا سلاٹکن⁦(⁩ڈیموکریٹ، مشی گن⁦)⁩، سینیٹر ٹیڈ کروز⁦(⁩ریپبلکن، ٹیکساس⁦)⁩، رکن کانگریس بریڈ ناٹ⁦(⁩ریپبلکن، شمالی کیرولائنا⁦)⁩اور رکن کانگریس ٹام سوزی⁦(⁩ڈیموکریٹ، نیویارک⁦)⁩کر رہے ہیں۔

یہ قانون ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب امریکہ بھر میں یہودی عبادت گاہوں⁦(⁩سیناگاگ⁦)⁩سمیت مختلف مذہبی اداروں کے باہر احتجاج، ہراسانی اور دھمکی آمیز واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مجوزہ قانون کے مطابق صرف وہی طرزِ عمل غیر قانونی تصور ہوگا جو عبادت میں نمایاں رکاوٹ پیدا کرے یا لوگوں کو عبادت میں شرکت سے روکنے، ڈرانے یا ہراساں کرنے کا باعث بنے۔ تاہم، پرامن احتجاج اور آئین کی پہلی ترمیم (First Amendment) کے تحت حاصل آزادیِ اظہار کے حقوق محفوظ رہیں گے، بشرطیکہ ان سے عبادت میں خلل نہ پڑے۔

قانون کی خلاف ورزی پر مرحلہ وار سول جرمانے عائد کیے جائیں گے، جبکہ متاثرہ افراد، امریکی اٹارنی جنرل یا ریاستی اٹارنی جنرل عدالت سے حکمِ امتناع اور ہرجانے کے لیے مقدمہ دائر کر سکیں گے۔ عبادت گاہوں کو اپنی عبادات کے اوقات عوامی طور پر ظاہر کرنے کا پابند نہیں بنایا جائے گا۔

سینیٹر ایلیسا سلاٹکن نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اپنی عبادت گاہ جانے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ’’رائٹ ٹو ورشپ ایکٹ‘‘ مذہبی اداروں کے⁦100⁩فٹ کے دائرے میں ایسے خلل انگیز رویوں کو روکے گا جو لوگوں کو دھمکانے یا عبادت سے روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں جماعتوں کے ارکان اس قانون کی منظوری کے لیے مل کر کام کریں گے۔

سینیٹر ٹیڈ کروز نے کہا کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم ہر شہری کو اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کا حق دیتی ہے اور کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ اس حق کا تحفظ یقینی بنائے۔ ان کے بقول حالیہ برسوں میں نفرت پر مبنی منظم سرگرمیوں کے ذریعے اس حق کو متاثر کرنے کی کوششیں کی گئیں جنہیں آزادیِ اظہار کے نام پر درست قرار دیا جاتا رہا۔

رکن کانگریس ٹام سوزی، جنہوں نے رواں سال کے آغاز میں SACRED Act کے نام سے ایک متعلقہ بل بھی پیش کیا تھا، نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اپنی سیناگاگ، چرچ، مسجد، مندر، مندر⁦(Mandir)⁩یا گردوارے میں داخل ہونے کے لیے غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔

رکن کانگریس بریڈ ناٹ کے مطابق یہ بل پرامن اظہارِ رائے کا تحفظ برقرار رکھتے ہوئے عبادت گزاروں کو ان عناصر کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرے گا جو انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس قانون کی تیاری میں اینٹی ڈیفیمیشن لیگ⁦(ADL)⁩نے بھی تعاون کیا ہے اور تنظیم نے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اے ڈی ایل کے چیف ایگزیکٹو جوناتھن گرین بلیٹ نے کہا کہ کسی بھی شخص کو عبادت کرنے کے لیے دشمنانہ ہجوم سے گزرنے یا لاؤڈ اسپیکر کے شور میں دعا کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔

بل کی حمایت کرنے والی تنظیموں میں امریکن جیوش کمیٹی، اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ، ہندو امریکن فاؤنڈیشن، یونائیٹڈ سکھس، اگوداتھ اسرائیل آف امریکہ، جیوش فیڈریشنز آف نارتھ امریکہ، آرتھوڈوکس یونین، یو جے اے فیڈریشن آف نیویارک، بی اے پی ایس سوامی نارائن سنستھا، کولیشن آف ہندوز آف نارتھ امریکہ، ہیڈاسا، کامبیٹ اینٹی سیمیٹزم موومنٹ اور امریکن مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل⁦(AMMWEC)⁩شامل ہیں۔

یہ مجوزہ قانون ریاستی سطح پر کیے گئے اقدامات، خصوصاً نیویارک میں عبادت گاہوں کے گرد بفر زون قائم کرنے کے قانون، کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس میں مذہبی آزادی اور آزادیِ اظہار کے درمیان آئینی توازن کو برقرار رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکن مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل⁦(AMMWEC)⁩نے بھی اس قانون کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کی صدر انیلہ علی نے کہا کہ احتجاج ہر امریکی کا آئینی حق ہے، لیکن کسی دوسرے شہری کو اپنے مذہب پر محفوظ طریقے سے عمل کرنے سے روکنا یا اسے خوفزدہ کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی سیناگاگ، چرچ، مسجد، مندر یا گردوارے کو خطرہ لاحق ہو تو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کو متحد ہو کر مذہبی آزادی کے دفاع کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق عبادت کی آزادی تمام امریکیوں کا بنیادی حق ہے اور اس کے تحفظ کو کبھی بھی سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

AMMWEC آزادی اظہار امریکہ امریکی قانون امریکی کانگریس انیلہ علی ایلیسا سلاٹکن اینٹی ڈیفیمیشن لیگ بریڈ ناٹ بین المذاہب ہم آہنگی ٹام سوزی چرچ رائٹ ٹو ورشپ ایکٹ سیناگاگ سینیٹر ٹیڈ کروز عبادت گاہیں گردوارہ مذہبی آزادی مذہبی تحفظ مذہبی حقوق مسجد مندر ورڈپریس
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleسعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے⁦”⁩مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے⁦”⁩پر دستخط کر دیے
Next Article سینیٹ سماعت میں امریکہ میں اخوان المسلمین کے مبینہ نیٹ ورک پر سنگین الزامات
نیوز ڈیسک

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.