واشنگٹن:امریکی سینیٹ کی جوڈیشری ذیلی کمیٹی کے چیئرمین اور ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے امریکا میں اخوان المسلمین کے مبینہ اثر و رسوخ پر سماعت کی صدارت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم نے کئی دہائیوں کے دوران امریکی اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں، جامعات، سیاسی اداروں اور ٹیکس دہندگان کے فنڈ سے چلنے والے پروگراموں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔”ہِڈن اِن پلین سائٹ:امریکا میں اخوان المسلمین کے نیٹ ورک کا سامنا”کے عنوان سے ہونے والی سماعت میں اخوان المسلمین کے مبینہ نیٹ ورک اور اس سے وابستہ تنظیموں کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔
اپنے افتتاحی خطاب میں سینیٹر ٹیڈ کروز نے کہا کہ سماعت کا مقصد دو بنیادی سوالات کا جائزہ لینا ہے:پہلا، اخوان المسلمین نے امریکا میں اپنا نیٹ ورک کیسے قائم کیا، اور دوسرا، آج یہ نیٹ ورک کس شکل میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ منظم جہادی تحریکوں کو محض اس لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے عزائم ناقابلِ یقین محسوس ہوتے ہیں۔
ٹیڈ کروز نے ہولی لینڈ فاؤنڈیشن مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کے دوران فون ریکارڈنگز، اندرونی دستاویزات، تنظیمی خاکے اور اجلاسوں کی تفصیلات سمیت بڑی مقدار میں شواہد سامنے آئے تھے، جن کے بارے میں استغاثہ کا مؤقف تھا کہ وہ امریکا میں سرگرم ایک وسیع تنظیمی نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق استغاثہ کی جانب سے جن اداروں کا ذکر کیا گیا تھا ان میں اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا(ISNA)، نارتھ امریکن اسلامک ٹرسٹ(NAIT)اور کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز(CAIR)شامل تھے۔
سینیٹر کروز نے مزید کہا کہ7اکتوبر کے بعد امریکی جامعات میں دیکھے جانے والے احتجاجی مظاہرے اچانک یا خودبخود وجود میں نہیں آئے بلکہ ان کے بقول یہ ایک ایسے منظم نیٹ ورک کا نتیجہ تھے جو کئی دہائیوں سے امریکا کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سماعت میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی عدم شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان کے بقول بعض حلقے اس مسئلے پر بحث سے گریز کر رہے ہیں۔
ٹیڈ کروز نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ وہ امریکی عوام سے یہ عہد کرتے ہیں کہ امریکا میں دہشت گردی کی مالی معاونت یا حمایت کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا، خواہ وہ ٹیکس استثنیٰ، خیراتی اداروں کی رجسٹریشن یا شہری حقوق کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں کی آڑ میں ہی کیوں نہ ہوں۔

