تہران:ایران کے جنوبی صوبہ فارس کے دارالحکومت شیراز میں انقلابی عدالت کے پہلے شعبے نے دو نوجوانوں،23سالہ مجتبی دہبندی اور27سالہ کیانوش حمزہ کازرونی، کو”جنگ”کے الزام میں سزائے موت سنا دی ہے۔
شائع شدہ رپورٹس کے مطابق مقدمہ اس واقعے سے متعلق ہے جس میں دونوں نوجوانوں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے چند افراد کو علاج کی غرض سے اپنی جائے کار پر منتقل کیا تھا۔
باخبر ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے نگرانی کے کیمروں کی مدد سے دونوں کی شناخت کی اور واقعے کے آٹھ روز بعد انہیں گرفتار کر لیا۔
استغاثہ کی فردِ جرم میں احتجاجی مظاہرین کو پناہ دینے، قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، عوامی املاک کو نذر آتش کرنے اور قرآن مجید کا نسخہ جلانے جیسے الزامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم ملزمان یا ان کے وکلا کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سزا پانے والے دونوں افراد کے اہلِ خانہ پر مقدمے کی تفصیلات منظر عام پر نہ لانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم عبدالرحمن برومند فاؤنڈیشن کے مطابق2026کے آغاز سے اب تک ایران میں کم از کم908افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ تنظیم کے مطابق صرف جولائی کے مہینے میں67جبکہ اگست کے ابتدائی چار دنوں میں کم از کم آٹھ سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ شفافیت کی کمی اور متعدد مقدمات کا سرکاری طور پر اعلان نہ کیے جانے کے باعث مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوتے۔
تنظیم کے مطابق ایران میں سزائے موت، گرفتاریوں اور عدالتی کارروائیوں سے متعلق معلومات زمینی نگرانی، کھلے ذرائع اور ملک کے اندر موجود رابطہ کاروں کے نیٹ ورک کے ذریعے جمع کی جاتی ہیں۔
فاؤنڈیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ متعدد پھانسیوں کو خفیہ رکھا جاتا ہے اور سزا پانے والوں کی تفصیلات عام نہیں کی جاتیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سزائے موت کو صرف عدالتی سزا ہی نہیں بلکہ سیکیورٹی اور سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ12ماہ کے دوران ایران میں1,500سے زائد افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے، جبکہ رواں سال کے آغاز سے اب تک908سے زیادہ پھانسیوں پر عمل درآمد کیا گیا ہے، جو ملک میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی اصلاح پسند اتحاد”ایرانی اصلاحات فرنٹ”نے عدلیہ کے سربراہ کے نام ایک کھلے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ سزائے موت کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ قومی اتحاد، عوامی اعتماد اور قانون کی بالادستی کو مضبوط بنانے کے لیے شہریوں، وکلا، ماہرین تعلیم، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے تنقید اور اظہارِ رائے کے حق کا احترام ضروری ہے۔ اصلاح پسند گروپ نے خبردار کیا کہ ایسے معاملات کو محض سیکیورٹی نقطۂ نظر سے دیکھنا مناسب نہیں۔

