روس کی جانب سے یوکرین کی بندرگاہوں اور تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافے کے باعث بحیرہ اسود کی ناکہ بندی ایک بار پھر مؤثر ہو گئی ہے، جس سے یوکرین کی زرعی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں جبکہ عالمی غذائی رسد اور خوراک کی قیمتوں کے بارے میں بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اوڈیسا کے اطراف میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد متعدد شپنگ کمپنیوں نے جہازوں کی آمد معطل کر دی ہے، جس کے نتیجے میں موسم گرما کی فصلوں کی کٹائی کے اہم دور میں تقریباً دو ہفتوں سے بڑی بندرگاہوں پر کوئی نیا تجارتی جہاز نہیں پہنچا۔
یوکرین کے نائب وزیر زراعت تاراس ویسوٹسکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ اسود میں بحری آمدورفت جلد بحال نہ ہوئی تو3کروڑ ٹن سے زائد اناج اور تیل دار اجناس عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ سکیں گی۔
یوکرینی حکام کے مطابق جولائی کے دوران روس نے تجارتی جہازوں اور بندرگاہی تنصیبات پر درجنوں حملے کیے۔ ایک حملے میں اوڈیسا کے قریب مکئی لے جانے والے ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس میں10افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر غیر ملکی شہری تھے۔
دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف وہ جہاز اور بندرگاہی ڈھانچے ہیں جو یوکرین کی فوجی کارروائیوں سے منسلک ہیں۔ ماسکو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مائیکولائیو، اوڈیسا اور چورنومورسک کے قریب متعدد جہازوں اور بندرگاہی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
بحری نقل و حمل میں تعطل کے باعث یوکرین میں زرعی اجناس کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ نائب وزیر زراعت کے مطابق زرعی شعبے کو رواں سال1.5سے3ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یوکرین نے ریلوے، سڑک اور دریائے ڈینیوب کے ذریعے برآمدات بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ متبادل راستے بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کی مکمل صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتے۔ مزید برآں، دریائے ڈینیوب میں پانی کی کم سطح نے بھی نقل و حمل کو محدود کر دیا ہے۔
یوکرین دنیا کے بڑے گندم، مکئی اور سورج مکھی کے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ اسود کی ناکہ بندی طویل عرصے تک برقرار رہی تو افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے کم آمدنی والے ممالک میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

